Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

انہماک و استغراق کی غیرمعمولی طاقت

انسان کے دماغ میں کمال کی لچک اور طاقت ہے۔ ہم ہر لمحہ مختلف کیفیات سے گزرتے ہیں۔ اگر ہم خیالات کو کسی ایک چیز یا نکتہ پر ’’فوکس‘‘ کرتے ہیں، اور اس پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں تو ہم پر اس کے بارے اسرار و رموز کا ایک نیا جہان کھلنا شروع ہو جاتا ہے۔ ہم دماغ کو جو موضوع یا ٹاکس دیں دماغ میں اسی سے متعلق خیالات بادلوں کی طرح آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمارا دماغ کسی ایک خیال یا کیفیت میں اس قدر گہرائی اور گیرائی میں چلا جاتا یے کہ غوروفکر کے دوران ہم دنیا و مافیہا سے بالکل کٹ جاتے ہیں۔
تاریخ کے بعض غیرمعمولی جینئس انسان ایسے غوروفکر کرنے کے لئے تنہائی میں جایا کرتے تھے۔ اس قسم کی گہری سوچ اور خیالات کی آمد اور انتخاب کو ’’عبادت‘‘، ’’مراقبہ‘‘ یا’’رجوع‘‘ بھی کہتے ہیں۔ انگریزی زبان میں سوچنے کے اس مخصوص عمل کو ’’میڈیٹیشن‘‘(تنہائی کا غوروفکر) کہا جاتا ہے۔
آپ کو یاد ہو گا کہ بچپن میں آپ عدسی شیشے (میگنی فائینگ گلاس) سے سورج کی کرنوں کو گزار کر کاغذ کے ٹکڑوں کو جلایا کرتے تھے۔ اس وقت تو آپ کو اندازہ نہیں تھا کہ اس تجربہ سے آپ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ممکن ہے تب آپ کے لئے یہ محض ایک کھیل تماشا ہوا کرتا تھا۔ لیکن اس میں تجسس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ شیشے کا عدسہ سورج کی ایک چھوٹی سے کرن کو مرتکز کر کے اس میں اتنی جادوئی طاقت بھر دیتا ہے کہ تھوڑی دیر تک اس ننھی کرن کو کاغذوں کے ٹکڑوں پر ڈالتے رہیں تو وہ اچانک جل اٹھتے ہیں۔ ممکن ہے اس ایک چھوٹے اور معمولی سے سائنسی تجربہ کی حقیقت کا آپ کو آج بھی علم نہ ہو کہ اس عمل کے پیچھے روشنی کی ننھی کرن اور کاغذ کے جلنے کے عمل کا اصل راز کیا ہے؟ دراصل روشنی کی اس معمولی کرن کی زبردست طاقت کا یہ مخفی راز عدسی شیشے کا اسے کاغذ کی ایک ہی جگہ پر ’’مرتکز‘‘ کرنے میں مفقود ہے۔
کینیڈا کی کوئینز یونیورسٹی کے پروفیسرز ڈاکٹر پوپین کے اور جولی ٹیسینگ نے تجربات سے ثابت کیا ہے کہ انسانی دماغ سے ہر روز اوسطاً 6200تک خیالات ابھرتے ہیں۔ یہ دماغ میں آنے والے ان خیالات کے بارے تحقیق ہے جن کو شعوری طور پر انسان سوچتا ہے اور محسوس کرتا ہے۔ انگلینڈ میں ایک کتاب پڑھی تھی اس میں لکھا تھا کہ روزانہ ہمارے دماغ سے خیالات کا جو طوفان ٹکراتا ہے اس میں شامل خیالات کی کم و بیش تعداد 24000 ہے۔ حالانکہ ہر روز ہمارے دماغ میں آنے اور پیدا ہونے والے خیالات کی یہ تعداد بھی کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عام انسانوں کا دماغ شعور، لاشعور اور تحت الشعور کی تین سطحوں پر سوچتا ہے، جس کی ہر سطح پر آنے والے تمام خیالات کا بیک وقت شمار کرنا ہمارے لئے تقریبا ناممکن ہے۔
ایک لمحہ کے لئے سوچیں کہ ہمارے دماغ کی ان تینوں سطحوں پر آنے والے تمام خیالات کو ہم ایک موضوع یا مقصد پر ارادی اور شعوری طور پر جمع یا مرتکز کر دیں تو ہمارے اندر اتنی تخلیقی قوت پیدا ہو سکتی ہے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اس پر مستزاد ہمارے دماغ میں پائے جانے والے ’’نیورانز‘‘ (دماغی خلیات) کی حیرت انگیز تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس کے سامنے جتنے پوری کہکشائوں اور ستاروں پر ایٹمز ہیں وہ بھی کم ہیں۔ اس سے آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم دماغ کے ان تمام نیورانز کو ایک ہی ’’نکتہ‘‘ پر سوچتے ہوئے انہماک و استغراق کے دوران مرکوز کریں تو ہمارے سامنے دنیا و فیہا اور کائنات کے کیا کیا راز ابھر کر سامنے آ سکتے ہیں، اس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں اور خوش قسمتی سے انسانی دماغ اپنی تمام قوت ایک مرکزہ و نکتہ پر مرتکز کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ خوبصورتی سے سوچنے، غوروخوض کرنے اور ’’یکسوئی‘‘ حاصل کرنے والا انسان اپنے دماغ سے حیرت انگیز نتائج حاصل کرتا ہے۔ انسانی دماغ کے نیورانز میں پوری کائنات کی طاقت مفقود ہے۔سوچنا بہت خوبصورت عمل ہے مگر اس سے بھی بڑے درجہ و مقام کی صفت ’’فوکس‘‘ کرنا ہے جو ہے تو سوچنے ہی کا عمل مگر اس کے ذریعے دماغ ایک وقت میں بہت سے خیالات پر غوروفکر کی بجائے صرف ایک ہی آئیڈیا پر توجہ مرکوز کرتا ہے جس سے اس کے اندر زیادہ طاقت پیدا ہونے لگتی ہے۔
ہر انسان کی زندگی میں مسائل اور رکاوٹیں آتی ہیں، ان سے پریشان ہونے کی بجائے ان کے حل پر توجہ دینی چایئے جو کہ انہماک اور استغراق کا گہرا عمل ہے۔ ہماری زندگی کی کامیابی کا سارا دارومدار دماغ میں آنے والے ان ہزاروں لاکھوں خیالات کی ساخت اور نوعیت پر ہے اور اس کے بعد اس بات پر ہے کہ ہم ان لاتعداد خیالات میں سے کارآمد خیالات کی چھانٹی کر کے انہیں عملی جامہ کیسے پہناتے ہیں۔ ہماری دنیاوی اور روحانی کامیابی اور خوشی دراصل انہی خیالات کی مرہون منت ہے جن کو ہم کثرت سے توجہ دے کر عملی جامہ پہناتے ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں