Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

جب عدل خاموش ہوجائے،توتاریخ چیختی ہے

(گزشتہ سے پیوستہ)
آج امت مسلمہ ایک دوراہے پرکھڑی ہے۔ایک طرف قومی مفادات،وقتی معاہدے اوراقتصادی وابستگیاں ہیں،تودوسری طرف امت کا اجتماعی ضمیر،عقیدہ،نظریہ اوربقا۔اگر اب بھی ہم نے خاموشی اختیارکی،توکل ہمارے شہروں میں وہی دشمن ہماری ہی صفوں سے ہماری بنیادوں کو کھوکھلاکرتادکھائی دے گا۔
اب وقت آگیاہے کہ عالم اسلام،خاص طور پرخلیجی قیادت،اس گٹھ جوڑکے خلاف ایک واضح، دوٹوک اورمتحدموقف اختیارکرے۔ یہود و ہنود کی اس باہمی رفاقت کامقابلہ صرف اس وقت ممکن ہے جب مسلمان ممالک معاشی،عسکری اور سفارتی محاذپربھی اتحادو یکجہتی کامظاہرہ کریں۔ قرآن ہمیں خبردارکرتاہے:
یہودونصاری تم سے ہرگزراضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پرنہ چلنے لگو۔ (البقرہ:120)
یہ آیت آج کے عالمی منظرنامے میں ایک ناقوسِ خطربن کرگونج رہی ہے۔اگراب بھی امتِ مسلمہ خوابِ غفلت میں رہی،تووہ دن دور نہیں جب دشمن ہمارے گھروں کے اندرتک آکرہمیں کمزورکردے گا۔
اسلامی تعلیمات دشمن کی پہچان،اس سے محتاط رویہ،اورامت کے مفادات کی حفاظت پر زور دیتی ہیں۔جب دشمن کھلے عام مسلمانوں کے خلاف عسکری اورجاسوسی اقدامات کرے تواس سے تعلقات جاری رکھناصریح منافقت اورامت کے مفاد سے خیانت ہے۔اسلام دشمن کے ساتھ تعلقات میں نرمی کی اجازت دیتاہے جب تک وہ ظلم نہ کرے۔لیکن جب دشمن کھلے طورپر مسلمانوں کے خلاف صف آراہو،توخاموشی خیانت کے مترادف ہوجاتی ہے۔قرآن کہتاہے:اے ایمان والو یہوداورنصاری کودوست نہ بناؤوہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اورجوکوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تووہ ان میں سے ہے اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا (المائدہ:51)
یہ آیت ہمیں خبردارکرتی ہے کہ مسلمانوں کودشمنوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات نہیں رکھنے چاہئیں،خصوصاًجب وہ مسلمانوں کے خلاف محاذآرائی پراترآئیں۔ اسلامی اصول واضح ہیں: امت کے مفادکوہرقومی وتجارتی مفادپرترجیح حاصل ہے۔جب دشمن مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ میں مصروف ہو،توان سے اتحادحرام کے درجے میں پہنچ جاتاہے۔
آج امت مسلمہ ایک دوراہے پرکھڑی ہے: ایک طرف قومی مفادات،وقتی معاہدے اوراقتصادی وابستگیاں ہیں،تودوسری طرف امت کااجتماعی ضمیر،عقیدہ،نظریہ اوربقا۔اگراب بھی ہم نے خاموشی اختیارکی،توکل ہمارے شہروں میں وہی دشمن ہماری ہی صفوں سے ہماری بنیادوں کو کھوکھلاکرتادکھائی دے گا۔وقت آگیاہے کہ مسلمان قیادت عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے یہودوہنود کے اس ناپاک اتحادکے خلاف ایک جرأت مندانہ اوردوٹوک مؤقف اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتاہے:
اے ایمان والو!عدل پرقائم رہو،اللہ کیلئے گواہی دینے والے بنو۔(المائدہ:8)
٭خلیجی قیادت کوچاہیے کہ وہ بھارتی ورکرز، بھارتی سیکیورٹی کمپنیز،اوربھارتی اداروں کے کردارکاازسرِنوجائزہ لے اورغیر جانبدارانہ انٹیلی جنس رپورٹنگ کے تحت پالیسیاں مرتب کرے ۔
٭خلیجی ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی پرنظرثانی کرتے ہوئے جن بھارتی کمپنیوں کا اسرائیل یادشمن طاقتوں سے براہِ راست تعلق ہے،ان پر پابندیاں عائد کی جائیں یاان سے وابستگی کوختم کیاجائے۔
٭عوامی دبائوکومؤثرپالیسی میں بدلنے کیلئے سوشل میڈیا،عوامی فورمزاورخطبہ جمعہ جیسے ذرائع سے عوامی شعورکوبیداررکھا جائے تاکہ حکومتیں بھی اپنی روش بدلنے پرمجبورہوں۔
٭اسلامی ممالک کی تنظیم کوفوری طور پر ان معاملات پرایک ہنگامی اجلاس طلب کرنا چاہیے تاکہ اجتماعی موقف اورمشترکہ لائحہ عمل اختیارکیاجاسکے۔
اقوام متحدہ اوریورپی یونین کے بیانات اگرچہ بظاہرمظلوموں کے حق میں دکھائی دیتے ہیں،لیکن ان کاعملی رویہ اکثرمنافقانہ ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ ہویایورپی یونین،بیشترعالمی ادارے محض بیانات پراکتفاکررہے ہیں۔اس لئے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اقوام متحدہ اوریورپی یونین کی طرف سے غزہ کے معاملے پرجوبیان بازی ہوتی ہے،وہ اکثرمنافقت کی حدوں کوچھوتی ہے۔عالمی سطح پر انسانی حقوق کے علمبردارادارے کبھی کبھار اس تشددکوصرف لفظی مذمت میں محصور کر دیتے ہیں،جس سے اسرائیل کواپنی نرغے بازی جاری رکھنے کی جرات ملتی ہے۔حقائق یہ ہیں کہ یہ عالمی ادارے ایک ایسے کھیل کاحصہ ہیں جہاں طاقتوروں کے مفادات کی آڑمیں مظلوم کی دادرسی پس پشت ڈال دی جاتی ہے۔
اسرائیل کومہلک ہتھیارفراہم کرنے والے بھی یہی ہیں اورامن کی قراردادیں پیش کرنے والے بھی۔اس دوغلی پالیسی نے بین الاقوامی نظامِ انصاف کومذاق بنادیاہے۔ایسے میں فلسطینیوں کی دادرسی کی بجائے،انہیں صرف ’’تشویش‘‘یا’’گہری نظر‘‘جیسے کھوکھلے الفاظ کے سہارے تسلی دی جاتی ہے۔مغربی دنیا،جویوکرین میں انسانی حقوق کی دہائی دیتی ہے ، فلسطینی عوام کے حق میں کھل کربولنے سے گریزاں ہے۔بھارت کااسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی ضمیرپرایک بدترین داغ بھی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی چیمپئن بھارت کی اس شمولیت پرخاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
مودی حکومت کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں رجحان اسرائیل نوازی ہے۔یہ اتحادمحض عسکری یامعاشی بنیادوں پرنہیں بلکہ نظریاتی ہم آہنگی پرمبنی ہے۔ہندوتوااورصیہونیت دونوں ایک ہی سوچ کوفروغ دیتے ہیں۔مودی حکومت کی پالیسیاں نہ صرف ہندوتواکے نظریے سے مکمل طورپرسرشارہیں بلکہ مودی سرکارکی حکمت عملی درحقیقت ہندوتوااورصیہونیت کے اتحادکی ایک سنگین مثال ہے۔جہاں ایک طرف وہ بھارتی قوم پرستی کوبنیادبناتے ہوئے مسلمانوں کوسیاسی اور سماجی میدان میں تنہاکرنے کی کوشش کرتا ہے، وہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوگہرائی دے کر عالمی سطح پرایک مشترکہ نظریاتی اورعملی اتحاد قائم کررہاہے۔یہ گٹھ جوڑنہ صرف بھارت کے اندرفرقہ وارانہ خلیج کوبڑھارہاہے بلکہ خطے کی سلامتی کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔
یہی وہ نظریہ ہے جوبھارت کوایک ہندو ریاست میں بدلنے کاخواب دیکھتاہے۔اسی خواب کی تکمیل کیلئے اسرائیل کی صیہونی ریاست سے گہری ہم آہنگی پیداکی گئی ہے۔دونوں حکومتیں اپنے اپنے اقلیتوں کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال،میڈیاکنٹرول،اور نفرت انگیز نظریات کی ترویج میں مصروف ہیں۔مذہبی برتری،اقلیت دشمنی اورطاقت کے ذریعے تسلط۔ غزہ میں جاری نسل کشی پربھارتی خاموشی بلکہ عملی شرکت اسی سوچ کاعملی مظہرہے۔یہودوہنودکایہ گٹھ جوڑنہ صرف جنوبی ایشیابلکہ مشرقِ وسطی کی سیاست میں بھی نیاعدم توازن پیداکررہاہے۔
آج جب دنیامختلف تنازعات سے دوچار ہے،فلسطین کامسئلہ ایک ایساآئینہ بن چکاہے جس میں ہرملک کااصل چہرہ نمایاں ہورہاہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی کبھی انصاف کی راہ ہموارنہیں کرتی۔انسانیت کاتقاضا ہے کہ عالمی برادری،اقوام متحدہ،اورہرآزادضمیروالے فرد کواس انسانی المیے کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرناصرف ایک سیاسی مؤقف نہیں،بلکہ ایک اخلاقی اوردینی فرض ہے۔ جسے نظراندازکرناانسانی ضمیرکی موت کے مترادف ہے۔
یہ وقت خاموش رہنے کانہیں۔غزہ میں بہتاخون،فلسطینی بچوں کی چیخیں،اوردنیاکی بے حسی،ہمیں جھنجھوڑرہی ہیں۔انسانیت کا تقاضاہے کہ ہم مظلوموں کاساتھ دیں،انصاف کے حق میں آواز بلندکریں،اورظالموں کے خلاف ہرسطح پرمخالفت کریں۔یہ فقط فلسطین کی جنگ نہیں،بلکہ انسانیت کے وقاراورضمیرکی بقاکی جنگ ہے۔ بھارت،جوخودکودنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے،اس ظلم میں شریک ہوکرنہ صرف اپنے آئینی اصولوں کی توہین کررہاہے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ بن چکاہے۔انسانیت کا تقاضا ہے کہ دنیابھارت کے اس کردارکوبے نقاب کرے اورفلسطینی عوام کے حق میں کھل کر آواز بلندکرے۔
یوں تاریخ کاوہ کارواں جوظلم وستم کی وادیوں سے ہوکرگزرتاہے،ایک دن ضرور انصاف کی بلندیوں کوچھوئے گا۔غزہ کی زمیں پربہتاخون رائیگاں نہیں جائے گا،اورمودی سرکار کی صیہونی گٹھ جوڑکی سازشیں دنیاکی روشن آنکھوں سے پوشیدہ نہیں رہیں گی۔اس قصے کاانجام وہی ہوگاجوہمیشہ ہوتاآیاہے۔ظالموں کوعبرت کی نظرسے دیکھاجائے گااورمظلوموں کوان کاحق ملے گا۔یہ وقت ہے کہ ہم سب اپنے ضمیرکی آوازسنیں اوراس صدی کے اس ظلم کے خلاف بلندآوازمیں اعلان کریں کہ جوظلم کرے گا، تاریخ اسے معاف نہیں کرے گی۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں