Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

انہماک و استغراق کی غیرمعمولی طاقت

(گزشتہ سے پیوستہ)
ہر انسان کی زندگی میں مسائل اور رکاوٹیں آتی ہیں، ان سے پریشان ہونے کی بجائے ان کے حل پر توجہ دینی چایئے جو کہ انہماک اور استغراق کا گہرا عمل ہے۔ ہماری زندگی کی کامیابی کا سارا دارومدار دماغ میں آنے والے ان ہزاروں لاکھوں خیالات کی ساخت اور نوعیت پر ہے اور اس کے بعد اس بات پر ہے کہ ہم ان لاتعداد خیالات میں سے کارآمد خیالات کی چھانٹی کر کے انہیں عملی جامہ کیسے پہناتے ہیں۔ ہماری دنیاوی اور روحانی کامیابی اور خوشی دراصل انہی خیالات کی مرہون منت ہے جن کو ہم کثرت سے توجہ دے کر عملی جامہ پہناتے ہیں۔
لوگوں کی اکثریت کے دماغ میں غیر مرتکز خیالات جنم لیتے ہیں۔ جس بنا پر دنیاوی و روحانی زندگی میں کامیابی و کامرانی ان کا مقدر نہیں بنتی ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے ذہن سے ابھرنے والے ان خیالات کو کنٹرول کر لیا ہو، وہی دینی و روحانی زندگی میں کامیابی کے زینے طے کرتے ہیں۔
انسانی شخصیت میں مثبت و منفی رجحانات اور اخلاقیات و عادات کا پروان چڑھنا انہی خیالات کا مرہون منت ہے۔ کسی ایک طریق پر خیالات کے کچھ عرصہ تک بہائو سے وہ طریق ایک سافٹ ویئر بن کر لاشعور میں انسٹال ہو جاتی ہے اور یہ سافٹ ویئر ایک عادت یا وصف کا ڈرائیور بن جاتا ہے۔ حسد، لالچ، غصہ، ہوس، تکبر، بدگمانی اور مایوسی سب وہ عادتیں ہیں جو ان خیالات کے منفی بہا کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جس میں سے مسلسل مایوسی کی کیفیت خون کے خلیوں کی کیمیائی ترکیب تک بدل دیتی ہے۔
خیالات دراصل برقی سگنلز ہوتے ہیں۔ ہر خیال ایک مخصوص درجے کی انرجی خرچ کرتا ہے۔ ان الیکٹرک سگنلز کو اگر ایک سمت مل جائے تو زندگی میں بڑے بڑے کارنامے سر انجام دیئے جا سکتے ہیں۔ اگر خیالات منتشر رہیں تو یہ انرجی سے بھرپور الیکٹرک سگنلز ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ ایک کاپر وائر میں فری الیکٹرانز ہر وقت بے ترتیب حرکت کرتے رہتے ہیں اور ان کی یہ حرکت بے سود رہتی ہے لیکن جیسے ہی سوئچ آن کیا جاتا ہے تو یہ ایک سمت میں بہنا شروع کر دیتے ہیں جس سے بہت زیادہ انرجی اور ’’روشنی‘‘ پیدا ہوتی ہے۔
اسی طرح جب ذہنِ انسانی کے ان لاتعداد خیالات میں سے ایک بڑا حصہ ایک سمت اختیار کر لیتا ہے تو خیالات کے اس یک طرفہ بہا سے اتنی انرجی پیدا ہوتی ہے کہ انسان کو خود کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خیالات کے اس قسم کے ارتکاز عشقِ حقیقی کی صورت میں ایسے لوگوں کی رغبت خلوت اور گوشہ نشینی کی طرف ہو جاتی ہے اور عشق مجازی میں مبتلا لوگ طرح طرح کے نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔زندگی میں منفی اور غیرتعمیری خیالات کے تابع نہ ہوں بلکہ مثبت اور تعمیری سوچ کو اپنانا اپنا معمول بنا لیں جیسا کہ انبیا اور ولی ریاضت و مجاہدہ کا طویل سفر طے کر کے غصہ کو محبت میں، لالچ و ہوس کو بے نیازی میں، حسد کو رشک میں، مایوسی کو امید میں، نفرت کو الفت میں، اور تکبر کو عاجزی میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ گویا وہ عظیم ہستیاں اپنے خیالات پر کنٹرول حاصل کر لیتے تھے اور زندگی بھر منفی خیالات کی بیخ کنی کے ساتھ مثبت خیالات کی آبیاری کی تگ و دو میں رہتے تھے۔دنیا سے کچھ عرصہ الگ تھلگ ہو کر اپنے خیالات کے بہائوکی سمت کو درست کرنا انبیا علیہم السلام کی سنت ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بکریاں چراتے اور اپنے رب کے بارے غوروفکر کرتے تھے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام غاروں میں جا کر اپنے رب کے بارے سوچتے اور عشقِ الہی میں گریہ و زاری کرتے۔ حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر جاتے تھے۔ اسی طرح آقا محمد عربی ﷺ غار حرا میں جایا کرتے تھے۔ گویا انبیا علیہم السلام اپنے خیالات و تصورات کو اللہ رب العزت کی بارگاہ کی طرف مرتکز کرنے کے لئے اس طرح کی یکسوئی کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
ایک حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ ایک لمحہ کا غوروفکر دو جہانوں کی عبادت سے افضل ہے۔ زندگی اور آخرت کی کامیابی و کامرانی چاہتے ہیں تو سوچنا سیکھیں، اور اس کے بعد استغراق و انہماک پر عبور حاصل کریں۔ آپ کا زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق ہے آپ کو مقاصد پر فوکس کرنا آ گیا تو آپ کامیاب ہونگے۔ آپ کا استغراق اور سوچ و فکر آپ پر زندگی کا ہر ممکنہ دروازہ کھول دیں گے۔ انشااللہ

یہ بھی پڑھیں