آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ ہمارا مقصدِ حیات کیا ہے؟ ہم خود کو، اپنے معاشرے کو اور اپنے وطن کو کس منزل کی طرف لےجاناچاہتے ہیں؟ ہمارااجتماعی خواب کیا ہے؟ اس خواب کی تعبیر کیاہوسکتی ہے؟ اوراس خواب کوحقیقت میں بدلنے کا راستہ کون سا ہے؟ ہمارا مثالی ریاستی نظام،طرزِحکومت، قومی ترجیحات اور سماجی اقدار کیا ہیں؟
یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کےبغیرنہ کوئی انفرادی پیش رفت ممکن ہے، نہ ہی اجتماعی ترقی۔ جب منزل کا تعین نہ کیاجائے تو راستے بے معنی ہو جاتے ہیں، سمتیں دھندلا جاتی ہیں، اور سفر لاحاصل ہو جاتا ہے۔ بے مقصد دوڑ صرف تھکن، بے چینی اور اضطراب کو جنم دیتی ہے جبکہ بصیرت افروز منزل کی وضاحت انسان کو نہ صرف سفر کے لیے تیار کرتی ہے بلکہ اسے راستہ بھی دکھاتی ہے۔آیئے، اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے وطنِ عزیز کی موجودہ صورتِ حال کو جانچنے کی کوشش کریں۔ جذباتیت، تعصب اورشخصی عقیدت کے چشمے اتار کر، دل کی کدورتیں نکال کر، محض خلوصِ نیت اور حب الوطنی کے جذبے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم اپنی ذاتی اور قومی سوچ کا بے لاگ احتساب کریں گے تو ہمیں نہ صرف اپنی غلطیاں دکھائی دیں گی بلکہ بہت سے سوالوں کےجواب بھی خودبخود سامنے آنے لگیں گے۔یہی لمحہ ہے جب جستجو کو نئی جِہت ملتی ہے، سوچ میں وسعت آتی ہےاور شعور میں احساسِ مقصدیت کاچراغ روشن ہوتاہے۔ کنفیوژن کی تاریکی حقیقت کے چراغوں سے منورہونےلگتی ہےاور انسان کو دکھائی دینےلگتا ہےکہ اس کی اصل منزل کیا ہے، صحیح سمت کون سی ہے اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ کیا ہے۔ بصارت اور بصیرت کے درمیان حائل جذباتی دھند چھٹتی ہے اور حق و باطل کے درمیان واضح فرق نمایاں ہونے لگتا ہے۔
آج اگرکوئی ذی شعور،مخلص،محبِ وطن شہری خود کو اس فکری عمل سے نہیں گزارتا، تو وہ سچائی سے محروم رہتا ہے اور بے سمت راستوں پر بھٹکتا رہتا ہےلہٰذا رکیں، سوچیں، خود سے سوال کریں، اپنی توقعات، نظریات اور وابستگیوں کا تنقیدی جائزہ لیں اور پھر فیصلہ کریں کہ ہم نے جس رہنما کا دامن تھام رکھا ہے، کیا وہ واقعی ہمیں اس خوابیدہ منزل تک لے جائےگا جس کا ہم نے برسوں سے تصور کر رکھا ہے؟ کیا اس کے افکار، اس کی نیت، اس کی قیادت اور اس کی جماعت کے عزائم واقعی اس قابل ہیں کہ ان پر بھروسا کیا جا سکے؟
کیااس کےکردار میں صداقت ہے؟کیا اس کی قیادت میں وژن ہے؟ کیا اس کی حکمتِ عملی قابلِ اعتماد ہے؟ کیا وہ وعدہ شکنی، جھوٹ اور منافقت جیسے رویوں سے پاک ہے؟ کیا اس نے ملکی ترقی کے کارواں میں اہل، محنتی، اور دیانت دار افراد کو شامل کیا ہے؟ کیا اس نے افلاس،مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور عالمی تنہائی جیسے مسائل کے لیے قابل افراد کو ذمہ داری سونپی ہے؟
کیا اس کی ٹیم میں معاشی، سیاسی، دفاعی، تعلیمی اور سفارتی امور کے ماہرین شامل ہیں؟ کیا اس نےقومی خزانے کی حفاظت کےلیےایسےمردانِ عمل کوچنا ہے جو نہ صرف بحران کو سمجھتے ہوں بلکہ اسے قابو میں لانے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں؟ اگر آپ کا دل اور دماغ ان سوالات کے جوابات میں مطمئن ہوں اور اگر آپ کو لگے کہ یہ رہنما واقعی آپ کے قومی و ذاتی خوابوں کی تعبیر بن سکتا ہے تو اس کا ساتھ مضبوطی سے دیں، اس کے مشن کا حصہ بنیں اور اس کی قیادت کو اپنا سرمایہ سمجھ کر اس کا دست و بازو بن جائیں لیکن اگر صورتحال اس کے برعکس ہو؛ منزل واضح نہ ہو، سمت کا تعین نہ ہو، وژن مفقود ہو، اور قیادت سطحی دعووں، سبز باغ دکھانے اور لفظی شعبدہ بازی میں مصروف ہو، تو رک جائیں! آنکھیں کھولیں! اور خود کو اس فریب سے نکالیں۔
اگر کوئی سیاسی لیڈر صرف جذباتی نعرے بازی، شخصیت پرستی، اور بے بنیاد وعدوں سے لوگوں کو متاثرکر رہا ہو، تو وہ کسی صورت میں مسیحا نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ اس طرح کی قیادت سے روحانی سکون پاتے ہیں، وہ درحقیقت سیاسی شعور کےبجائے عقیدت کی دلدل میں دھنس چکے ہوتے ہیں۔ ایسے نظریاتی جمود کو “کلٹ” (Cult) کہا جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہےکہ کسی بھی کلٹ نے قوموں کو فلاح و بہبود، ترقی اور خوشحالی کے راستے پر نہیں ڈالا بلکہ کلٹ کلچر ہمیشہ انتہاپسندی، گروہی نفرت، تقسیم اور عدم برداشت کو فروغ دیتا ہے۔ ایسے نظریات ریاست کی جڑوں کو کھوکھلا کرتے ہیں، معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں اور بیرونی دشمنوں کےلیے دروازے کھول دیتے ہیں۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جب دشمن قوتیں داخلی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ریاست کے وجود، اتحاد، سالمیت اور بقا کو نشانہ بناتی ہیں لہٰذا آیئے، آج پھر اپنے قومی منظرنامےکا بےلاگ جائزہ لیں۔ پہچانیں کہ کون ہماری ترقی اور خوشحالی کی راہوں میں رکاوٹ ہے؟ کون قومی سلامتی جیسے حساس معاملات سے کھیل رہا ہے؟ کون دشمن کے بیانیے کو تقویت دے رہا ہے؟ کون داخلی انتشار اور عدم استحکام کے بیج بو رہا ہے؟ہمیں اب مزید تماشائی نہیں بننا۔ ہمیں متحد ہونا ہے، اپنی ذات سے نکل کرقوم کی بات کرنی ہےاور ایسے تمام عناصر کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونا ہے جو پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔یہی وقت ہے شعور کی آنکھ کھولنے کا، یہی لمحہ ہے فیصلے کا۔ورنہ پھر نہ کہنا، ہمیں خبر نہ ہوئی۔