Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

امت مسلمہ ۔۔۔۔۔اتحادیاتباہی

(گزشتہ سے پیوستہ)
آج اگرالجزیرہ،ٹی آرٹی ورلڈ، ورپی ٹی ورلڈ جیسے ادارے عالمی بیانیہ میں ومؤثرکردارادانہیں کرپارہے،تواس کی وجہ وسائل کی قلت نہیں،حکمتِ عملی کی کمزوری ہے۔ہمیں صرف خبری ادارے نہیں،فکری محاذ درکار ہیں۔ایسامیڈیا جو فقط تصاویراورویڈیونہ دکھائے، بلکہ وہ بیانیہ تخلیق کرے جومظلوم کاوکیل اورظالم کاقاضی بنے۔
ذرانگاہِ بصیرت سے دیکھیے،رقبے میں چھوٹا سا اسرائیل،آبادی میں آپ کی مجموعی تعداد کا عشرِعشیر اورپھربھی بھی طاقت کا محور۔وجہ صرف ایک کہ ہمارے ہاں وحدتِ مقصد نفاق اوردشمنی میں کہیں گم ہوگیا ہے۔ خوداحتسابی کے لمحوں کوآوازدیں توجواب ملتاہے کہ ریاض اورتہران مسلکی کشمکش،انقرہ وقاہرہ کے بیچ قیادت کی کشمکش، اسلام آبادکوعالمی مالیاتی اداروں کادباؤ،یہ بکھراؤہی اسرائیل کی قوتِ ضارب بن چکاہے۔لیکن اگرآپ غورکریں کہ اللہ نے اس معجزاتی ریاست پاکستان سے کیاکام لیاہے۔
دورِحاضرکےبرق رفتارمعرکوں میں مئی 2025ء کی وہ چارخونیں راتیں بھلائے نہیں جا سکتیں جب جنوبی ایشیاء کے افق پرڈرونوں کی شاہراہیں روشن ہوئیں اور راجپوتانے سے لے کر پنجابِ پاکستان تک فضاؤں میں آتشیں بارودکی خونخواربوپھیل گئی۔بظاہریہ دو پڑوسی ایٹمی طاقتوں کا ٹکراؤ تھا،مگرپسِ پردہ اسرائیلی حربی سازوسامان،امریکی سفارتی انگلیاں اوریورپی حاشیہ برداری نےاس کشمکش کوایک ہمہ جہت اسکرپٹ کارنگ دے دیا تھا۔
بھارت نے آپریشن سندورمیں اسرائیلی ساختہ ہاروپ ڈرونوں کی یلغارکوپاکستان کے فضائی دفاع پرآزمائشِ آہن بناتے ہوئے یہ دعویٰ کیاکہ اس کے یہ کامی کازچارڈرون ہی پاکستان کے لئے کافی ہیں لیکن پاکستانی دفاع کی کاری ضرب نے صرف تین دنوں میں اس کے نہ صرف69کے قریب ڈرون مارگرائے اور 9کی تمام صلاحیتیں جام کرکے انہیں زمین پراتارلیااورگرے ہوئے ڈرونز کےبکھرے پڑے ملبے کراچی سے لے کر لاہوراورآزادکشمیرتک دنیابھرکے میڈیا کو دکھاکر اسرائیل کے اس تکبراورگھمنڈکوریزہ ریزہ کردیا الحمداللہ۔
اس کامیاب روک تھام نےنہ صرف بھارتی عسکری حکمتِ عملی کوجھنجھوڑابلکہ اسرائیلی عسکری انجینئروں کےلئےبھی لمحہ حیرت پیداکیا۔جب تل ابیب میں راتوں رات خاموش جنازے اٹھےاورکہرام مچ گیا،اسرائیل تک یہ اطلاع پہنچ گئی کہ انڈیا میں ہماری موجودگی کے بعدپاکستان جوابی طورپرتل ابیب اورحیفہ کارخ کرنے والا ہےاوراس کے ساتھ ہی جب فضائی جھڑپوں میں انڈیاکے پانچ لڑاکاطیارے بشمول’ ’رافیل‘‘ گرائے جانے کی خبروں کی تصدیق ہوگئی،ایک ہی لمحےمیں شائننگ انڈیاکے70 فیصدگرڈمنہ کےبل گرگئے اور انڈیا تاریکی میں ڈوب گیاتو وہی امریکاجس نےاس جنگ کی ابتدامیں بڑی لاپرواہی اور کھلنڈرا اندازاپنایا تھا،اسے سیز فائر یادآگیا۔
امریکی سفارتکاری نے فوری طورپراپنی آخری اننگزکاآغازکرتے ہوئے دونوں دارالحکومتوں پرتجارتی ومالی دبائو کے تازیانے برسائے اور10مئی کوجنگ بندی کاخاکہ تیارکرایا۔ امریکی صدر نے بڑےفخرسےاسےاپنی ’’ثالثی نجات‘‘کہا۔وہی متکبرمودی اوراس کامیڈیاجو آدھے پاکستان پراپنے قبضے کی خبریں چلا رہا تھااوراپنے کسی نقصان کوتسلیم کرنے کو تیارنہیں تھا، دھیرے دھیرے عالمی میڈیاکے سامنے ننگا ہونا شروع ہوگیا۔سب سے پہلے بلومبرگ کے سامنے اس کے فوجی جنرل نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے اس کا ذمہ داراپنی سیاسی حکومت کو ٹھہرایااوراس کے بعدبھارتی وزیرِخارجہ سبرامنیم جے شنکرنے پارلیمانی کمیٹی کوبتایاکہ واشنگٹن نے انہیں خفیہ انٹیلی جنس شیئرکی کہ پاکستان تباہ کن حملے کے قریب ہے۔ انڈین وزیرخارجہ کایہ بیان بھی عالمی میڈیامیں مودی کے منہ پرکالک ملنےکےلئے چلنے لگاتو پھر جا کر بھارتی عوام کوگودی میڈیا کےجھوٹ کاپتہ چلا۔
اس 88گھنٹے کی جنگ میں یوں محسوس ہواکہ بری وبحری قوتوں سے کہیں بڑھ کراب ڈرون اور الیکٹرانک وارفیئرفیصلہ کن ہتھیارہیں لیکن ان کی پشت پر کھڑاسفارتی اورمالی اکٹھ اصل طاقت ہے۔پاکستان نےثابت کیاکہ جب عسکری صلاحیت میں اعتمادِ کامل ہو تو عالمی طاقتیں بھی سیزفائرپرآمادہ ہوجاتی ہیں؛اس میں پیغام عبرت یہ ہےکہ طاقت ہی وہ زبان ہے جسے اقوامِ عالم بخوبی سمجھتی ہیں۔
یہ معرکہ چیخ چیخ کرکہتاہےکہ اگرایک سنگل وِنگ ریاست اسرائیل اپنی ٹیکنالوجی سے ہندوستانی میدانِ جنگ کونئی جہت بخش سکتی ہے،توپانچ درجن مسلم ممالک کیونکر مشترکہ دفاعی واقتصادی منظرنامہ نہیں رقم کرسکتے؟اگرآج پاکستان نے ڈرونوں کا سیلاب روکا ہے، توکل ایران یاترکی کوبھی یہی کمال دکھاناپڑے گالہٰذا امتِ واحدہ کے تصورکو محض تقریری آرائش نہیں،عملی معاہدوں،مشترکہ ریسرچ سنٹروں اورمتحدہ میڈیاوائس کی صورت اختیارکرنی ہوگی ورنہ تاریخ کے لکھنے والے ہمارے لیے پھر کوئی اورنوحہ محفوظ رکھ چکے ہیں۔
یادرکھیں کہ آج ایران ہے،کل ہم ہوسکتے ہیں یہ لمحہ فکریہ اوربیداری کی آخری صدا ہے۔ جس طرح ایک ایک کرکے فلسطین،شام، لیبیا،عراق، افغانستان، اب ایران نشانہ بنے،تو کون باقی رہ گیا؟ایک ایک پتا ٹوٹتاجارہا ہے،اورہم درخت کی جڑسے لپٹے خودکومحفوظ سمجھ رہے ہیں۔اگرآج بھی مسلم امہ نہ جاگی،توتاریخ پھردہرائے گی وہی سانحے جن پرہم نے صرف قراردادیں اورتعزیتیں جاری کیں وہ ہماری آنے والی نسلوں کے لئے ایک لعنت بن کررہ جائیں گی۔
آج امتِ مسلمہ 57ممالک پرمشتمل ہے،جن کے پاس بےشمارقدرتی وسائل،لاکھوں کی افواج اورکروڑوں نوجوان ذہن موجودہیں مگر یہ سب کچھ ہونے کے باوجودوہ دنیامیں مظلوم کہلاتی ہے،کیوں؟ اس لئےکہ امت کی یہ قوت بکھری ہوئی ہے،منتشرہے اور ہرملک اپنی کرسی،اپنی تجارت،اوراپنی بقاکے محدودخول میں بند ہے۔ فلسطین صہیونی جارحیت کاشکارہے،اوربعض عرب ممالک اس جارحیت کے ساتھ تجارتی معاہدے کررہے ہیں۔ ایران پرحملہ ہوتاہے،اورمسلمان ممالک خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔پاکستان پر بھارت کی زبان درازی ہویااسرائیلی پشت پناہی سے حملے،اکثرمسلم ریاستیں غیرجانبداری کی پالیسی پرعمل پیراہوتی ہیں۔ ترکی میں خانہ جنگی کے سائے ہوں یالیبیا،شام اوریمن کی بربادی،مسلم دنیاکے باہمی اختلافات دشمن کی حکمت عملی کوتقویت دیتے ہیں۔انہی وجوہات کی بنا پر بپھرا ہوا دشمن مسلم امہ کوختم کرنے کے لئےہرقسم کےحملے کررہاہے۔
ایران پراسرائیلی حملے،جوہری تنصیبات کی تباہی،سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ یہ سب اس عالمی پیغام کاحصہ ہیں جوہرمسلم ریاست کودیاجارہاہے کہ اگرتم نے خودکومغرب کے سامنے سرِتسلیم خم نہ کیا،توتمہاری باری بھی آئے گی اوریہ کوئی دورکی کوڑی نہیں۔ کل کویہی حربے پاکستان،ترکی،یاسعودی عرب کے خلاف بھی آزمائےجاسکتے ہیں۔دشمن کے پاس کوئی اخلاقی،قانونی یاتہذیبی حدباقی نہیں رہی۔ان کاایک ہی پیمانہ ہے کہ مکمل طاقت کے ساتھ مسلمانوں کوفناکردیاجائے۔
سوال یہ ہےکہ اب ہم ان مصائب سےکیسے نجات حاصل کریں کہ مسلم ممالک کے اتحادمیں جاری رکاوٹیں دورکرکے ہمیں ایسی کامیابی نصیب ہوجوہمیں جاری ذلت ورسوائی کے قعر مذلت سے نکال سکے۔اس کے لئے ہمیں اپنے وجوداوروسائل پربھروسہ کرتے ہوئے اپنی اس گم گشتہ منزل کے حصول کی تلاش کرناہوگی۔جو سمتیں ہمیں اس گھیرے سے نکال سکتی ہیں وہ کوئی طلسمی دروازے نہیں بلکہ واضح خطوط ہیں۔ حل کی طرف فقط ایک ہی راستہ ہے اوروہ ہے اتحاد، خودانحصاری ،اور مشترکہ دفاع۔یہ صورتِ حال تقاضاکرتی ہے کہ او آئی سی کو محض اعلامیوں سے نکال کرعملی اتحادکی طرف بڑھایاجائے۔
ہمیں سب سے پہلے دفاعی خودکفالت کے لئے ترکی،پاکستان،ایران،ملائیشیامشترکہ تحقیق، سٹریٹیجک اورانٹیلی جنس اشتراک کو ایک نظام میں ڈھالناہوگا۔ اقتصادی اتحادجس سے مغربی مالیاتی دبائو کاتوڑممکن ہو۔اسلامی بینکاری اورمقامی کرنسیوں پرتجارت اس کی بنیادہوسکتی ہے۔ میڈیاکاعالمی متبادل،تاکہ مسلمانوں کی آواز عالمی سطح پرسنائی دے اورمغربی بیانیے کوچیلنج کیا جا سکے ۔ عالمی میڈیاکے متبادل میں الجزیرہ،ٹی آرٹی ورلڈ،پی ٹی وی ورلڈکوتحقیقی صحافت اورعالمی لسانی تنوع سے لیس کیاجائےتاکہ آوازِ مظلوم صدابہ صحرانہ ہو۔
حکمرانوں کوایوانوں میں یہی پیغام پہنچے کہ غزہ،کشمیرواصفہان کی طفلانِ مسلم کی چیخیں ہماری بھی ہیں اورہمارے زخم مشترک ہیں۔یہ عوامی دباؤاس قدرشدید ہو کہ حکمرانوں کے ایوانوں میں اس زلزلے کا خوف موجودرہے کہ اب ان کی کوئی سستی ان کو بچانہیں سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں