موسیقی کی طرح مزاح بھی روح کی غذا ہے جو آپ کو غم دنیا سے اسی طرح آزاد کرتا ہے جس طرح موت بخوشی زندگی کو جسمانی بوجھ سے آزاد کرتی ہے۔
زندگی صرف گوشت پوست کے جسم میں حرکت و سکون یا رعنائیوں کے جیتے جاگتے رنگ بھرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ حسن و کیف سے بھرپور سرگرمیوں کو ہمیشہ جاری رکھنے کا عمل ہے۔ ہر انسان کا فلسفہ حیات مختلف اور متنوع ہو سکتا ہے مگر سچ یہ ہے کہ انسان انتقال کرتا ہے مرتا نہیں ہے کہ جیسے ہم پیدا ہونے پر روتے ہیں اور ہمارے اردگرد سب خوشیاں مناتے ہیں اسی طرح جب ہم انتقال کر کے کسی نئی دنیا میں داخل ہوتے ہیں وہاں ہماری روح کا استقبال کرنے کیلئے اگلی دنیا کی روحیں اور انسان خوشیاں مناتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں مشکلات اور تلخیاں اتنی زیادہ ہیں کہ تاریخ میں مشتاق احمد یوسفی صاحب جیسے انسان پیدا نہ ہوں تو ہم جیسے غم زدہ لوگ زندگی سے بوریت ہی سے مر جائیں۔ یہاں ہم مشتاق احمد یوسفی کے چند شگفتہ اقوال دہراتے ہیں، جہاں وہ یوں سخن سرا ہیں: پڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرا فرق نہیں، سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے۔ پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں۔دشمنوں کے حسب عداوت تین درجے ہیں یعنی دشمن، جانی دشمن اور رشتے دار۔ مسلمان کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کر کے کھا نہ سکیں۔ آدمی ایک بار پروفیسر ہو جائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے، خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کر لیتے ہیں مگر عورتیں اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
مشتاق احمد یوسفی یہاں بڑے پتے کی بات کہہ رہے کہ مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔ لفظوں کی جنگ میں فتح کسی بھی فریق کی ہو، شہید ہمیشہ سچائی ہوتی ہے۔
جو ملک جتنا غربت زدہ ہو گا، اتنا ہی آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہو گا۔ امریکہ کی ترقی کا سبب یہی ہے کہ اس کا کوئی ماضی نہیں۔ محبت اندھی ہوتی ہے، چنانچہ عورت کے لئے خوبصورت ہونا ضروری نہیں، بس مرد کا نابینا ہونا کافی ہوتا ہے۔ فقیر کے لئے آنکھیں نہ ہونا بڑی نعمت ہے۔ گالی، گنتی، سرگوشی اور لطیفہ اپنی مادری زبان ہی میں مزہ دیتا ہے۔ ہارا ہوا مرغا کھانے سے آدمی اتنا بودا ہو جاتا ہے کہ حکومت کی ہر بات درست لگنے لگتی ہے۔ مرض کا نام معلوم ہو جائے تو تکلیف تو دور نہیں ہوتی، الجھن دور ہو جاتی ہے۔ جس دن بچے کی جیب سے فضول چیزوں کی بجائے پیسے برآمد ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اب اسے بے فکری کی نیند کبھی نہیں نصیب ہو گی۔ آسمان کی چیل، چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے، ننگا کر کے چھوڑتے ہیں۔ بدصورت انگریز عورت نایاب ہے، بڑی مشکل سے نظر آتی ہے، یعنی ہزار میں ایک، پاکستانی اور ہندوستانی اسی سے شادی کرتا ہے۔
یوسفی صاحب کہتے ہیں کہ، فرضی بیماریوں کے لئے یونانی دوائیں بھی تیر بہدف ہوتی ہیں۔ قبر کھودنے والا ہر میت پر آنسو بہانے بیٹھ جائے تو روتے روتے اندھا ہو جائے۔ خون، مشک، عشق اور ناجائز دولت کی طرح عمر بھی چھپائے نہیں چھپتی۔تماشے میں جان تماشائی کی تالی سے پڑتی ہے، مداری کی ڈگڈگی سے نہیں۔ لذیذ غذا سے مرض کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ اور طاقت پیدا ہوتی ہے۔
نام میں کیا رکھا ہے؟ دوست کو کسی بھی نام سے پکاریں، گلوں ہی کی خوشبو آئے گی۔ جس بات کو کہنے والے اور سننے والے دونوں ہی جھوٹ سمجھیں اس کا گناہ نہیں ہوتا۔ یورپین فرنیچر صرف بیٹھنے کے لئے ہوتا ہے جبکہ ہم کسی ایسی چیز پر بیٹھتے ہی نہیں جس پر لیٹا نہ جا سکے۔ مطلق العنانیت کی جڑیں دراصل مطلق الانانیت سے پیوست ہوتی ہیں۔”دراصل مزاح ایسا فن ہے جس میں چیزوں کو ٹیڑھے اور انوکھے زاویئے سے یوں پیش کیا جاتا ہے کہ انہیں مسخ کر کے بھی بیان کیا جائے تو وہ ذہن میں لطافت پیدا کرتی ہیں۔ جب ایک فنکار اس اصول کو اپناتا ہے تو تحریر طنز و مزاح کا پیرایہ اختیار کر لیتی ہے۔ تحریر میں یہ اسلوب گہرے عرفان ذات اور سماجی شعور سے پیدا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے یوسفی صاحب معاشرتی پہلوں پر ایسی خوبصورت باتیں بیان کرتے رہے کہ جس سے نہ صرف طنز مزح پیدا ہوا بلکہ اس سے خوبصورت چیزیں بھی سیکھنے کو ملیں۔اردو ادب میں عموما طنز اور مزاح کو ہم معنوں میں لیا جاتا ہے اور انہیں ایک ساتھ استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ طنز اور مزاح میں فرق ہے، اور دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں، لیکن اس کے باوجود اکثر ایک طنز سے مراد طعنہ، ٹھٹھہ، تمسخر یا رمز کے ساتھ بات کرنا ہے، جب کہ مزاح سے خوش طبعی، مذاق یا ظرافت مراد لیا جاتا ہے۔ یوسفی صاحب کا یہ کمال رہا کہ انہوں نے طنز بھی کیا تو مزاح کے انداز میں شگفتہ مزاجی کے ساتھ کیا۔