(گزشتہ سے پیوستہ)
شام اور یمن میں جاری لڑائی کا سلسلہ اب رک گیا ہے۔ شام ایک مرتبہ پھر اقوام عالم میں اپناکھویاہوا مقام حاصل کرنے کے لئے اپنی تگ ودو میں مصروف ہے۔ یمن میں بھی جنگ کا سلسلہ تھم گیا ہے لیکن ابھی تک گروہوں کی تفریق باقی ہے۔ان دونوں ممالک کے حالات کی بہتری کے لئےعرب ممالک کو اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنا ہوگا۔ یورپ سے اسلحے کی کھیپیں اس خطےمیں بھیجی جارہی ہیں۔ بلقان کاخطہ اس حوالے سےنمایاں ہے۔ اگر شام اور یمن سمیت میں خطے کو حقیقی معنوں میں پرامن بنانا ہے تو لازم ہے کہ سعودی عرب، کویت اوردیگر متمول اور با اثر ممالک اپنا کردار ادا کریں۔ جب تک ان دونوں ممالک میں لڑائی ختم نہیں ہوگی تب تک نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں بھی کمی واقع نہیں ہوگی۔ نائن الیون کے بعد جارج بش جونیئر نے انتہائی ناانصافی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان اور عراق کو نشانہ بنایا اور دونوں ممالک کو تباہی سے دوچار کردیا۔ تب سے اب تک دونوں ممالک میں دہشت گردی کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔
افغانستان پہلے ہی تباہ حال تھا۔ نائن الیون کے بعد اس کی تباہی کا دائرہ پھیل گیا۔ دوسری طرف عراق مجموعی طور پر پرسکون ملک تھا مگر جارج بش جونیئر نے یورپ کے ساتھ مل کراس ملک کی اینٹ سےاینٹ بجادی۔ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ہنستا کھیلتا ملک کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا۔ عراق کی تباہی سے لیبیا کی تباہی کی راہ بھی ہموار ہوئی اور یوں مشرق وسطی میں عدم استحکام کا دائرہ پھیل گیا۔ ساتھ ہی ساتھ شمالی افریقا میں بھی خرابیوں کا آغاز ہوا۔
افریقا میں پسماندگی اورخرابی بہت زیادہ ہے۔ یورپ چونکہ جڑا ہوا خطہ ہے اس لیے آنے والے برسوں میں نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس وقت افریقاکی آبادی ایک ارب بیس کروڑ ہے۔ 2050ء تک افریقا کی آبادی ڈھائی ارب تک پہنچے گی۔ اگر پسماندگی دور نہ کی گئی اور معیشتوں کو مستحکم کرنےپرتوجہ نہ دی گئی توافریقا سے یورپ کی طرف نقل مکانی کاسلسلہ جاری رہےگااوریوں انسانی المیےجنم لیتےرہیں گے۔ ایک بڑامسئلہ یہ بھی ہےکہ یورپ میں شرح پیدائش گھٹتی جارہی ہے۔ بیشتر یورپی اقوام کو گھٹتی ہوئی آبادی کے مسئلےکاسامناہے۔ شمالی افریقا سےآنےوالوں کوروکنےکےلئےیورپ کوزیادہ سےزیادہ طاقت استعمال کرناہوگی۔ یہ سب کچھ ایساآسان نہیں جیساسوچااورکہاجارہا ہے۔ یورپ کو سب سے پہلےتو افریقاکےقدرتی وسائل کی بندربانٹ روکناہوگی۔ اس وقت یورپ کے بہت سے ادارے افریقی قدرتی وسائل کو آنکھ بند کرکےبٹور رہےہیں۔ اس کے نتیجے میں افریقا کےلوگوں میں یہ احساس جنم لےرہاہےکہ جنہوں نےہمارا براحال کیاہےانہی کی طرف نقل مکانی کی جانی چاہیے۔ یورپ کوافریقامیں زیادہ سےزیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیےاوردوسری طرف یورپی منڈیاں افریقی مال کےلئےکھولنی چاہئیں تاکہ افریقی معیشتیں خاطرخواہ حد تک پنپ سکیں۔ جب افریقا میں معیشتیں مضبوط ہوں گی اور لوگوں کو بہتر زندگی بسر کرنے کے مواقع ملیں گے تو وہ کہیں بھی جانے سے گریزکریں گے۔ ساتھ ہی ساتھ یورپ کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مشرق وسطی اور شمالی افریقا میں جنگ سے تباہ حال ممالک میں اسلحے کی فراہمی جاری نہ رہے۔ بالخصوص یمن میں متحارب دھڑوں کو اسلحے کی فراہمی روکنا ہوگی۔ افریقا سے ہر سال لاکھوں افراد موسم کی تبدیلی کے باعث بھی یورپ کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں۔ ان سے نمٹنے کے لئے ارب یورو مختص کئے گئے ہیں۔ یہ فنڈ قانونی طریقے تلاش کرنے پر خرچ کئےجانے چاہئیں۔ معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کی ضرورت ہے اور یہ کہ معاملہ کرائسز مینجمنٹ سے ایک قدم آگے بڑھ کر کرائسز پریوینشن کا ہے۔ افریقا سے آنے والوں کو روکنے کی ایک اچھی صورت یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ وہ یورپ کی طرف نہ آئیں۔ یعنی انہیں ان کے گھر میں بہترین امکانات سے ہمکنار کیا جائے۔
ایک بڑااور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یورپ کے مقابلے میں مشرق وسطیٰ اور افریقا کو انتہائی پسماندہ اور وحشی معاشرے کے طور پر پیش کیاجاتا ہے۔ یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ اگر کوئی خطہ پیچھے رہ گیا ہے تو اسے پسماندگی کا طعنہ دینے کے بجائے اس کی مدد کی جانی چاہیے۔ انہیں وحشی اور جاہل قرار دینے سے معاملات صرف بگڑیں گے۔ اس حوالے سے سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ باصلاحیت خطوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جانی چاہیے تاکہ وہ بھی عالمی سطح پر ترقی کے عمل کا حصہ بن سکیں اور اس دنیا کو زیادہ سے زیادہ قابلِ سکونت بنانےمیں اپناکردار اداکرسکیں۔ یورپ کو الگ تھلگ رکھنے کی پالیسی ترک کی جانی چاہیے۔ یورپ نے فقید المثال ترقی کی ہے تو بہت کچھ بھلا بھی دیا گیا ہے۔ یہ تاثر دیا جارہا ہے جیسے یورپ ہزاروں سال سے ایسا ہی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ اور افریقا کے متعدد ممالک بھی علم و فن میں آگے رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ یورپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا اور مشرق وسطیٰ علم و فن کے حوالے سے منور تھا۔ اس حقیقت کو کسی بھی حال میں نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ پانچ سو سال پہلے یورپ بھی جہل کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ یورپ کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ انہیں یہ سوچتے رہنے سے گریز کرنا ہوگا کہ وہ بہت برتر ہیں اور باقی سب کمتر اور جاہل ہیں۔ کمزور خطوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے وقت انہیں یاد رہنا چاہیےکہ وہ خود بھی کسی زمانے میں ایسے ہی تھے اور یہ کہ اس زمانے کو گزرے ہوئے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا۔