Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

فلسطین کا سودا؟ ایمان کا جنازہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
سب سے پہلے عراق کے ایٹمی پلانٹ پرحملہ کرکے اسے تباہ کرنا،اس کے بعدعرب ممالک پر اسرائیلی حملے،لبنان پرحزب اللہ کے خلاف بمباری، غزہ پرروزانہ فضائی حملے،یمن میں آئے دن وحشیانہ حملے، کیایہ سب اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی نہیں ہیں؟کیایہ خطے میں کشیدگی کی آگ بھڑکانے کی سازش نہیں ہیں؟2025ء کے آغاز میں اسرائیل نے شام اورعراق میں ایرانی تنصیبات کونشانہ بنایا،اورایران کے اندرخفیہ کارروائیوں کااعتراف بھی کیالیکن اس کے بعدحالیہ حملوں میں اسرائیل اوراس کے اتحادیوں نے مل کر اس خطے میں جوتباہی مچائی ہے،کیاوہ ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے؟اس وقت ایک ملین سے زائدانڈین اسرائیل کے کرایہ کے سپاہیوں کے طورپرغزہ اوردیگر مسلمان ملکوں پرحملوں کو اپنامذہبی فریضہ سمجھ کرلڑرہے ہیں اورہمارے خلیجی ممالک اب بھی آنکھیں بندکرکے ان کی سرپرستی میں مصروف ہیں۔کیاان شرمناک عمل کے بعدہم ان کی تائیدکرتے ہوئے مسلمانوں کے ازلی دشمنوں کوتسلیم کرتے ہوئے ان کے سامنے سرجھکا دیں؟ یہ فیصلہ ہم نے کرناہے!میں پورے یقین کے ساتھ یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ابراہیمی معاہدے کی آڑ میں مسلم امہ کی تقسیم ایک اورخطرناک ہتھکنڈہ ہے جس کامطلب نہ صرف مسلمانوں کوان کے دین سے برگشتہ کرنابلکہ یہودہنودکے ایجنڈے کومسلط کرنا ہے؟ کیا ہمیں قرآن اورشہداکی زبان کافی نہیں؟ظالموں کی طرف جھکنابھی آگ کودعوت دینا ہے۔(ھود:۱۱۳)
کیااسرائیل کوتسلیم کرنالازم ہوگیاہے؟نہیں ہرگزنہیں تاریخ کے ضمیرپر،قرآن کے حکم پر، اور ملت کی غیرت پریہ فرضِ عین ہے کہ اسرائیل کوتسلیم کرنا،ظلم کی تائید،ناجائزقبضے کی سند اورشہداکے خون کی توہین ہے۔
آئیے قرآن کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ اسرائیل کوتسلیم کرنادینی،اخلاقی،اورسیاسی لحاظ سے درست ہے یاغلط؟
اے ایمان والو!یہوداورنصاریٰ کودوست نہ بناؤ(المائدہ:۵۱)۔ یہ آیت ایک فکری اصول ہے۔ سیاسی لحاظ سے اسرائیل ایک جارح اور ظالم ترین ملک ہےجس نے تمہارے قبلہ اول پر قبضہ کیا،تم ان سے دوستی کیسے کرسکتے ہو؟اقوامِ متحدہ کی درجنوں قراردادوں کی خلاف ورزی کرچکاہے۔بچوں،عورتوں،اوربیگناہوں کاقاتل ہے۔نسل پرستی،دہشتگردی اور فسطائیت کی بدترین اورمکروہ علامت بن چکاہے۔
اب دیکھنایہ ہے کہ کیاحکومت پاکستان عوامی دباؤکامقابلہ کرپائے گی؟جبکہ پاکستانی عوام بیت المقدس کی آزادی کوایمان کامسئلہ سمجھتے ہیں۔اسرائیل کےخلاف ہرسطح پرنفرت رکھتےہیں۔فلسطینیوں کےساتھ قلبی وروحانی رشتہ رکھتےہیں۔اگرحکومت نے اسرائیل کوتسلیم کرنےکا اشارہ بھی دیاتوعوامی مزاحمت،تحریکوں، جلسوں اور دھرنوں کاطوفان آئے گا۔سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو انتخابی نعرہ بنادیں گی۔علمائے کرام،مدارس،اوردینی تنظیمیں سڑکوں پرآئیں گی اوریہی ہمارادشمن چاہتاہے کہ پاکستان کے اندرونی انتشارکواس قدر بڑھا دیاجائے کہ ان کے اندر یکجہتی کوختم کرکے خانہ جنگی کاآغازکرادیا جائے اور اسی کی آڑمیں خاکم بدہن یہ کہہ کر پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات کسی دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں،ان کی حفاظت کےلئےمداخلت ضروری ہوگئی ہے۔بھلاان سے بڑھ کر پاکستان کا اور کون دشمن ہوسکتاہے؟ یادرکھیں کہ پاکستانی عوام کے دل بیت المقدس کی گلیوں میں دھڑکتے ہیں ۔ فلسطینی بچے ہمارے خوابوں میں آتے ہیں اوراگر حکومت نے کسی بین الاقوامی دباؤکے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشس کی،توعوامی بیداری ایک ایسا طوفان بن جائے گی جو مقتدرسمیت سب کچھ بہالے جائے گی۔یادرکھیے!جس طرح ہم ایک لاکھ سے زائد مظلوم کشمیریوں کی شہادتوں کونہیں بھولے اورنہ ہی اس پرخاموش ہیں،اسی طرح ہم فلسطین پر بھی سوداگری نہیں کریں گے۔ہم وہ امت ہیں جسے قرآن نے خیرِامت کہاہے۔
اے اہلِ ایمان!کیاآپ کوبیت المقدس کی مٹی یادہے؟وہی مٹی جس پرنبیوں کے قدموں کے نشان ہیں؟کیاآپ کووہ درودیواریادہیں،جن پر اذانِ عمرکی گونج نقش ہے؟کیا آپ بھول گئے وہ قبلہ اول جس کی طرف ہمارے محبوب نبیﷺنے ہجرت کے بعدسجدہ کیاتھا؟بتائیں کیا وہی سرزمین آج صہیونی ظلم کے بوٹوں تلے روندی نہیں جارہی؟کیا ہم نے غزہ میں معصوم بچوں کی لاشیں نہیں دیکھیں؟کیاہم نےایک باپ کواپنے بیٹے کاکٹاہوابازواٹھاتے نہیں دیکھا؟ کیاہم نے ان کے ہاتھوں پربچوں کے خون آلودہ لاشے نہیں دیکھے؟ کیاہم نے ماں کواپنے شہید بیٹوں کےکفن چومتے ہوئے نہیں سنا،وہ کہہ رہی ہوتی ہیں،اے میرے لعل تجھے تومیں نے حافظِ قرآن بنایاتھاتوتومسجدِ اقصی کاامام بننے والاتھا؟ آپ ہی بتائیں کہ کیاہم اب بھی اسرائیل کودوست کہیں؟کیامعاہدہ ابراہیمی میں امن ہے؟ یا فلسطین کی روح کا قاتلانہ سودا؟
یادرکھیں! پاکستان کامقام امت مسلمہ کی غیرت کے مینارجیساہے،اوروہ مینارجوبپھرتے سمندروں کی لہروں میں بڑے بڑے جہازوں کے راستے کی رہنمائی کرتاہے کہ وہ راستہ نہ بھولیں۔ پاکستان وہ ملک ہے جس کانقشہ بیت المقدس کے لئے بھی کھنچاگیاتھا،پاکستانی وہ قوم ہےجس نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کےخلاف پہلاووٹ دیا،پاکستان وہ ریاست ہے جس کے پاس ایمان،ایٹم،اورامت کی امیدتینوں ہیں۔اگر پاکستان جھک جائے،توصرف ایک ریاست نہیں،پوراعالمِ اسلام زمین بوس ہوجائے گا۔آج وقت کاتقاضاہے کہ ہم حق وباطل کی سرحدپہ ڈٹ جائیں۔ہمیں معاہدہ ابراہیمی کے نقاب میں چھپے صہیونی فریب کوبے نقاب کرنا ہو گا۔ہمیں اپنی نسلوں کےلئےایمان،غیرت اوراخوت کےلئےوہ چراغ بنناہوگاجوظلم کی ہرآندھی کوشکست دے سکیں۔ اگرہم خاموش رہے،توتاریخ کے صفحے ہمارے ضمیر کی لاش سے بھرے ہوں گے، اورجوشخص اسلام کے سواکسی اوردین کاطالب ہوگاوہ اس سے ہرگزقبول نہیں کیاجائے گااورایساشخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا (العمران:۸۵)۔
گویااسرائیل کو تسلیم کرنا،دنیاوآخرت کاخسارہ ہے۔یہ دینی خیانت ہوگی،تاریخی بدعہدی ہوگیاورسیاسی خودکشی ہوگی۔
آج ہم تاریخ کی اس گھڑی میں کھڑے ہیں،جہاں خاموشی خیانت بن جائے گی،جہاں مصلحت بے غیرتی کہلائے گی،اورجہاں ’’دباؤ‘‘کا مطلب ’’ ضمیر کاقتل‘‘ہوگا۔اب یہ فیصلہ آپ کو کرناہے کہ کیاہم اسرائیل کوتسلیم کریں؟کیاہم مسجد اقصیٰ کے غاصبوں سے دوستی کریں؟کیاہم قائداعظمؒ،علامہ اقبالؒ اوراس معجزاتی ریاست کے لئے ملین سے زائد شہداء کے پاکستان کوصہیونیت کےقدموں میں ڈال دیں؟کیاہم قبلہ اول کی غیرت کا سودا کر دیں؟ ہرگز نہیں توپھریادرکھیں، آج جو ہم کہہ رہے ہیں،وہ صرف الفاظ نہیں یہ امت کاعہدہے کہ فلسطین کی آزادی تک ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، اسرائیل کوتسلیم کرنا ہمیں ہرگز منظور نہیں،ہم اپنے بچوں کوکشمیروفلسطین کی محبت کے ساتھ زندہ رکھیں گے:
یہ لاالہ الااللہ کاوعدہ ہے،یہ کربلاکے وارثوں کی پکارہے،نہ بیت المقدس بھولیں گے،نہ فلسطین چھوڑیں گے،نہ اسرائیل کومانیں گے، نہ کشمیرکو فراموش کریں گے اورنہ کسی قرض کے بدلے ایمان بیچیں گے۔آج ہم اس منبرسے ایک صدابلندکرتے ہیں،وہ صدا،جوعلیؓ المرتضیٰ کے لہجے میں غیرت، خالدؓبن ولیدکے تیورمیں جرأت،اورعمرؓبن خطاب کی نگاہ میں عدل بن کرگونجتی ہے اوروہ گونج ہے کہ نہ جھکیں گے،نہ بکیں گے،نہ اسرائیل کوتسلیم کریں گے،اورنہ فلسطین کوفراموش کریں گے کیونکہ ہمیں قرآن نے سکھایاہے:
کمزور نہ پڑو، غم نہ کرو،تم ہی غالب ہواگرتم مومن ہو۔(العمران:۱۳۹)

یہ بھی پڑھیں