Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

عالمی حالات اور قربِ آخرزمان کی ابتدائی نشانیاں

آخر الزمان بیداری کا وقت مایوسی کا نہیں۔ہم اس عہد میں زندہ ہیں جسے قرآن اور احادیث نے آخر الزمان یعنی قیامت سے قبل کا دور قرار دیا۔ یہ وہ وقت ہے جب مادی ترقی اپنی انتہا کو پہنچ چکی، مگر روحانی زوال اتنا شدید ہے کہ انسان چاند پر پہنچ چکا ہے لیکن دل تاریک، آنکھیں نابینا، اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح بھیجے گئے ہیں‘‘
(صحیح بخاری: 4936)
یہ وقت غفلت نہیں، بلکہ بیداری، تفکر، رجوع الی اللہ، اور دلی سجدوں کا ہے۔
امت مسلمہ کا زوال کثیر تعداد مگر ایمان کمزور۔ (سنن ابی دائود: 4297 صحیح)
امت آج ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے، مگر روح و دل کے بغیر نہ وحدت، نہ قیادت، نہ خودی۔قرآن کو صرف تبرک بنا دیا گیا، عشقِ رسول ﷺ کو نعرہ، اور علمِ دین کو تجارت۔
اخلاقی، معاشرتی، اور روحانی گراوٹ (صحیح بخاری و مسلم)
آج فحاشی کو فن اور بے پردگی کو فیشن سمجھا جاتا ہے ‘سوشل میڈیا نے فتنہ، حسد، تکبر، اور بے حیائی عام کر دی ‘علم کی قدر ختم، صرف ڈگری کی دوڑ باقی‘ر وح کی پیاس بجھانے والا کوئی نہیں، نفس کی غلامی عام۔
علم کا خاتمہ، جاہلوں کا غلبہ(صحیح بخاری)
یوٹیوب کے علماء، شہرت کے پیاسے علمائے حق پسِ پردہ، اور علمائے سو حاوی ‘فتوے باز، گمراہی کے تاجر عام اخلاص ناپید، تبلیغ بس نام کی فکر۔
سودی نظام، سرمایہ داری، اور فقر کا فتنہ- مال بے برکت۔(البقرۃ : 276)
سود کے 70 درجے ہیں، سب سے ہلکا ایسا ہے جیسے ماں سے زنا کرنا(ابن ماجہ ‘ صحیح)
عالمی معیشت آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے شکنجے میں‘قومیں قرضوں میں جکڑی، خودمختاری نیلام۔ غربت میں اضافہ، دولت چند ہاتھوں میں اور کرنسی بے قدر اور بے برکت سود کا اثر۔
عالمی فتنہ، جنگی خوف، اور تباہی کا سایہ (صحیح مسلم)
روس و یوکرین، ایران و اسرائیل، شام و فلسطین ہر طرف آگ۔ تیسری عالمی جنگ کا امکان ملحمہ کبری کے آثار‘ تباہی کی گھنٹی بج چکی۔ عالمِ اسلام بے خبر۔
وقت کی تیزی، برکت کا زوال ۔(صحیح بخاری)
دن ہفتے بن گئے ہفتے لمحے بن گئے‘وقت تیز، سکون نایاب ‘انسان پریشان اور ، دل بیزار۔
جدید فتنہ: AI، Metaverse کا منفی استعمال اور ڈیجیٹل غلامی (مسند احمد)
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل کنٹرول انسان کی آزادی پر حملہMetaverse، Surveillance، Algorithms کے منفی استعمال میں دجالی نظام کی جھلک ‘علم بغیر بصیرت، علم بغیر ہدایت‘گمراہی8قرب قیامت کی صغری نشانیاں جو ظاہر ہو چکیں۔
نشانی موجودہ مشاہدہ ‘فحاشی اور بے حیائی عام اور مقبول رقص و موسیقی فن و ثقافت کا نامسود و حرام مالی نظام کا حصہ‘شراب وزنا جائز اور عام‘ علمائے حق پوشیدہ اور دبے ‘جاہل راہنماسامنے اور مشہور۔
بشارت: بیداری کی صدا سنائی دے رہی ہے نوجوان نسل قرآن، سیرت، روحانیت کی طرف مائل ہو رہی ہے ‘ دلوں میں تجسس، فہم قرآن کی پیاس بڑھ رہی ہے‘ قافلہ امام مہدی کے آثار دلوں میں امید‘حضرت عیسیؑ کی بشارتیں روحوں کو جگا رہی ہیں۔
اختتامی روحانی صدا: وقت کی پکاریہ وقت خوف کا نہیں، بیداری کا ہے۔یہ وقت مایوسی کا نہیں، امید کا ہے۔یہ وقت غفلت کا نہیں، رجوع کا ہے۔ قرآن ہاتھ میں، دل سجدے میں، اور نگاہیں انتظار امام مہدیؑ و حضرت عیسیٰ ؑ کے نورانی قافلوں پر ہوں۔اللہ کی رحمت ابھی بھی قریب ہے۔جو جاگ گیا وہ بچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں