قوموں کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جو اپنے پیچھے نہ بھولنے والی ان گنت کہانیاں چھوڑ جاتے ہیں۔جن میں 9 مئی 2023 بھی ایک ایسا ہی دن ہےجس سے ہماری بہت سی تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ 9 مئی نہ ہوتاتو شاید آج پی ٹی آئی اتنی مشکلات اور مسائل میں نہ گھری ہوتی۔ سب کچھ اچھے طریقے سے چل رہا ہوتا۔9 مئی ایسا بھیانک دن ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔اس سانحے نے پی ٹی آئی کی تاریخ ہی بدل دی۔وہ ایک ایسے بھنور میں پھنس چکی ہےجہاں سے اس کا نکلنا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے۔ 9 مئی حقیقت ہے یا فسانہ۔بہت سے لوگ اس پر بہت سی حاشیہ آرائی کر رہے ہیں۔خود پی ٹی آئی اور اس سے ہمدردی رکھنے والے اس سانحہ کو فسانہ قرار دیتے ہیں مگرجو حکومت میں ہیں اورجو حکومتی جماعتوں سے محبت کےدعویدار ہیں، 9 مئی کو نا صرف بڑا قومی سانحہ بلکہ اسے ملکی تاریخ کی ایک بڑی واردات قرار دیتے ہیں۔اسٹیبلمشمنٹ کے ذرائع بھی تصدیق کر رہے ہیں کہ9مئی بہت بڑی حقیقت ہے۔اس کا ارتکاب کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔بانی پی ٹی آئی کا سارے معاملے میں رول بہت کلیدی ہے۔آڈیوز، ویڈیوز اور 9 مئی کے گرفتار شدگان(جو، اب مجرم بن چکے ہیں) کے بیانات نے بھی ثابت کیا ہے اور اس الزام کو تقویت دی ہے کہ بانی کی ایما پر ہی دیگر منصوبہ سازوں نے جو جماعت کے اہم رہنما ہیں، اپنے ورکرز کو بھڑکایا،اکسایا،اشتعال دلایاجس کےباعث 9 مئی جیسا بڑاسانحہ رونما ہوا- عام خیال تھا کہ 9 مئی کے کیسز کی سماعت فوجی عدالتوں میں ہو گی لیکن اس کے برعکس سول عدالتوں میں ان کے چالان پیش کئے گئے۔جہاں ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہونے پر لاہور کی انسداد دہشت گردی کورٹ نے سابق گورنر عمرچیمہ، محمود الرشید، اسلم اقبال اور سابق صوبائی وزیریاسمین راشداوردیگرکارکنوں کودس سال قید کی سزا سنا دی جبکہ سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کورٹ نے بھی فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر احمد بھچر کو بھی ایسی ہی سزا کا مستحق قرار دیا۔یہ سزائیں پی ٹی آئی رہنمائوں اور کارکنوں کو ایسے موقع پر دی گئی ہیں جب پی ٹی آئی ملک گیر احتجاج کے لئے ضلعی اور ڈویژنل سطح پر تحریک کی تیاریاں کر رہی ہے ۔بظاہر تو یہ تحریک میڈیا کی حد تک ہے۔عملی طور پر ایسے شواہد نہیں ملتےکہ 5 اگست کی اس تحریک کے لئے تنظیمی طور پر کچھ ہو رہا ہے یا تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ کارکنوں میں تحریک کے حوالے سے کوئی جوش و خروش نہیں پایاجاتا۔ جماعت کے اندر بھی ایسی کوئی غیر معمولی موومنٹ مشاہدے میں نہیں آ رہی کہ کہہ سکیں 5 اگست 2025 پی ٹی آئی کے لئے بار آور ثابت ہو گا۔
9 مئی کوصرف قومی ودفاعی تنصیبات پرہی حملے نہیں کئےگئے۔شہداکے یادگاری مجسموں کو بھی نقصان پہنچایاگیا۔شدیدتھوڑپھوڑ کی گئی۔فوجی ودفاعی تنصیبات پرحملہ اور شہدا کےمجسموں کی بےحرمتی، کسی خاص مائنڈسیٹ کی عکاسی کرتی ہے۔اس موقع پر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہےکہ کیا یہ حملہ آور یاشرپسندملک دشمن عناصر میں سے تھے؟ کیا وہ کسی بیرون ملک کےاشارے پریہ سب کچھ کر رہے تھے، ان کا اصل ایجنڈا کیا تھا؟تحریکیں ہمیشہ حکومتوں کے خلاف چلتی رہی ہیں-سیاسی جماعتیں سیاسی طور پر اپنی جنگ لڑتی ہیں۔احتجاج کرنا ہو،تحریک چلانی ہوتو حکومت کےخلاف چلائی جاتی ہے لیکن 9 مئی نے ثابت کیا تحریک انصاف کا ایجنڈا یہ نہیں تھا۔وہ فوج کو نیچا دکھانے کے لیئے یہ سب کچھ کر رہے تھے۔9 مئی ایک کالک ہےجو پی ٹی آئی کےچہرے سےکبھی نہیں دھوئی جاسکےگی۔پی ٹی آئی کی لیڈرشپ نے، اپنےکارکنوں کی جس طرح ذہن سازی کی اور اس ذہن سازی کے نتیجے میں وہ اپنے ہی دفاعی ادارے کے خلاف جس طرح اٹھ کھڑے ہوئے، تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔دنیا بھر میں پی ٹی آئی کے اس فعل سے ملک کی بدنامی ہوئی۔فوج اور عوام کے درمیان نفرت اور خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔مختلف شہروں میں رونما ہونے والے بدترین واقعات کےبعدجب شرپسندوں کو حراست میں لیاگیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ لیڈر شپ کی ایماپر ہی انہوں نے فوجی املاک اور تنصیبات پرحملےکئے اورنقصان پہنچایا۔بات سمجھنے کی ہےکہ ہمارا ملک، جو معاشی تنزلی کی دلدل میں سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کے لیئے تمام وسائل اور صلاحیتیں بروئے کارلا رہا ہےایسے میں کسی جماعت کی جانب سے ملک کے دفاعی اداروں کی تنصیبات اور املاک پرحملے ثابت کرتےہیں کہ اس جماعت کو ملکی سلامتی سے کوئی دلچسپی نہیں۔قوم کو اعتماد دینے کے لیئے انتہائی ضروری ہے کہ ملک سے ایسی جماعتوں کا صفایاہو جو ملکی مفاد کےخلاف کام کرتی ہیں۔ملک کے حساس ادارے ان کا ہدف اور نشانہ ہوتے ہیں۔بلاشبہ پی ٹی آئی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔اس کی سیاسی جدوجہد بھی دہائیوں پر محیط ہے لیکن اس کی لیڈر شپ نے جو غیر سیاسی فیصلے کئے اور اقدامات اٹھائے، ان سے پی ٹی آئی کو آج مشکل ترین صورت حال کا سامنا ہے۔کم ازکم 2028 ء کے الیکشن تک ایسے حالات بالکل بھی نظر نہیں آتے کہ اس کی بہتری کی کوئی صورت نکل سکے۔
ہر جماعت کی اپنی سیاست ہے۔ہر جماعت کو یہ دستوری اور نظریاتی حق حاصل ہے کہ اپنے منشور کے مطابق اپنی سیاست کو لےکر آگے چلے۔لچک دار رویہ ہمیشہ آپ کے لیئے جگہ بناتا ہے۔سخت نظریات کا حامل ہونایاایسارویہ رکھنا،درپیش معاملات کو بگاڑتا ہے۔ہٹ دھرمی کسی معاملے کا حل نہیں۔ایسے نظریات رکھنے والا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا-خان صاحب، دو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے اڈیالہ میں ہیں، جہاں بہت کم لوگوں کو ان تک رسائی حاصل ہے۔یہ بھی خبریں عام ہیں کہ جیل میں بہت ہی ابتر حالات میں ہیں-کھانے سے لے کر سونے تک تنگی اور پریشانی کا سامنا ہے۔بقول علیمہ خان رات کو ان کی بیرک کی بجلی بھی بندکردی جاتی ہے۔تاہم خان صاحب کو ایک کریڈٹ ضرورجاتا ہے کہ بڑی دلیری سے جیل کاٹ رہے ہیں۔ہزارہا مشکلوں کے باوجود نہیں ٹوٹ سکے، انہیں نہیں توڑا جاسکا۔تاہم خان صاحب کے غیر لچکدار رویےکا نتیجہ ہےکہ اب تک جیل میں ہیں-اسٹیبلشمنٹ سےجس بھی جماعت نے لڑائی کی ، جنگ و جدل کا ماحول بنایا، ہمیشہ وہ جماعت خسارے میں رہی۔پی ٹی آئی کے ساتھ بھی جو ہو رہا ہے اس کا اپنا کیا دھرا ہے۔آپ اسے مکافات عمل بھی کہہ سکتے ہیں۔9 مئی جیسے دلخراش واقعات کی روک تھام کے لیئے ہمیں مل کر سنجیدہ کاوش کرنی ہے۔ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیئے شرپسندوں کی پشت پناہی راست اقدام نہیں۔ شرپسند کبھی کسی سے مخلص نہیں ہوتے۔ ان کا طاقت ور ہونا ملک اور قوم کو کمزر کرتا ہے۔پی ٹی آئی اگر محب وطن جماعت ہے اس کی لیڈر شپ قوم اور ملک سے محبت کاجذبہ رکھتی ہے تو اسے ایسے کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے انتشار اور افراتفری پھیلے۔ ایسے حالات کا پیدا ہونا یا پیداکردینا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ہر ایک کو مثبت سوچ کے ساتھ ایسا تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے جس سے بھلائی اور ملک و قوم کے لیئے امن اور خوشحالی کے نئے در کھلیں-