Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

امریکی آئین، مذہب اور مسلمان

امریکاکے تیسرے صدراوراعلانِ آزادی کے خالق تھامس جیفرسن کے پاس نہ صرف یہ کہ قرآن کانسخہ تھابلکہ انہوں نے اسلام کوامریکی معاشرے کی تصویرکے ایک ممکنہ رنگ کے طور پردیکھااور مسلمانوں کے حقوق کاتحفظ یقینی بنانے کی کوشش بھی کی۔تھامس جیفرسن نے مسلمانوں کونئی ابھرتی ہوئی امریکی ریاست کے ممکنہ شہریوں کے روپ میں دیکھا۔ امریکا کا اعلانِ آزادی تحریرکرنے سے گیارہ سال قبل انہوں نے قرآن کانسخہ خریداتھا۔تھامس جیفرسن کاقرآن کاوہ نسخہ آج بھی کانگریس کی لائبریری میں محفوظ ہے اورامریکیوں کے اجداد اوراسلام کے تعلقات کی علامت ہے۔ امریکی راست گودانشوروں کے لئے یہ تعلقات آج بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
تھامس جیفرسن کے پاس قرآن کے نسخے کا ہونا اس بات کاثبوت ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات میں دلچسپی لیتے تھے مگراس امر کی وضاحت نہیں ہوتی کہ وہ مسلمانوں کے مسائل کاحل بھی چاہتے تھے۔ تھامس جیفرسن نے بنیادی حقوق پراسلامی تصور سے پہلی شناسائی سترہویں صدی کے انگریزفلسفی جان لاک کی تحریروں سے حاصل کی۔جان لاک نے یورپی معاشروں پر زوردیاتھاکہ وہ مسلمانوں اور یہودیوں کواپنے اندرسمونے کی کوشش کریں۔ جان لاک نے ان کے نقشِ قدم پرچلنے کی کوشش کی تھی جنہوں نے یہ نکتہ ایک صدی قبل سمجھ لیاتھا ۔ مسلمانوں کے حقوق سے متعلق تھامس جیفرسن کا تصوربحیرہ اوقیانوس کے آرپارسولہویں سے انیسویں صدی عیسوی تک کے فکری ارتقاکی روشنی میں زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتاہے۔
جب یورپ میں عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تب بہت سے عیسائیوں نے مسلمانوں کواس امرکی نشانی کے طورپرآزمایاکہ نظریاتی معاملات میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کے حوالے سے تحمل اوررواداری کی حدکیاہو سکتی ہے۔یورپ میں قائم ہونے والی نظیروں کی بنیاد پرامریکامیں بھی مسلمان،شہریت کی حدوداورروادار یکے حوالے سے بحث کاموضوع بن گئے۔نئی حکومت کی تیاریوں کے دوران جب امریکاکے بانیان نے(جوتمام کے تمام پروٹسٹنٹ تھے) مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کودی جانے والی مذہبی آزادی کے بارے میں غورکیاتواس حوالے سے اسلامی دنیامیں پائی جانے والی نظیروں کے حوالے دئیے۔امریکاکی بانی نسل نے اس نکتے پرخصوصی بحث کی کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کو مذہبی اعتبارسے پروٹسٹنٹ ہوناچاہیے یاتمام مذاہب کے پیروکاروں کوکھلے دل سے قبول کرنا چاہیے۔اس نکتے پربھی پورے اہتمام سے بحث کی گئی کہ اگر تمام مذاہب کے پیروکاروں کوقبول ہی کرناہے توکیاکسی بھی غیرپروٹسٹنٹ کوصدرکے منصب تک پہنچنے کی اجازت دی جانی چاہیے؟اس سے انہیں مذہبی آزادی سے متعلق امورپرغورکرنے کی تحریک ملی۔انہوں نے کئی باتیں سوچیں۔مثلاًیہ کہ کیاامریکامیں کوئی ایسی اسٹیبلشمنٹ قائم ہونی چاہیے،جوپروٹسٹنٹ فرقے کوتحفظ فراہم کرتی ہو۔ اس کابنیادی مقصدمذہب کوریاست سے الگ رکھنے کا انتظام یقینی بناناتھا۔ساتھ ہی ساتھ آئین میں مذہب سے متعلق ٹیسٹ کا معاملہ بھی شامل کیاجانا تھا،جیساکہ انیسویں صدی تک ریاستوں میں رہا۔
مسلمانوں کی شہریت کے خلاف مزاحمت کا تصور اٹھارہویں صدی تک حیرت انگیز نہ تھا۔ امریکیوں کو یورپ سے مذہب کے پیشوایانہ اور سیاسی کردار پر کم و بیش ایک ہزار سال کے منفی خیالات ترکے میں ملے تھے۔ مسلمانوں کے حوالے سے پائے جانے والے منفی تاثر کے باوجود یہ بات حیرت انگیز ہے کہ امریکا کے ابتدائی دور کی چند اہم ترین شخصیات نے اس تصور کو مسترد کردیا کہ مسلمانوںکو امریکا کے متوقع شہریوں کی حیثیت سے سوچا ہی نہ جائے۔ بانیانِ امریکا نے مسلمانوں کا ایسے شہریوں کے روپ میں تصور کیا جنہیں تمام حقوق میسر ہوں۔ مسلمانوں کے حقوق کے دفاع سے متعلق بانیانِ امریکا کا یہ حیرت انگیز موقف دراصل یورپ میں سیاسی فکر کے ہزار سالہ ارتقا کا منطقی نتیجہ اور اس کی توسیع کے مترادف تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شدید مخالفت کی فضا میں بھی مسلمانوں کو تمام حقوق کے ساتھ شہری بنانے کا تصور امریکا میں کیوں کر محفوظ رہا؟
اوراس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اس تصور کا اکیسویں صدی میں مستقبل کیاہے؟یہ کتاب ہمیں امریکاکے قیام کے ابتدائی دورمیں چند نمایاں شخصیات کے ان تصورات سے آگاہ کرتی ہے ، جووہ اسلام کے بارے میں رکھتے تھے۔ انہوں نے اسلام کے بارے میں پائی جانے والی منفی آراکوجوں کاتوں قبول کرنے سے انکارکردیاتھا۔ یورپ نے انہیں اسلام اورمسلمانوں کے بارے میں برداشت کارویہ نہ اپنانے کی غیرمحسوس تعلیم دی تھی،مگرانہوں نے اس تعلیم کوقبول نہ کیا۔
امریکاکے بیشترپروٹسٹنٹ باشندے یہ تصور رکھتے تھے کہ مسلمانوں کے خیالات کوقبول نہیں کیا جا سکتا۔اس سے ایک طرف توپروٹسٹنٹس میں ’’اسٹیٹس کو‘‘کی راہ ہموارہوئی اور دوسری طرف امریکاکے دیگر باشندے یہ سوچنے پرمائل ہوئے کہ دوسروں کی بات سننے میں کوئی ہرج نہیں۔ایک طرف اگرمسلمانوں کوقبول نہ کرنے کی سوچ پروان چڑھی تو دوسری طرف امریکیوں کی اکثریت نے یہ سوچناشروع کیاکہ دیگرمذاہب کے لوگوں کوبھی قبول کرناچاہیے تاکہ معاشرے میں امتیازی رویہ نہ پایا جائے۔اس صورت میں مسلمانوں کوبھی اپنانے کاشعورپیداہوا۔
یہ سب کچھ اس وقت سوچاجارہاتھاجب مسلمان ابھی امریکامیں آئے نہ تھے۔ان کے آنے سے پہلے ہی انہیں قبول کرنے کی سوچ پروان چڑھائی جارہی تھی۔تھامس جیفرسن اوران کے قریبی رفقابخوبی جانتے اورسمجھتے تھے کہ مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں سوچنے اور بحث کرنے سے امریکامیں حقوق کے حوالے سے آفاقیت کی راہ ہموارہوگی۔اورپھریہ ہوا کہ امریکا میں اقلیتوں (کیتھولک عیسائی اوریہودی)کو قبول کرنے اورمعاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے فکر آگے بڑھی۔ مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے بحث نے امریکامیں یہ تصورپیداکیا کہ سب کوکھلے دل سے قبول کیاجائے۔
امریکاکوبرطانیہ سے حقیقی آزادی1783ء میں ملی۔اس سال جارج واشنگٹن نے نیویارک میں سکونت پذیرآئرش کیتھولک عیسائیوں کوخط لکھا۔تب تک امریکامیں صرف25ہزار کیتھولک عیسائی تھے،جن کے حقوق خاصے محدود تھے۔ انہیں نیویارک میں کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔جارج واشنگٹن نے اس نکتے پر زوردیاکہ امریکاکو ہرمذہب اورفرقے سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کوقبول کرناچاہیے جن پرمظالم ڈھائے گئے ہوں اور جنہیں مستقل دباومیں رکھاگیاہو۔ انہوں نے یہودیوں کوبھی خط لکھا۔تب تک امریکا میں صرف دوہزاریہودی تھے۔جارج واشنگٹن چاہتے تھے کہ امریکی سرزمین پردنیابھرکے کچلے ہوئے لوگوں،بالخصوص مذہب کے نام پر نشانہ بنائے جانے والوں کوپناہ ملے۔
1784ء میں جارج واشنگٹن نے مائونٹ ورنن کے مقام پراپنے گھرپرمسلمانوں کے حوالے سے اپنے خیالات کوپوری طرح کھول کررکھ دیا۔ ورجینیاسے کسی دوست نے جارج واشنگٹن کولکھاکہ اسے اپنا گھر بنانے کے لئے ایک بڑھئی اورایک مستری(معمار)کی ضرورت ہے۔جارج واشنگٹن نے اسے لکھاکہ کسی بھی مکان کی تعمیریافرنیچرکی تیاری میں اس امر کی کوئی اہمیت نہیں کہ کاریگرکس مذہب،فرقے،رنگ یانسل سے تعلق رکھتا ہے۔ اچھا کا ریگر ایشیاء ،افریقایایورپ کا ہو سکتا ہے۔ ہوسکتاہے کہ وہ مسلمان، عیسائی یایہودی ہو۔ یا پھر یہ کہ وہ کسی مذہب پریقین ہی نہ رکھتاہو۔اس خط سے اندازہ ہوتاہے کہ جارج واشنگٹن کے فکری دھاروں میں مسلمان بھی بہتے تھے۔انہوں نے امریکاسب کے لئے کے تصورمیں مسلمانوں کونظراندازنہیں کیاتھا۔ ہوسکتاہے جارج واشنگٹن کواندازہ ہوکہ کسی بھی شعبے میں کوئی کردار ادا کرنے کے لئے ابھی بہت دنوں تک مسلمان نمودار نہیں ہوں گے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں