Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

روح، نفس اور اختیار انسان کا باطنی سفر اور آزمائش

انسان، اللہ کی ایک مقدس اور سربستہ حقیقت ہے مٹی سے بنایا گیا، مگر الٰہی نور سے منور، خواہشات کا حامل، مگر اپنے رب کے قرب کا متلاشی۔ قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے:اور ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی۔(سورہ الحجر 15:29) بے شک نفس تو برائی کا حکم دیتا ہے۔(سورہ یوسف 12:53) یہ دو طاقتیں روح اور نفس انسان کے اندر ایک معرکہ برپا کرتی ہیں، نور اور تاریکی کی کشمکش۔اسی جدوجہد میں انسان کی عزت، آزادی انتخاب اور اشرف المخلوقات ہونے کا راز چھپا ہوا ہے۔روح کیا ہے؟ ایک الٰہی، نورانی رازروح، اللہ کے امر سے ہے، جیسا کہ قرآن اعلان کرتا ہے کہہ دو، روح میرے رب کے امر سے ہے اور تمہیں علم میں بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔(سورہ الاسراء 17:85)
امام غزالیؒ فرماتے ہیں،روح ایک الٰہی نور ہے، جسم میں چراغ کی مانند۔ جب دل پاک ہو جاتا ہے تو اس میں سچائی کا نور ظاہر ہوتا ہے۔روح، انسان کو پاکیزگی، سچ، محبت اور قربِ الہی کی طرف بلاتی ہے۔ یہ وہ مقدس طاقت ہے جو انسان کو محبوب بناتی ہے۔نفس کیا ہے؟ خواہشات کا میدانِ آزمائش نفس، زمین سے جڑا ہوا ہے، خواہشات سے بھرا ہوا، اور روحانی آزمائش کی جگہ ہے۔قرآن نفس کی تین بڑی اقسام بیان کرتا ہے۔
نفسِ امارہ (برائی پر اکسانے والا)بے شک نفس تو برائی کا حکم دیتا ہے(سورہ یوسف 12:53)
نفسِ لوامہ،اپنے آپ کو ملامت کرنے والا،اور میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی(سورہ القیامہ 75:2)
نفسِ مطمئنہ (اللہ سے راضی اور مطمئن) اے مطمئن نفس!اپنے رب کی طرف لوٹ جا، اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔(سورہ الفجر 89:27-28)
نفسِ مطمئنہ اللہ کی یاد میں قلبی سکون نفس کا اعلیٰ ترین درجہ ہے، نفسِ مطمئنہ جو اللہ کی محبت اور رضا میں سکون پا چکا ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس منزل تک پہنچنے کا راستہ کھلا رکھا ہے:بے شک اللہ کے ذکر میں دلوں کو سکون حاصل ہوتا ہے۔(سورہ الرعد 13:28) ذکر صرف زبان کی حرکت نہیں، بلکہ دل کی حاضری، روح کی بیداری، اور اندرونی سکوت و اطمینان ہے۔تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔(سورہ البقرہ 2:152) یہ ذکر ہی وہ پل ہے جو دل کو نورِ الٰہی تک پہنچاتا ہے، جو بندے اور رب کے درمیان محبت کا راز بن جاتا ہے۔کیا انسان آزاد ہے؟ ایک مقدس اور محدود آزادی قرآن کریم انسان کے اختیار اور اللہ کی قدرت دونوں کو بیان کرتا ہے اور اللہ نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا۔ (سورہ الصافات 37:96) تو جو چاہے ایمان لائے، اور جو چاہے کفر کرے۔(سورہ الکہف 18:29) انسان کا ارادہ نہ مکمل آزاد ہے، نہ مکمل مجبور بلکہ محدود، مقصد کے تابع، اور آزمائش کے دائرے میں۔یہی توازن انسان کی شرافت اور آزمائش کا جوہر ہے۔ انسان اشرف المخلوقات کیوں ہے؟کیونکہ اللہ تعالی نے اسے عطا کیا۔
عقل اختیار وحی(ہدایت) نہ فرشتوں کی طرح جو بغیر خواہش کے مطیع ہیں،نہ جانوروں کی طرح جو بغیر عقل کے صرف خواہش پر چلتے ہیں۔اسی لئے فرمایا،بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔(سورہ الحزاب 33:72) یہ امانت ہے شعور، ذمہ داری، اور اخلاقی فیصلے کی طاقت۔
اکابرین کے اقوال، امام غزالی:نفس ایک درندہ ہے، اور روح ایک بادشاہ۔ اگر درندہ حاوی ہو جائے تو سلطنت برباد، اگر روح حاکم ہو تو سلطنت پرامن۔
ابن عربی،روح، اسمائے الٰہی کا آئینہ ہے، اور نفس مخلوقی جہان کا سایہ۔ جب دل پاک ہوتا ہے، تو نورِ الٰہی ظاہر ہوتا ہے۔
مولانا رومیؒ،نفس ایک زنجیر ہے جو روح کے پرندے کو قید رکھتی ہے۔ محبت وہ کنجی ہے جو اس پنجرے کو کھولتی ہے۔انسان کی جدوجہد دو کھنچائو کے درمیان ہر لمحے، انسان کے اندر دو طاقتیں کام کر رہی ہوتی ہیں۔ روح، جو بلندی، عبادت اور نور کی طرف بلاتی ہے، نفس، جو غفلت، لذت، اور دنیا کی طرف کھینچتا ہے کامیاب وہی ہے جو،اپنے نفس کے خلاف جدوجہد کرے، روح کو محبت اور ذکر سے بیدار کرے، قربِ الٰہی کو اپنا آخری ہدف بنائے اختتامی دعا،اے اللہ! ہماری روحوں کو پاک فرما، ہمارے دلوں کو مطمئن بنا، ہمارے چہروں کو اپنی طرف پھیر دے، ہمارے اعمال کو اپنے لیے خالص فرما، اور ہمیں اپنے نور اور محبت سے بھر دے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یہ بھی پڑھیں