(گزشتہ سے پیوستہ)
مصنفہ کی اپنے استاد اے حمید سے عقیدت و احترام کمال حد کو پہنچا ہوا ہے جن کا انہوں نے کتاب میں جابجا ذکر کیا ہے۔ اے حمید (مرحوم) موسیقی کا ایک درخشندہ ستارہ تھے جن کی ترتیب دی ہوئی خوبصورت اور لافانی دھنیں آنے والے زمانوں تک شائقین موسیقی کے کانوں میں رس گھولتی رہیں گی۔ اے حمید ایک کامیاب کمپوزر تھے بلکہ خود بھی بہت اچھا گاتے تھے۔ موصوف پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کی میوزک اکیڈمی سے بھی وابستہ رہے۔ اس دوران بہت سے نوجوان طلبا و طالبات نے ان سے موسیقی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی جن میں مغربی ممالک اور جاپان کی طالبات بھی شامل تھیں۔
جاپانی لڑکیوں کے بارے میں ایک جگہ لکھا ہے کہ جاپانی حکومت کی طرف سے ان طالبات کو اکٹھا رہنے کی اجازت نہیں تھی تاکہ وہ آپس میں جاپانی زبان میں بات نہ کر سکیں اور وہاں رہ کر اردو زبان کو دیکھیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تین چار ماہ بعد یہ جاپانی لڑکیاں اردو میں روانی کے ساتھ بات کرنے کے قابل ہو گئیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسیقی کے دلدادہ حلقوں میں مصنفہ بصیرت رئیس ’’دیدی‘‘ کے نام سے مشہور تھیں۔ مصنفہ دیدی نے کتاب کے صفحہ نمبر 56 اور 57 پر ایک متاثر کن واقعہ لکھا ہے کہ، ’’ایک صبح اور وہ بھی عید الاضحی کی صبح تقریبا ًآٹھ بجے کا وقت تھا۔ میں عید کی چھوٹی موٹی تیاریوں میں مصروف تھی کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ میں نے اٹھایا تو شمسی صاحب کی بیٹی تزئین کا فون تھا۔ ایک دھماکہ خیز خبر سنائی کہ ابو کا انتقال ہو گیا ہے۔ میں جنازہ اٹھنے کے وقت وہاں پہنچ گئی۔ ان کی وفات کیسے ہوئی؟ معلوم ہوا کہ وہ اپنے عزیزوں کے گھر میں شادی کے سلسلہ میں منعقدہ محفل موسیقی میں نغمہ سرا تھے کہ گاتے گاتے خاموش ہو گئے۔ وہ بکھرے ہوئے سروں کے بیچ خود ہی بجاتے ہوئے ہارمونیم کے اوپر جھکے اور سربسجود ہو کر ہماری موسیقی کی ثقافت کے میدان میں شہادت پا گئے۔
اس کتاب میں مصنفہ کے استاد جان محمد کا ذکر بھی بڑی عقیدت اور عزت و احترام سے کیا گیا ہے جبکہ کیرن نامی ایک جرمن خاتون کا قصہ بھی مزکور ہے جنہوں نے اسلام آباد میوزک سوسائٹی قائم کی جو کہ ایک پرائیویٹ کلب نما سوسائٹی تھی اور جو’’ٹمز‘‘ (TIMS) کے نام سے بھی جانی جاتی تھی۔ اس کتاب میں جدید موسیقی مثلا ’’کوک سٹوڈیو‘‘ وغیرہ کے مقابلے میں “کلاسیکی موسیقی” کی وکالت کی گئی ہے جس کے بارے میں مصنفہ ایک جگہ لکھتی ہیں کہ کوک سٹوڈیو نے کلاسیکی موسیقی کو برباد کر دیا ہے۔ لوگ کتنے فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے کوک سٹوڈیو کا انٹرویو پاس کر لیا ہے۔ مغربی تہذیب کے پھیلاو سے فائدے بھی بہت ہوئے لیکن ہماری اقدار اور ثقافتی ورثہ کو اتنا ہی نقصان بھی پہنچا۔ صدیوں کے پرانے فن کو جسے بزرگوں نے سینہ در سینہ چلایا اسے برباد کر دیا گیا۔
مصنفہ اسلام آباد میں قائم کلاسیکل میوزک ہیریٹیج ٹرسٹ (CMHT) سے بھی منسلک رہیں، اپنی دھنوں پر مبنی کیسٹس اور سی ڈیز بھی ریکارڈ کروائیں مگر وہ ساری کی ساری اپنے چاہنے والوں میں مفت تقسیم کیں جیسا کہ یہ کتاب بھی ابوظہبی کے کتاب میلہ میں ’’اردو بکس ورلڈ‘‘کے جناح پویلئین پر مصنفہ کی بیٹی ھنیہ صاحبہ نے مجھے تحفتاً دی، جو کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر عزت مآب جناب فیصل نیاز ترمذی صاحب کی شریک حیات ہیں۔
زیر نظر کتاب کا مطالعہ کر کے معلوم ہوا کہ انسان کے جو خواب پورے نہیں ہوتے وہ مرتے نہیں بلکہ وہ احساس بن کر اس وقت تک زندہ رہتے ہیں جب تک وہ کسی دوسری شکل میں پورے نہ ہو جائیں۔ ہماری حقیقی زندگی کا آدھے سے زیادہ حصہ ان ادھورے خوابوں کے گرد گھومتا ہے جو پورے نہ ہو کر ہماری روح کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ کتاب مصنفہ کے اسی خواب کی تصویر کشی کرتی ہے جو مرتی ہوئی کلاسیکی کو زندہ رکھنے کے لیئے لکھی گئی ہے۔ گویا یہ کتاب ’’مرحومہ کلاسیکی موسیقی‘‘ کا نوحہ ہے جس کے آخری صفحہ کے یہ چند اشعار تصدیق کے لیئے کافی ہیں، چونکہ یہ اشعار اور کتاب کا مجموعی تاثر شکایت و گزارش کے حامل ہیں، تو لگتا یہی ہے کہ یہ کتاب مصنفہ کی آنے والی اگلی کتاب کا پیش لفظ ہے:
’’یہ کیسے نغمے ہیں چھوتے ہیں دلوں کو، لب پہ آ نہیں سکتے،یہ کیسے تار ہیں بجتے ہیں، شرف سماعت پا نہیں سکتے۔ڈوب رہی ہیں راگوں کی نبضیں، رک رہی ہے تالوں کی دھڑکن،چارہ گرو کچھ تو کرو، کیا ڈوبتی کشتی کو بچا نہیں سکتے؟‘‘
اس کتاب کا اختمام بھی ایک حسرت و یاس لیئے ہوئے ہے۔ مصنفہ لکھتی ہیں کہ اس نقصان کا ازالہ کیسے اور کس طرح ہو سکتا ہے؟ بگاڑ کہاں سے شروع ہوا؟ یہ سب سوچ کر دکھ ہوتا ہے جو باتیں یا وجوہات میری سمجھ میں آئی ہیں میں بیان کر چکی ہوں۔ اب میرے پاس زیادہ وقت نہیں یہ کتاب ہی نہیں میری حیات بھی اختتام کے قریب ہے۔ میں کچھ سنوار نہ سکی۔ بس ایک سمت متعین کی ہے۔ اللہ پاک نبی ﷺ کے صدقے مصنفہ کو صحت و تندرستی والی لمبی عمر عطا فرمائے اور ہم تشنگان علم و فیض پر ان کا سایہ تادیر قائم رہے۔