Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

صلح یاصلہ؟

(گوشتہ سے پیوستہ)
2017-2019ء کی سعودی ضدِ کرپشن مہم میں تقریباً 381 افراد گرفتار ہوئے اور حکومت نے 100ارب سے 400 ارب ڈالرز کےاثاثے ضبط کیے ۔ معمول کے زیرِِ جرم گرفتاریاں تو سنائی دیتی رہتی ہیں، مگر تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ محمدبن سلمان نے یہ مہم اپنے اقتدار کو کنٹرول کرنے، منافقانہ شاہی دھڑوں کو الگ کرنے اور اثاثے اکٹھے کرنے کےلئےاستعمال کی اس میں کشنر کے ذریعے پہنچنے والی چونکا دینے والی معلومات نےکلیدی کردار ادا کیا۔ گویا اقتدار کے سودے میں رعونتِ شیطانی کے پیچھے جیرالڈ کشنز کا یہودی دماغ کارفرما تھا۔
کشنر کے دورِصدارت کےبعد،سعودیہ کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے ان کی نجی انویسٹمنٹ فرم ’’ایفنٹی پارٹنرز‘‘ میں دو ارب ڈالرز سرمایہ کاری کی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کےماہرین نے اس معاہدے کو ’’تمام پہلوؤں میں غیراطمینان بخش‘‘قرار دیا مگر ولی عہد نے اپنی بادشاہی اتھارٹی استعمال کر کے سرے محل کی اس ادائیگی کو منظور کرلیا ۔ گویا سرمایہ کاری کی یہ خوفناک واقعہ دوستی سے معاہدے تک کی صورتِ حال ایک سفارتی سودے کا عکاس ہےجو سلطانِ سعودی اور امریکی توجہ دلانے والوں کے مابین انجام پاتا ہے۔ جب امریکی کانگرس نے تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے سوال اٹھایاکہ کیا کشنر نے غیر رجسٹرڈ فارن ایجنٹ کے طور پرسعودی مفادات پیش کیے؟تو کشنر نےتمام الزامات کو بے بنیاد قرار دےدیا اورکہا کہ میں نے ہرقانون اوراخلاقیات کی پیروی کی ہے۔ یہ دفاع کم از کم سفارتی پیچیدگیوں کے فریبوں سے ضرور پردہ اٹھاتا ہے؛ مگر ان شبہات کی گونج اب بھی باقی ہے۔
یہ سب سلسلہ محض دوستی کا ثمر نہیں، بلکہ ایک شہنشاہانہ منصوبہ ہے جہاں سعودی ولی عہد نےاپنےعہد کی مضبوطی کے لئےقدم بڑھایا، اور کشنر نے اسے عالمی سطح پر فروغ دینے اور مالیاتی حمایت حاصل کرنے میں مدد دی۔یہ نہ صرف سعودیہ میں طاقت کے توازن کو قائم کرتا ہے، بلکہ خطے میں سیاسی و فوجی معاہدات اور امن معاہدوں کے منظرنامے کو بھی تبدیل کرتا ہے ۔ اس سے سعودی شاہی اقتدار یا جغرافیائی توازن کا بھی پتہ چلتا ہے۔
ٹرمپ کے داماد،جیرڈ کشنر، نے تہہ خانےمیں خفیہ چینلزکےذریعے اسرائیل اور خلیجی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے جلد ہی اسرائیل کو تسلیم کرلیا ۔کشنز نے خود تسلیم کیا کہ سعودی عرب کی شمولیت سے ابھرتے ہوئے دس دیگر ممالک، جن میں پاکستان و انڈونیشیا شامل تھے، کا سفر شروع ہوگا ۔ ٹرمپ کے داماد جیرڈکشنر نے پاکستان کو ’’نارملائزیشن امکان‘‘کے ماحول میں نامزد کیا، جسے دفاعی وزیر خواجہ آصف نے تسلیم کیا ۔ اگرچہ پاکستان نے فی الحال اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، مگر بالآخر اس میدانی کھیل میں دباؤ کے باعث ’’رائے کی سیاست‘‘ملک کے سفارتی افق پر نمودار ہو سکتی ہے۔کشنر نے مدت قبل ایک روایتی فورم میں واضح کیا کہ سعودی عرب اور پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سمت بڑھ رہے ہیں ۔ یہ بیان پاکستانی عوام کے لئے ایک شدید جذباتی جھٹکا ہے، جس میں داخلی انتشار کی خبریں چھپی ہوئی ہیں۔حال ہی میں جیرالڈ کشنر کا ایک بین الاقوامی فورم پر یہ بیان نہ صرف سیاسی طور پر حساس ہے بلکہ پاکستان کے داخلی ماحول میں ایک تہلکہ خیز ہیجان کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیان محض ایک سفارتی تجزیہ تھا یا ایک چالاک انداز میں داخلی انتشار کو بھڑکانے کی کوشش؟
اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان بھی اسرائیل کو تسلیم کرے گا؟ وطنِ عزیز، جسے نظریہ اسلام کی بنیاد پر دنیا کے نقشے پر جگہ ملی، اس کے لئے اسرائیل کو تسلیم کرنا صرف ایک خارجی پالیسی کا سوال نہیں، بلکہ قومی خودی، عوامی حساسیت، اور دینی بنیادوں پر کھڑا ایک نظریاتی بحران ہے۔ تاحال ریاستِ پاکستان نے باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، لیکن بین الاقوامی دباؤ میں یہ سوال اب ایک ’’ممکنہ حقیقت‘‘کے طور پر زیرِ بحث ہے۔ اگر پاکستان اسرائیل کوتسلیم کرتا ہے،تو عوام میں شدیداحتجاج اورایک ملکی بحران جنم لے سکتاہے ۔ کیاکشنرنے جان بوجھ کر پاکستان کونام دے کر داخلی عدم استحکام کابیج نہیں بویا؟یہ تشویش کشیدگی کے بے شمارمسائل کوجنم دے سکتی ہے۔
پاکستانی عوام کےدل میں فلسطین کےلئےایک جذباتی وابستگی ہمیشہ سے رہی ہے۔اسرائیل کوتسلیم کرناعوامی جذبات کی شدیدتوہین تصورکی جائے گی، اورممکن ہے کہ اس کے خلاف ملک گیرمظاہرے، سول نافرمانی اورسیاسی بحران کاطوفان امڈآئے۔ کیاکشنرنے پاکستان کانام لیکردانستہ طورپرداخلی خلفشارکی چنگاری سلگائی ہے؟
پاکستان واحداسلامی ایٹمی طاقت ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نےاپنےٹی وی پروگرامزمیں پاکستان کوایران کےبعدایک بڑا خطرہ قراردیا۔نیتن یاہوکاپاکستان کی ایٹمی دسترس کو ’’غیر مستحکم‘‘قراردینابےشک ایک جنگی اشارہ ہے۔ اسرائیلی قیادت بارہااس کابرملااظہارکرچکی ہےکہ ایک’’دوسراایران‘‘قابلِ قبول نہیں۔نیتن یاہونے ٹی وی پرپاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بھی ممکنہ خطرہ قرار دیا۔ یہ بیان اس بات کاغمازہے کہ خطے میں طاقت کاتوازن اسرائیل کو گوارانہیں،اوروہ ہراس طاقت کوختم کرنا چاہتا ہے جواس کی بالادستی کوچیلنج کرے ۔ یہی وجہ ہےکہ یہودوہنود کاحالیہ اتحادمل کرپاکستان کی ایٹمی قوت کونشانہ بنانے کی کھلی دھمکیاں دیتارہتاہے۔
ہمارےجدیددورکے مصائب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران، اسرائیل نےبھارت کونہ صرف جدیدڈرونز (ہاروپ) فراہم کئےبلکہ ان کے ساتھ اپنے آپریٹرزبھی بھیجے۔ پاکستانی افواج کی جوابی کارروائی میں انیس اسرائیلی اہلکارمارے گئے،جن کے تابوت رات کی تاریکی میں تل ابیب منتقل کیےگئے۔اس واقعے کے فوری بعد پاکستان نے اسرائیل کوبطورممکنہ ہدف لینےکاجونہی عندیہ دیا،جس پر امریکی سفارتی محاذحرکت میں آیااورٹرمپ کوخود سیزفائرکرواناپڑا۔انڈین وزیرخارجہ نےبعدازاں تسلیم کیاکہ اگریہ سیزفائرنہ ہوتا،توبھارت تباہ کن انجام سے دوچارہوتا۔
انڈین فوج کےڈپٹی چیف نےبھی اس جنگ میں پاکستانی افواج کی عسکری برتری کو تسلیم کیاہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکااوراسرائیل اس شکست کابدلہ لینے کے لئے بھارت کو دوبارہ اکساسکتے ہیں؟ اگر ایساہوا تومقصدصرف پاکستان کی عسکری طاقت کونیست ونابود کرنا نہیں ہوگا،بلکہ اس کی ایٹمی صلاحیت کوختم کرنااصل ہدف ہوگااوراس کے پسِ منظرمیں ایک عالمی صف بندی ہوگی جس میں ابراہیمی معاہدہ کی روح پوری طرح جھلکےگی کہ جواسرائیل کوتحفظ دے،وہی معاہدہ’’امن‘‘ کہلاتا ہے اورجواس کی بالادستی کوچیلنج کرے،وہ دہشت گرد کہلاتا ہے۔اس لئے وہ جوابرہیمی معاہدے کوامن کی ضمانت سمجھنےکی خوش گمانی میں مبتلاہیں،وہ ایک لمحہ اس شیطانی مثلث کے بھیانک کردار کو اپنے ذہن میں تازہ رکھیں۔
جونہی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی توشیطانی مثلث کےبڑے کردارنے شدیدتمسخرسے اپنی لاتعلقی کااظہارکیالیکن پاکستانی جواب پرفوری طورپر سیزفائرکی بھاگ دوڑشروع ہو گئی ۔یہودوہنود تو پہلے اس پسپائی کوماننے پرتیارنہ تھے لیکن حقیقت کب مستوررہتی ہے اورسناٹے میں لپٹی صدائیں ایک خاموش اعتراف کی شکل میں سامنے آگئیں ۔
تاریخ کے اوراق کبھی کبھی ایسے دھبےاپنے دامن پرسجالیتے ہیں جومحض داغ نہیں بلکہ عہدکی علامت بن جاتےہیں۔کچھ زخم بولتےنہیں،مگران کی خامشی صدابن جاتی ہے۔ جنوبی ایشیاء کاخطہ،جسےبرصغیرکی تہذیب وتمدن کی نگری کہاجاتاہے،آج بھی سیاسی طوفانوں اورعسکری سرگوشیوں کی زدمیں ہے۔حالیہ انٹرویوز،بیانات اورعسکری پریزنٹیشنزنےجو عقدہ کھولا ہے، وہ محض الفاظ کاکھیل نہیں بلکہ ایک قوم کے ذہنی اوراخلاقی بحران کاپردہ چاک ہوگیا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں