Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

امریکی آئین، مذہب اور مسلمان

(گزشتہ سے پیوستہ)
ہمیں مختلف ذرائع سے معلوم ہوچکاہے کہ اٹھارہویں صدی عیسوی میں بھی امریکامیں مسلمان سکونت پذیرتھے مگرتھامس جیفرسن اوران کے ساتھیوں کوبہرحال ان کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکاتھا۔ تھامس جیفرسن اوران کے ساتھیوں نے مسلمانوں کومستقبل کے امریکی شہری تصورکرتے ہوئے ان کاذکر کیا تھا۔جارج واشنگٹن اور تھامس جیفرسن کی تحریروں اورتقاریرمیں مسلمانوں کاذکر بلاسبب ہرگزنہیں ہوسکتا۔ یہ دونوں عظیم شخصیات مسلمانوں کے حوالے سے پائے جانے والے دومتضاد یورپی رویوں اورتصورات کی وارث تھیں۔
ایک تصوریہ تھاکہ اسلام کی تعلیمات پروٹسٹنٹ عیسائیت کی تعلیمات کے یکسرمنافی بلکہ اس سے متصادم ہیں اوریہ کہ جابرانہ حکومتوں کے قیام میں بھی اسلامی نظریات نے مرکزی کرداراداکیاتھا۔ مسلمانوں کو امریکا کے پروٹسٹنٹ معاشرے میں قبول کرنے کامطلب ایک ایسی برادری کوقبول کرنا تھاجس کے مذہب اوراس سے متعلق تصورات کویورپ نے غلط،اجنبی اور خطرناک قرار دیا تھا۔ معاملہ مسلمانوں تک محدودنہ تھا۔ امریکی پروٹسٹنٹ توکیتھولک عیسائیوں کے نظریات کوبھی اِسی طرح اجنبی اورخطرناک قراردیتے تھے۔ کیتھولزم کوبھی آزادی کے امریکی تصورات اوروسیع النظری کامخالف سمجھاجاتاتھا۔
جیفرسن اورنان پروٹسٹنٹ شہریت کی حامی دیگرشخصیات نے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ ایک اورفکری دھارے کوپروان چڑھانے میں معاونت کی،جس کے ذریعے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ کیتھولک عیسائیوں اور یہودیوں کوقبول کرنے کی راہ بھی ہموارہوتی تھی۔ سولہویں صدی کے جن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے اپنے اپنے نظریات کی تبلیغ کی تھی، انہوں نے ان کے لئے جان بھی دی تھی۔
سترہویں صدی عیسوی میں یورپ کے جن لوگوں نے تمام مذاہب کوقبول کرنے اورتمام ثقافتوں اورنسلوں کے لوگوں کواپنے ہاں قابل قبول قراردینے کی بات کی تھی انہیں سزائے موت یاپھرقیدِبامشقت کاسامناکرناپڑا۔بہتوں کوان نظریات کی بنیادپرملک سے نکال دیاگیا۔اس معاملے میں امیروغریب اوربے کس وطاقتورکی کوئی تخصیص نہ تھی۔اشرافیہ میں سے بھی جن لوگوں نے تمام مذاہب کے لوگوں کواپنانے کی بات کی، انہیں شدیدمخالفت اورایذاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ یورپ میں رومن کیتھولک چرچ سے متصادم نظریات رکھنے والے کیتھولک اورپروٹسٹنٹ کسان تھے، سیاسیات سمیت مختلف علوم کے ماہرین تھے یاپھر اول اول انگریز بیپٹسٹ۔ان میں کوئی بھی سیاسی قوت رکھنے والایااعلی معاشرتی حیثیت کاحامل شخص نہ تھا۔مذہب کے لگے بندھے نظریات سے ہم آہنگی نہ رکھنے والے اگرچہ منظم نہ تھے مگراس کے باوجودانہوں نے منظم فکررکھنے والے مسلمانوں کوعیسائی ریاستوں میں ایذاوں سے بچانے کے لئے خاصی وقیع جدوجہدکی۔
اٹھارہویں صدی کی اینگلیکن اسٹیبلشمنٹ کے رکن اورورجینیاکے ایک اعلیٰ سیاستدان کی حیثیت سے تھامس جیفرسن نے وہ تصورات پیش کیے،جواس سے قبل یورپ میں اپنے پیش کرنے والوں پرشدیدلعن طعن کاسبب بنے تھے اوربہتوں کوتوسزائے موت کابھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ تھامس جیفرسن چونکہ خوداسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھتے تھے،اس لیے مسلمانوں کے حقوق سے متعلق ان کاموقف ورجینیامیں پوری توجہ سے سناگیا۔ چندساتھیوں کے ساتھ مل کرتھامس جیفرسن نے نوزائیدہ ریاست ہائے متحدہ امریکامیں وہ تصورات پیش کیے، جواس سے قبل یورپ کے مرکزی دھارے سے بہت دورجوہڑکی شکل میں اپنی وقعت کھوبیٹھے تھے۔ایسانہیں ہے کہ تھامس جیفرسن نے تمام مذاہب کے لوگوں کوقبول کرنے اورہر مذہب کے پیروکاروں کے حقوق کوسرکاری مداخلت سے مبرارکھنے کاتصورپیش کیااوران پرمبارک بادکے ڈونگرے برسنے لگے۔مخالفین نے ہرقدم پران کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی مگریہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے حلقوں میں جیفرسن کوغیرمعمولی وقعت ملی۔ پریسبائٹیرینز اور بیپٹسٹس سمیت بہت سی ایسی برادریوں نے جیفرسن کی بات پرمسرت کا اظہار کیاجوپروٹسٹنٹس کی جانب سے جبرکاسامناکرتے رہے تھے۔ویسے توخیرامریکی معاشرے کاکوئی بھی طبقہ غیرپروٹسٹنٹس کوجامع امریکی شہریت دینے کے حق میں نہ تھامگر پھر بھی مسلمانوں کے لئے ان کے دلوں میں نرم گوشہ ضرورتھا۔
مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے بحث شروع کرنے والے جوکچھ کہہ رہے تھے،وہ اٹھارہویں صدی کے معاشرے میں محض فکری یانظری سطح پربھی خاصا اجنبی اورناقابل قبول تھا۔تب تک امریکی شہریت کاحقدار وہی سمجھاجاتا تھاجو پروٹسٹنٹ،سفیدفام اورمرد ہو۔ شہریت کے معاملے کومذہب سے الگ کرنالازم تھا۔ ورجینیامیں اس حوالے سے قانون سازی تو ایک بڑے سفرکی محض ابتداتھی۔تھامس جیفرسن ، جارج واشنگٹن اورجیمزمیڈیسن نے شہریت کے معاملے کومذہب سے الگ کرنے کاعمل شروع کیاتھا۔یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔انہوں نے اپنی سیاسی کیریئرکے دوران اس آدرش کے حصول کے لئے غیر معمولی محنت کی مگرمکمل کامیابی حاصل نہ کرسکے۔وہ اپناادھوراکام بعد میں آنے والوں کے لئے فریضے کے طورپرچھوڑ گئے۔یہ کتاب پہلی باراس امرپربحث کرتی ہے کہ کس طورجیفرسن اوران کے ساتھی،اسلام کے بارے میں اپنے نامکمل اور مبہم تصورات کے باوجود، مسلمانوں سمیت تمام نان پروٹسٹنٹ افرادکے شہری حقوق کے لئے متحرک رہے۔
جارج واشنگٹن نے جب1784ء میں مسلمانوں کومحنت کشوں کی حیثیت سے امریکاآنے کی اجازت دینے کی وکالت کی،اس سے ایک عشرہ قبل انہوں نے اپنی محصول پذیراملاک میں افریقی نسل کی دوعورتوں کاذکربھی کیاتھا،جوماں بیٹی تھیں۔ایک کانام فاطمہ اوردوسری کافاطمہ صغیرہ تھا۔جارج واشنگٹن نے مسلمانوں کوامریکی شہریت دینے کی وکالت کی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کوغلام کی حیثیت سے خریدکرانہوں نے خودہی ان کے بنیادی حقوق کی راہ مسدودکی تھی۔واضح رہے کہ تب تک غلام مسلمانوں کواپنے مذہب پرکاربند رہنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ہوسکتاہے کہ جیفرسن اورمیڈیسن کی جاگیروں اورزرعی اراضی پربھی یہی حقیقت پائی گئی ہومگرخیر،ان کے غلاموں کے مذہب کے بارے میں زیادہ کچھ معلوم نہ ہوسکا۔ اس میں کوئی شک نہیں مغربی افریقاسے محنت کشوں کے طورپرلائے گئے مسلم غلاموں کی تعدادلاکھوں میں تھی۔یہ تعداد امریکامیں آباد کیتھولک عیسائیوں اوریہودیوں سے کہیں زیادہ رہی ہوگی۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ بہت سے سابق مسلم غلاموں نے کانٹی نینٹل آرمی میں بھی خدمات انجام دی ہوں۔مگرخیر،اس امرکاکوئی ثبوت نہیں ملتا کہ وہ اپنے مذہب پرکاربندرہے ہوں اور یہ بھی ثابت نہیں کیاجاسکاہے کہ امریکاکے بانیوں کوان کی موجودگی کاعلم تھا۔یہ بات بھی قابل غورہے کہ مسلمانوں کے شہری یاشہریتی حقوق سے متعلق بحث پریہ سابق مسلم غلام اثرانداز نہیں ہوئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکامیں مسلمان (پروٹسٹنٹ عیسائیوں کی طرح)سترہویں صدی سے موجودتھے مگرنسل اور غلامی کے عوامل اس قدرمضبوط تھے کہ ان کے مذہب کامعاملہ سات پردوں میں لپٹارہا۔ امریکاکے بانیان نے جب مستقبل کے امریکی مسلمانوں کے حقوق کاسوچاتھا توان کے ذہن میں سفیدفام مسلم ہی رہے ہوں گے کیونکہ1790 ء کے عشرے تک کسی بھی نسل یامذہبی پس منظرکاحامل سفیدفام شخص امریکامیں شہریت کے لئے درخواست دے سکتاتھا۔جیفرسن نے صرف دو مسلمانوں سے ملاقات کی تھی اوروہ دونوں ترک نسل کے شمالی افریقی سفیرتھے۔جیفرسن نے ان کی رنگت کے بارے میں کچھ کہا،نہ لکھا۔دونوں بہت حدتک سفیدفام تھے۔ان دونوں میں رنگ یامذہب کے اعتبار سے جیفرسن کے لئے کوئی کشش نہ تھی۔ اس نے ان دونوں سے ملاقات کی اورانہیں اہمیت دی تواس کاسبب صرف یہ تھاکہ وہ سیاسی وسفارتی اعتبارسے بہت مضبوط تھے۔اس سے قبل تھامس جیفرسن نے سفیر،وزیرخارجہ اورنائب صدرکی حیثیت سے شمالی افریقاکی ریاستوں سے امریکاکے تنازع کومذہب کے نقطہ نظرسے کبھی نہیں دیکھا۔ بحیرہ روم اورمشرقی بحرِاوقیانوس امریکی جہازرانی کو قزاقوں سے ہروقت خطرہ رہتاتھا۔جیفرسن نے ٹریپولی اورتیونس کے حکمرانوں پرواضح کیاکہ ان کاملک اسلام مخالف جذبات یاتعصب نہیں رکھتا اورایک مرحلے پرتو وہ یہاں تک گئے کہ انہوں نے دونوں حکمرانوں سے کہاکہ ہم بھی اسی خداکی عبادت کرتے ہیں،جس کے عبادت گزارآپ ہیں!
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں