جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے۔ پہلگام حملہ ایک جھوٹا ڈرامہ تھا۔ مودی سرکار کا جھوٹ بے نقاب ہوتا جا رہا ہے۔ اپنے شہریوں کے خون سے ہولی کھیل کر سیاست چمکانے کی روش اب بی جے پی کے گلے پڑ چکی ہے۔ اپریل کے آخری ہفتے میں پاکستان پر الزام لگانے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ آج تک رکا نہیں۔ دنیا بھر میں مودی سرکار کی اس مکاری کی کوئی پذیرائی نہیں ہوئی۔ دنیا کا کوئی ملک پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات کا یقین کرنے کو تیار نہیں ۔دوست ممالک اور تزویراتی اتحادی بھی بھارت کے سفید جھوٹ کو جھٹلا چکے ہیں چند ممالک نے اصولی طور پر پہلگام حملے میں نہتے شہریوں کی ہلاکت پر اظہار افسوس کیا اور دہشت گردوں کی مذمت کر دی البتہ جو بات بھارت کہلوانا چاہ رہا تھا وہ دنیا کی کسی ملک نے نہیں کہا۔ مودی سرکار نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن کسی بھی ملک نے پاکستان کو دہشت گردی میں ملوث قرار نہیں دیا۔ ظاہر ہے بھارت کے پاس صرف الزامات ہیں ثبوت کوئی نہیں بنا ثبوت کے الزام صرف جھوٹ کا پلندہ بن کر رہ گئے ہیں۔ جس تیزی سے پہلگام حملے کی ایف آئی ار درج کی گئی وہ بھی بی جے پی کی مکاری کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ جائے وقوعہ سے مقامی تھانے کے درمیان سفر کے وقت کی گنجائش بھی نظر انداز کر کے عجلت میں جو ایف آئی آر درج کروائی گئی اس کی صداقت پر کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں ہے ۔یہ سوال اپنی جگہ موجود ہیں کہ آٹھ لاکھ سے زائد فوج اور نیم فوجی نفری کی موجودگی میں مبینہ دہشت گرد کس طرح مقبول سیاحتی مقام تک پہنچے؟ سیاحوں کو نشانہ بنانے میں کیسے کامیاب ہوئے؟ اور بعد میں نہایت کامیابی سے فرار کیسے ہو گئے؟ اس واردات کے بعد آج تک ان کا سراغ کیوں نہیں لگایا جا سکا ؟
بہر صورت پہلگام حملہ بھارت کے سیکورٹی اداروں کی بہت بڑی ناکامی بن کر ابھرا ہے ۔اسے فالس فلیگ یعنی جھوٹا ڈرامہ کہنے والے طبقات کے دلائل بہت مضبوط ہیں۔ بی جے پی سرکار ایسے ڈرامے رچانے میں خاص مہارت رکھتی ہے۔ پلوامہ کا جھوٹا ڈرامہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ۔چھ برس قبل مودی سرکار نے لگ بھگ 45جوانوں کی بلی دے کر پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کا بہانہ تراشا۔ بالاکوٹ سرجیکل سٹرائک کی مہم جوئی مودی سرکار کو بہت مہنگی پڑی۔ دو طیاروں کی تباہی اور ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری بھارت اور مودی سرکار کی عالمی سبکی کا باعث بن چکی ہے۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی میں مودی سرکار کا جنون تمام حدیں پار کر گیا۔ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل یا منجمد کر کے مودی سرکار نے پاکستان مخالف ذہنیت کا بہت بڑا ثبوت پیش کیا۔ آپریشن سندور کا اعلان کیا گیا۔ مودی سرکار کا یہ خبط پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن گیا۔ میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں ایٹمی جنگ کے آغاز کی داغ بیل ڈال دی تھی۔ دنیا بھر میں مودی سرکار کی اس غیر ذمہ دارانہ حرکت نے بھارت اور بی جے پی کی ساکھ اور شدت پسندانہ طرز فکر پرکئی طرح کےسوال اٹھادئیے۔ پاکستان کے تزویراتی تدبر نے ایٹمی جنگ کے امکانات کو ختم کیا۔
عسکری میدان میں بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر پاکستان نے نہ صرف یہ کہ خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں کر لیا بلکہ دنیا بھر میں تزویراتی تدبر کے باعث اپنی ساکھ کو بھی بہتر کیا۔ شرمناک عسکری شکست کے زخموں پررافیل طیاروں کی تباہی اور سفارتی ناکامی کے نمک نے مزید جلن پیدا کر دی ہے ۔سیاسی میدان میں فتح کا فائدہ اٹھانے کی بجائے شکست کی ذلت مودی سرکار کی تلملاہٹ میں اضافہ کر رہی ہے ۔کانگرس سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں نے مودی سرکار کا ناطقہ بند کر رکھا ہے بھارتی پارلیمان میں آپریشن سندور کی ناکامی پربحث شروع ہو چکی ہے۔ کانگرس کے رہنما اور بھارت کے سابق وزیرداخلہ پی چدم برم نے آپریشن سندور کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ چدم برم نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پہلگام حملے میں ملوث افراد پاکستانی نہیں تھے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ مودی سرکار بغیر ثبوت کے یہ باور کیوں کر رہی ہے کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے؟ جس دن کانگرس نے بی جے پی سرکار کا جھوٹ لوک سبھا میں فاش کیا اسی دن مقبوضہ کشمیر میں ایک اور فالس فلیگ آپریشن مہادیو کا ڈرامہ رجا دیا گیا ۔ حسب معمول ایک بار پھر تین کشمیریوں کو جعلی مقابلے میں شہید کر کے مودی سرکار انہیں پہلگام حملے میں ملوث دہشت گرد قرار دے رہی ہے۔ اس جھوٹ پر خود بھارت کی جنتا اور حزب اختلاف کی جماعتیں بھی یقین کرنے کو تیار نہیں۔
بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پھر یہ دھمکی دی ہے کہ آپریشن سندور ابھی جاری ہے اور اگر پاکستان نے دوبارہ کچھ کیاتو زیادہ سخت جواب دیں گے۔ اس گیدڑ بھبکی کے رد عمل میں راہول گاندھی نے راجناتھ سنگھ سے سوال کیا ہے کہ اگر آپریشن سندور کامیاب ہو رہا تھا تو پھر سیز فائر کیوں تسلیم کیا گیا ؟ سیز فائر کا تذکرہ اب مودی سرکار کی چڑ بن چکا ہے۔ لوک سبھا میں وزیرخارجہ جےشنکر سیز فائر سے صاف مکر گئے ہیں۔ آپریشن سندور سے شروع ہونے والا مودی سرکار کے جھوٹ کا گھن چکر اب آپریشن مہادیو تک آن پہنچا ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!