امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے غزہ سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے اور انہیں اردن اور مصر جیسے پڑوسی ممالک میں منتقل کرنے کی ایک حالیہ تجویز نے سیاسی تجزیہ کاروں اور مشرق وسطیٰ کے رہنمائوں میں ممکنہ نسلی تطہیر کے حوالے سے بڑے پیمانے پر خدشات کو جنم دیا ہے۔ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کےایک سینئر فیلو میرٹےمبروک کے مطابق، ٹرمپ کے رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے ارادوں میں “انتہائی سنجیدہ” ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے صدر عام طور پربادشاہوں اور صدور سے دوستانہ بات چیت نہیں کرتےلیکن ٹرمپ کی طرف سے اردن کے شاہ عبداللہ کو ایک علیحدہ کال بھی کی گئی، جسے ایک واضح مطالبہ کہا جارہا ہے اور اس مطالبے سے علاقائی رہنمائوں پر اہم دباؤ ڈالنے کےلیے واشنگٹن کے ارادوں کا اشارہ ملتا ہے۔انہوں نے اردن اور مصر کو درپیش مشکل انتخاب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے تعلقات میں ایک ,خاص طور پر نازک اور حساس وقت” پر ہوئی ہے۔
ٹرمپ کی اس تجویز نے ایک بار پھر غزہ کے لیے اسرائیل کے دیرینہ منصوبوں کی طرف توجہ مبذول کرادی ہے،خاص طور پرجبکہ انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی رہنمافلسطینیوں کی نسلی صفائی اور غیرقانونی بستیوں کی تعمیر کی کھلے عام وکالت کر رہے ہیں ۔ جیسا کہ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرخزانہ Bezalel Smotrich نے غزہ کے لیے ٹرمپ کے وژن کے مطابق ایک منصوبہ تیار کرنے کے لیے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ تعاون کی بات کی ہے۔ مبروک کا اس تناظر میں یہ کہنا ہےکہ فلسطینیوں کی نقل مکانی کا خیال کوئی نیاتصورہرگز نہیں ہےبلکہ یہ منصوبہ توکئی دہائیوں سے زیربحث ہے۔ اس منصوبے کے پس پردہ فلسطینیوں سے چھٹکاراحاصل کرنا،اور پھر اس کے بعدگریٹر اسرائیل کی جانب قدم بڑھاناہے۔ انتہائی دائیں بازو کا حتمی مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو غزہ سے نکال باہر کیا جائے، انہیں پڑوسی ملک مصر میں دھکیل دیا جائے یا اگر مصر انکار کر دے تو صحرائے نیگیو یا مقبوضہ مغربی کنارے کی جانب منتقل کر دیا جائے اورجہاں تک اسرائیلی انتہائی دائیں بازو کا تعلق ہے، وہ اب دعویٰ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ان کا مغربی کنارے پر ‘بائبلیکل حق ہے۔الاباما یونیورسٹی میں مڈل ایسٹرن اسٹڈیز کے پروفیسر ولید ہزبون نے مشورہ دیا کہ ٹرمپ کے خیال کو سودے بازی کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے، حالانکہ اس کے وسیع تر اثرات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ یہ خیال کہ یہ اقدام ‘عارضی یا ‘طویل مدتی ہو سکتا ہےبہت پریشان کن ہے۔ ماہرین نے اردن اور مصر کو درپیش اہم اقتصادی دبائو کی نشاندہی بھی کی ہے، یہ دونوں ممالک امریکی امداد اور دیگرامداد پر انحصار کرتے ہیں اورچونکہ دونوں ممالک اقتصادی اور فوجی امداد اور اپنی سلامتی کے لیےامریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں لہذا یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ ان پر کس حد تک دبائو بڑھائیں گے۔ اگرچہ دباؤ بہت زیادہ ہونے کا امکان ہے، لیکن یہ ملک سے دوسرے ملک میں مختلف ہوگا۔ اردن شدید دبائو میں ہے کیونکہ اردن کو امریکہ سے بہت زیادہ امداد ملتی ہے، اور اردن کے پاس پناہ گزین ہیں، اور یہ رقم اکثر مہاجرین کی امداد کے لئے دی جاتی ہے۔ یہ تقریباً 3.1بلین ڈالر کی غیر ملکی فوجی فنانسنگ ہے۔۔ جو ایک طرح کا کوپن ہے جو امریکی ساختہ اسلحے پر خرچ کیا جا سکتا ہے، اس لیے یہ رقم سیدھی واپس امریکہ میں جاتی ہے۔
ٹرمپ کی یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصر اور اسرائیل کو فوجی امداد کے علاوہ تقریباً تمام غیر ملکی امداد منجمد کر دی گئی ہے۔ مصر پر دباؤ بہت زیادہ ہے کیونکہ ملک کی معاشی صورتحال انتہائی نازک حالت میں ہے، امریکہ فائدہ اٹھانے کے کے لئے محصولات اور پابندیاں لگا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں نے ٹرمپ کی تجویز کے آگے بڑھنے کی صورت میں خطے میں سیاسی عدم استحکام کے امکانات پر بھی خطرے کا اظہار کیا ہے۔ حزبن نے خبردار کیا کہ اردن اور مصر دونوں کے پاس امریکی حمایت پر انحصار کرنے کے باعث امریکہ کے خلاف مزاحمت کرنے میں فائدہ بہت کم ہے۔ مصر اوراردن کے پاس ٹرمپ کو دینے کے لیے اور کچھ نہیں ہے اور نہ ہی زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے، سوائے اس سیاسی عدم استحکام کےخوف کے۔ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات کہ نقل مکانی کی کسی بھی کال کو سختی سے مستردکیا گیا ہے، حزبن نے نشاندہی کی کہ اس صورت حال سے دیگر علاقائی طاقتوں بالخصوص سعودی عرب کے بھی متاثر ہونے کا امکان بہرحال موجود ہے۔تجزیہ کار نے کہا کہ یہ سعودی عرب اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے نزدیک قابل برداشت ہے یا نہیں یہ سعودی عرب کو دیکھنا ہو گا۔ ٹرمپ کی تجویز خلیج اور دیگر عرب ریاستوں پر غزہ اور مغربی کنارے کے لیے امریکی اسرائیل کے منصوبوں کی حمایت میں دباؤ ڈالنے کی بالواسطہ کوشش ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کے اس منصوبے کو نسلی تطہیر کی ایک شکل کے طور پردیکھاجاسکتا ہے، جس میں 1948 کے نقبہ سے کچھ مماثلتیں ہیں، جب صہیونی دہشت گرد گروہوں نے لاکھوں فلسطینیوں کو بےدخل کر دیا تھااور پھر 500 سے زائد فلسطینی قصبوں اور دیہاتوں کو نقشےسے مٹا دیا تھا۔ مبروک نے اس طرح کے اقدام کے سنگین نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرمپ کی تجویز پر عمل درآمد ہو جاتا ہے تو اس صورت میں تمام پناہ گزینوں کے اپنے گھروں کو لوٹنے کے حق کے باوجود بےگھر ہونے والے کسی بھی فلسطینی کو غزہ واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس میں شک وشبے کی کوئی گنجائش نہیں کہ گھرچھوڑنے والے کسی بھی فلسطینی کو کبھی واپس نہیں آنےدیا جائے گا۔یہ طویل مدتی یا قلیل مدتی والی بات نہیں ہے،فلسطینیوں کو اپنے گھروں سےباہر دھکیل دئیےجانے کی بات ہے… ان کا وہی حشر ہوگا جس طرح ان فلسطینیوں کو 1947، 1948، اور 1956 اور پھر 1967 میں اپنے وطن سے دھکیل دیا گیا تھا۔حزبون(تجزیہ کار) نے بھی اسی طرح کے خدشےکی نشاندہی کی ہےکہ اردن اور مصر بنیادی طور پر داخلی سیاسی اور سلامتی کےحوالے سے بڑی تعداد میں بے گھر فلسطینیوں کو قبول کرنے کا امکان نہیں رکھتے۔ دونوں ممالک اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ایسے کسی اقدام میں ملوث نہ ہوں جسے نسلی صفائی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
(رابعہ علی۔ مڈل ایسٹ مانیٹر)