Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

اسلام اور عورتوں کے حقوق

(گزشتہ سے پیوستہ)
لیکن اب اس کے برعکس مغرب کے آج کے معاشرہ کو دیکھا جائے تو عورت کی مظلومیت اور بے بسی کی تصویر وہاں بھی لائق دید نہیں ہے۔ مغرب نے عورت کے فطری فرائض میں مرد کو شریک کیے بغیر مرد کی ذمہ داریوں میں عورت کو حصہ دار بنا دیا ہے اور ذمہ داریوں کو حقوق کا نام دے کر اس ’’عقل کی پوری‘‘ کو خوش کر دیا ہے کہ وہ مرد کے ساتھ زندگی کی دوڑ میں برابر کی شریک ہے۔ اس طرح بچوں کو جنم دینے اور ان کی پرورش کرنے کی بلاشرکت غیر ذمہ داری کے ساتھ ساتھ وہ انہیں کما کر کھلانے کی ذمہ داری میں بھی شریک ہو گئی ہے۔ مغرب نے زیادہ سے زیادہ تیر مارا تو یہ کہ عورت کو دفاتر اور فیکٹریوں میں ملازمت کا حق دے کر اس کے بچوں کو پرورش کا متبادل کر دیا۔
اب بچوں کو سکول اور نرسری میں سنبھالا جاتا ہے اور ان کی ماں انہیں ان اداروں کے سپرد کر کے خود دفتر یا فیکٹری میں ملازمت کرنے چلی جاتی ہے، لیکن بچوں کی پرورش کے ان اداروں میں بھی تو ان بچوں کی پرورش عورتیں ہی کرتی ہیں اور ان کی دیکھ بھال عورتوں کے سپرد ہی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ یہ کام فطری طور پر عورت کا ہے اور وہی اس کام کو صحیح طور پر سرانجام دے سکتی ہے۔
چنانچہ آپ کو مغرب میں یہ منظر بھی دکھائی دے سکتا ہے کہ ایک عورت کسی اور کے بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال میں مصروف ہے، جبکہ اس کے بچے اسی دیکھ بھال اور پرورش کے لیے کسی اور عورت کے سپرد ہیں اور اس ستم ظریفی کو ’’عورت کے حقوق‘‘ کا نام دے دیا گیا ہے۔ یہ فطرت کے قانون سے انحراف کا منطقی نتیجہ ہے جو مغرب بھگت رہا ہے کہ مرد اور عورت میں مساوات بھی عملاً قائم نہیں ہو سکی اور فطری تقسیم کار سے انحراف کے باعث فیملی سسٹم بھی افراتفری کا شکار ہو گیا ہے۔اس لیے آج کی دنیا میں جائز یا ناجائز طور پر یا بالادست قوت کے طور پر مغرب کا یہ حق تو کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اس کا اخلاقی طور پر استحقاق رکھنے یا نہ رکھنے کی بحث سے قطع نظر اس حوالہ سے دنیا کی نگرانی کرے کہ مختلف انسانی طبقات بالخصوص عورتوں کے حقوق کو کہاں کہاں تلف کیا جا رہا ہے اور وہ اقوام و ممالک کو توجہ بھی دلائے، لیکن اس کے لیے مغرب کی ثقافت اور معاشرت کو معیار قرار دینے کی بات قطعی طور پر ناقابل قبول ہے اور خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہم مغرب سے یہ بات دو ٹوک انداز میں کہہ دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کا دنیا کی دوسری اقوام بالخصوص اسلامی ممالک و اقوام کو عورتوں کے حقوق کے حوالہ سے مغربی فلسفہ و ثقافت کی پیروی اور انسانی حقوق کے اقوام متحدہ کے چارٹر کی پیروی کے لیے کہنا اور اس سلسلہ میں ان پر دباؤ ڈالنا قطعی غلط ہے۔
اس لیے کہ مغرب کے فلسفہ و ثقافت کی بنیاد مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی پر ہے، جبکہ مسلمان اس بات کے لیے قطعی طور پر تیار نہیں ہیں۔اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر دوسری جنگ عظیم کی فاتح قوموں کا خود ساختہ ہے جو یکطرفہ ہے اور اس میں تیسری دنیا اور مسلمان اقوام کی آزادانہ رائے شامل نہیں ہے۔ اس لیے اسے موجودہ حالات میں کلی طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی حقوق اور آزادیوں کے مغربی تصور نے مغرب کے خاندانی نظام کو بکھیر کر رکھ دیا ہے جس کا اعتراف خود مغربی دانش ور بھی کر رہے ہیں۔ ان کھلے نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ فلسفہ و ثقافت اپنانے کا دوسرے ممالک و اقوام کو دعوت دینا مغرب کے لیے اخلاقی طور پر بھی روا نہیں ہے۔ اس فلسفہ و ثقافت کے لیے دوسرے ممالک و اقوام پر دباؤ ڈالنا ان کے مذہبی اور ثقافتی معاملات میں مداخلت ہے، جس کے ناجائز ہونے سے خود مغرب کو بھی اتفاق ہے۔ہم پاکستان میں عورتوں کے حقوق اور مفادات کے لیے آواز اٹھانے کی حمایت کرتے ہیں، اس کی خاطر جدوجہد کو ملی فرائض میں شمار کرتے ہیں اور ایسی ہر آواز اور جدوجہد کا ساتھ دینا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، لیکن اس سے کہیں زیادہ اس بات کی وضاحت کو ضروری تصور کرتے ہیں کہ ہمارے نزدیک عام انسانی حقوق یا عورتوں کے حقوق کے حوالہ سے مغربی فلسفہ و ثقافت قطعی طور پر معیاری نہیں ہے۔ ہم صرف اور صرف قرآن کریم، اسوہ نبویؐ اور خلافت راشدہ کو اس سلسلہ میں حتمی اور واحد معیار قرار دیتے ہیں اور وہی انسانی معاشرہ میں امن و سکون اور انصاف کے لیے صحیح معیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں