آج میرے دل کے نہاں خانوں میں ایک عجیب سی بے چینی ہے،ایسالگتاہے جیسے تاریخ رورہی ہو،وقت سسکیاں لے رہاہواورملت کا ضمیرچیخ چیخ کر ہمیں پکاررہاہو:
اے غافلو!اے بے حسی کے خول میں بند عاشقانِ رسولﷺ کیاتمہیں وہ لہویادنہیں جومسجد اقصیٰ کی سیڑھیوں پربہا؟آج ہم اس منبرپرکھڑے ہیں،تو ہمارے گردنہ خالی الفاظ ہیں ، نہ محض سیاسی بیانات بلکہ ہمارے گردبیت المقدس کی وہ فضائیں ہیں جواب بھی اذانِ بلالی کوترس رہی ہیں۔ہمارے چاروں طرف غزہ کے شہیدبچوں کی آہیں،یتیموں کی سسکیاں ،ماں کی بیوگی اورفلسطینی باپوں کے کٹے ہوئے بازوں کی خاموش گواہیاں گونج رہی ہیں۔
آج ہم جس معاہدہ ابراہیمی پرگفتگوکرنے جا رہے ہیں،وہ کوئی معمولی معاہدہ نہیں یہ ایک امت کے شعورکاامتحان ہے،یہ تاریخ کے کٹہرے میں ہمارامقدمہ ہے۔آج فیصلہ یہ ہونا ہے کہ ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں یااس کے قاتلوں کے ساتھ؟ہم اقصیٰ کے وارث ہیں یا اس کے غاصبوں کے ہمنوا؟ہم قرآن کے پیروکارہیں یاصیہونی سرمایہ داری کے غلام؟اگرآج ہم خاموش رہے،توکل ہمارے بچے پوچھیں گے آپ نے اسرائیل کوتسلیم کیوں کیا؟کیاہم ان کی آنکھوں میں جھانک سکیں گے؟
آج جب تاریخ کی سانس بھی تیزچل رہی ہے اوروقت کی رگوں میں اضطراب کی بجلیاں دوڑرہی ہیں،ہمیں ایک ایسے معاہدے کاسامنا ہے،جسے دنیا نے ’’معاہدہ ابراہیمی ‘‘کا نام دیامگرسوال یہ ہے کہ یہ معاہدہ ابراہیمی ہے یاابلیسی منصوبہ؟یہ عہدِامن ہے یاخنجرِنفاق؟ یہ مژدہ محبت ہے یامحرابِ مسجداقصیٰ پرلرزتاہواطعنہ؟
معاہدہ ابراہیمی2020ء میں شروع ہواتھا۔ دراصل ایک سفارتی معاہدہ ہے جس کے تحت چندعرب ریاستوں نے اسرائیل سے تعلقات معمول پرلانے کی راہ اپنائی۔متحدہ عرب امارات اوربحرین نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرکے سفارتی تعلقات قائم کئے۔ بعدازاں سوڈان اورمراکش بھی اس صف میں شامل ہوگئے۔ کہا گیا کہ یہ معاہدہ’’امن کی بنیاد‘‘ ہے لیکن قرآن نے ہمیں سکھایاہے:
جب کبھی ان سے کہاگیاکہ زمین میں فساد برپا نہ کرو،توانہوں نے یہی کہاکہ ہم تواصلاح کرنے والے ہیں۔خبردارحقیقت میں یہی لوگ مفسدہیں مگرانہیں شعورنہیں،یہ وہی لوگ ہیں جوفسادکرتے ہیں اورکہتے ہیں ہم توامن کے علمبردارہیں،اے اہلِ ایمان غورکروکیا معاہدہ ابراہیمی کے پسِ پردہ وہی تاریخ نہیں چھپی جوبیت المقدس کی محرابوں سے لہو چھینتی رہی؟یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیاجب فلسطینی مزاحمت عالمی حمایت حاصل کررہی تھی،اوراسرائیل عالمی سطح پردبامیں تھا۔ ایسے وقت میں عرب حکمرانوں نے اسرائیل سے رفاقت کاہاتھ بڑھاکرایک تاریخی خیانت کی۔یہ معاہدہ نہ صرف فلسطینی ریاست کے تصورکی نفی ہے بلکہ بیت المقدس پرصیہونی قبضے کوعملاتسلیم کرنے کی راہ بھی ہموارکرتاہے۔
یہ لوگ اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، مگر اللہ اپنے نور کو مکمل کرے گا(الصف:8)
یہ معاہدہ ایک سیاسی جال ہے،جس کے بنے گئے دھاگے تل ابیب سے نہیں،واشنگٹن،لندن اوربعض عرب دارالحکومتوں سے کھنچتے ہیں۔یہ فلسطین کے مقدس زخموں پرنمک پاشی ہے ،یہ اسرائیل کے وجودکودائمی بنانے کا حربہ ہے،جس کے نیچے الاقصیٰ کی آہ وبکا دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ معاہدہ محض ایک دستاویزنہیں،یہ تاریخ کے ساتھ خیانت ہے،یہ ملت اسلامیہ کے مقدسات کی نیلامی ہے۔
یہ کہہ کربھی خوفزدہ کیاجارہاہے کہ آج آئی ایم ایف اوردیگرعالمی مالیاتی ادارے نئے چنگیزی لشکرکی صورت میں ملت اسلامیہ پر معاشی بمباری کررہے ہیں،قرض کے کوڑے، پابندیوں کی زنجیریں،ترقی کے نام پرغلامی کے معاہدے، اوراب’’ اسرائیل کوتسلیم کرو، ورنہ امدادبند‘‘کا نیا ہتھیارہم پرمسلط کئے جانے کاخطرہ ہے؟کیاہماری خودی اتنی ارزاں ہو چکی ہے؟کیاہم سودی قرضوں کے سوداگربن کرایمان کاسودا کریں گے؟
آج کچھ لوگ ایک نئی دلیل لیکر حملہ آورہورہے ہیں کہ جب عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر رہے ہیں۔جب فلسطینی اتھارٹی کاایک گروہ اس سے امن کی بات کررہاہے،جب ترکی ،مصر،اردن،حتی کہ چین جیسے غیرمسلم دوست ممالک بھی اسرائیل سے تعلقات رکھتے ہیں توپھرپاکستان کیوں تنہاکھڑاہے؟کیاہم باقی دنیاسے زیادہ مسلمان ہیں؟کیاہم عربوں سے زیادہ فلسطینی ہیں؟ میں ان سب سوالوں کاصرف ایک جملے میں جواب دیناچاہتاہوں’’ہم اصولوں کے غلام ہیں، حالات کے نہیں‘‘۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے اشارے کامنتظرہے؟سعودی عرب فی الحال اسرائیل کوتسلیم نہیں کرتا،مگربعض غیررسمی تعلقات کے آثار موجودہیں۔امریکی دباؤکے تحت معاملات چل رہے ہیں۔ پاکستان اگراس معاملے پرسعودی عرب کی پیروی کرے گاتویہ اپنی خارجہ پالیسی کوگروی رکھنے کے مترادف ہوگا۔ قائداعظم نے توصراحتاًیہ فرمایاتھاہم کسی ایسی ریاست کوتسلیم نہیں کرسکتے جوظلم و غصب کی بنیاد پر قائم ہو،اسرائیل کوجبرکے ساتھ فلسطینی زمین پرقائم کیا گیا ہے اورہم اسے ہرگزتسلیم نہیں کرتے۔
پاکستان ہمیشہ امتِ مسلمہ کی وحدت کے نام پراپنے موقف کوموخرکرتارہاہے مگرکیاغیرتِ ملی کسی دوسرے کے فتوے کی محتاج ہے؟ہم نے قیامِ پاکستان کے وقت بھی خلافتِ عثمانیہ کی لاش پرجشن نہیں منایاتھا،ہم نے فلسطین کی حمایت میں قائداعظم کے لبوں سے اسرائیل کوغاصب کہاتھا، قائداعظم محمدعلی جناح کاایک اوربیان یادکروادوں کہ یہودیوں کوفلسطین میں بساناایسی ہی ناانصافی ہے جیسے ہندوستان میں مسلمانوں کواقلیت میں بدل دینا۔اگرعرب حکمرانوں نے سیاسی مصلحت سے سمجھوتاکیا،توکیاہم بھی غیرتِ ایمانی کا جنازہ نکال دیں؟اگرفلسطینی قیادت کاایک دھڑاغلامی کی راہ پرمائل ہوا،توکیاہم بھی کعبے کی بجائے تل ابیب کی طرف منہ کرلیں؟کیاہم سعودی اشارے کے منتظررہ کر اپنے اصول قربان کر دیں ؟یااسلامی اخوت کے نام پراپنے عقائدبیچ ڈالیں؟
یادرکھیں ہم عربوں کے تابع نہیں،ہم قرآن کے تابع ہیں،ہم کسی حکومت کے فیصلے کے قائل نہیں،ہم شہداکے خون کے وارث ہیں۔اگر ہم سب کچھ دیکھ کربھی خاموش رہیں،توہم صرف فلسطین کے نہیں، اپنے ایمان کے بھی مجرم ہوں گے۔
رہامسئلہ چین کاتوکیاچین نے اسرائیل کو امت کے مقدسات تسلیم کرکے ماناہے؟نہیں،چین کاتعلق صرف معاشی اورتکنیکی بنیادوں پر ہے،نہ وہ القدس کاوارث ہے،نہ قبلہ اول کی حفاظت کادعویدار۔ اورترکی اگرچہ اس نے سفارتی تعلقات رکھے،لیکن صدراردوغان کی زبان آج بھی فلسطینیوں کے حق میں شعلہ بیاں ہے،ترکی عوام آج بھی بیت المقدس کے سپاہی ہیں توہم کیوں ان تعلقات کوایمان کامعیار بنائیں؟
پاکستان اس وقت مغربی مالیاتی نظام کی زنجیروں میں پھنساہواہے۔آئی ایم ایف اورفیٹف کی شرائط میں جکڑاہواہے اوریقیناپاکستان اس چنگل سے نکلنے کے لئے تگ ودومیں مصروف ہے لیکن یہ بھی عین ممکن ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اپنے سامراجی آقائوں کے اشارے پرمعاشی چابک استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کوتسلیم کروانے کے لئے مزیدقرضوں کی شرائط ،مالی بحرانوں کی آڑمیں امداد کی بندش کی دھمکیاں استعمال کریں اوراگرایسا ہواتویہ ہماری خودداری کاجنازہ ہوگا۔
دورنہ جائیں،ابھی کل ہی کی بات ہے کہ پاکستان کاازلی دشمن بھارت اسرائیلی معاونت سے خاکم بدہن پاکستان کونیست ونابودکرنے نکلاتھا،شیطان صفت ٹرائیکاکادعوی تھاکہ پاکستان چندگھنٹوں میں گھٹنے ٹیک کرسرخم کردے گالیکن اس کے نتیجے میں کیا ہوا؟ 2024ء کے اواخرمیں پاک-بھارت لائن آف کنٹرول پرجب کشیدگی بڑھی،توبھارتی میڈیااور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اعتراف کیاکہ اسرائیل نے بھارت کوڈرون ٹیکنالوجی، لیزرگائیڈڈ میزائل اور سائبرجاسوسی سہولیات فراہم کیں۔بھارت نے اپنے اتحادیوں کی مکمل مدد کے ساتھ 6مئی2025ء کو پاکستان کے چھ مقامات پرمیزائل فائرکرکے جنگ کاآغاز کر دیااوریہ بھی سننے کو ملاکہ اسرائیل نے اپنے کامی کازہاروپ ڈرون کے ساتھ اس کے آپریٹرزبھی یہ کہہ کرانڈیاروانہ کردیئے کہ صرف4ڈرونز ہی پاکستان کے لئے کافی ہیں۔پاکستان نے نہ صرف69ہاروپ ڈرونز تباہ کئے بلکہ9ڈرونزکی ساری ٹیکنالوجی پر سبقت حاصل کرکے انہیں بحفاظت نیچے اتارلیاگیا۔کیابھارت کی جانب سے بعض میزائل حملوں میں اسرائیلی ساختہ اسلحہ استعمال ہونااس بات کاثبوت نہیں کہ اسرائیل نہ صرف پاکستان کادشمن ہے بلکہ اسلام دشمنی میں بھارت کاہم نوالہ وہم پیالہ ہے۔(جاری ہے)