(گزشتہ سے پیوستہ)
اورجب اس ظلم پرامریکاجیسے مدعیانِ تہذیب وتمدن خاموش رہیں،بلکہ اپنے اسلحہ واثرسے اس ظلم کی آبیاری کریں، اورجب اس ظلم پر امریکہ خاموش نہیں بلکہ سرگرمِ تعاون ہو، اسلحہ مہیا کرے، دفاعی قراردادوں کو ویٹو کرے، اوراسرائیل کی ہردرندگی کو ’’حقِ دفاع‘‘ کانقاب پہناکرعالمی ضمیر کو دھوکہ دے،توپھریہ صاف ظاہرہوتاہے کہ دنیااب دوواضح کیمپوں میں بٹ چکی ہے تووقت کامرخ سوال کرتاہے کہ یہ عالمی ضمیرکس خواب خرگوش میں مدہوش ہے؟ کیایہی وہ عالمی اقدارہیں جن کے نام پردنیاکوماضی میں درسِ انسانیت دیاجاتارہا؟ کیا یہی وہ ’’جمہوریت”ہے جوفلسطینی بچوں کی لاشوں پراپنے جھنڈے گاڑکرجشن مناتی ہے؟ایک طرف وہ جو مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں،اور دوسری طرف وہ جو ظالموں کی پشت پرنیزہ بردار ہیں،اپنی آئندہ نسلوں کیلئیکیاپیغام چھوڑکر جارہے ہیں۔
یادرکھیں!جب تاریخ کے اوراق گرد آلود ہوکرپلٹتے ہیں،توخون کی روشنائی سے لکھی گئی سطریں صدیوں تک چیختی رہتی ہیں۔غزہ کی اجڑی ہوئی گلیاں،یتیم بچوں کی آہیں،اور چھتوں سے بے نیاز،دھوپ اوربارودمیں لپٹی مائیں،گواہ ہیں اس ظلم کی جسے مودی جیسے نسل پرست حکمرانوں کی سیاسی قہقہوں نے نہ صرف روا رکھا بلکہ ننگِ انسانیت کے منصب پر فائز ہو کر اس کی پشت پرایک ملین ہندوانہ فوجی مظالم کااضافہ کیاایسا اضافہ جسے انسانیت کاکوئی دستور، عقل کاکوئی پیمانہ،اور شرافت کاکوئی اصول تسلیم نہیں کرتا۔
خلیجی ریاستوں کی خاموشی،ان کاسفارتی بے حسی سے لبریزسکوت،اورمجرمانہ چشم پوشی اس مقام پرآپہنچی ہے جہاں امتِ مسلمہ کے قلوب واذہان میں اضطراب کی چنگاریاں بھڑکنے لگی ہیں۔عوامی بیداری کی صداسوشل میڈیاکے دجلہ وفرات میں بہتی ہوئی،اب کسی طوفان کی تمہیدبنتی جارہی ہے۔ایک ایساطوفان،جس نے شاہی خیموں کی ریتلی بنیادوں کولرزادیاہے،اورجس کومجرمانہ سیاسی مصلحتوں کی کالی چادروں نے ڈھانپ رکھا ہے۔خلیجی ممالک،جنہیں حرمین کی نسبت،امت کی قیادت،اورتیل کی دولت نے ایک اخلاقی وسیاسی ذمہ داری عطاکی تھی، وہ جب غزہ کے بچوں کے نوحے سن کربھی لب کشائی نہ کریں، اوراسرائیلی مظالم پرایک مذمتی بیان دینابھی گوارا نہ کریں،تووہ صرف اپنی حکومتی چادریں داغدار نہیں کرتے،بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کو بھی زخمی کرتے ہیں۔ ان کی یہ خاموشی اس مجرمانہ غفلت کی مظہرہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔آج ان ممالک کی عوام سوشل میڈیاکے دروبام پرسوالات کی بارش کررہی ہے،اوراگریہ سوالات دیر تک ان سروں کے اوپرمنڈلاتے رہے، توکل یہ بارش طوفان بن کرمحلات کی بنیادوں کوبہا لے جائے گی۔
مگر مکافاتِ عمل کی راہ میں کوئی دربان نہیں ہوتا۔یورپ،جسے ہم اکثر مصلحت پسند اور منافق کہتے آئے ہیں، وہاں کی جامعات، طلبہ اورباضمیرافرادنے وہ اخلاقی جرات دکھائی ہے جس کی امیدہمیں اہلِ قبلہ سے تھی۔فرانس جیسے ممالک کافلسطین کوتسلیم کرنے کافیصلہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ عوام کااجتماعی ضمیر اگر بیدار ہوجائے،توایوانِ اقتدار کے ستون لرزنے لگتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جسے ہم بیداری کی ابتداکہہ سکتے ہیں،اگرہم نے اس کی قدرنہ کی،تویہ شعلہ بجھ کرصرف راکھ چھوڑجائے گا۔
آنے والی نسلیں،جب ان لمحات پر نظر ڈالیں گی،توتاریخ کاترازوہاتھ میں لیے سوال کریں گی:
اے عالمی راہبرو!تم نے ظلم کے خلاف کیاکیا؟
اے مسلم حکمرانو!تم نے مظلوموں کا ساتھ دیایا قاتلوں کی میزبانی؟
اے اہلِ علم ودانش!تمہارے قلم،تمہاری تقریریں،اورتمہارے فتوے کہاں دفن ہوگئے تھے؟
یہ سوالات ہم سے بھی ہوں گے۔ ہم،جوآج قلم تھامے بیٹھے ہیں،جوزبان رکھتے ہیں،جواحتجاج کی رمق رکھتے ہیںہم اگرخاموش رہے توہم بھی اسی صف میں کھڑے تصورکیے جائیں گے جہاں مصلحت کے نام پرغیرت بیچ دی جاتی ہے، اورخاموشی کوعقلمندی کانام دیا جاتا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم تاریخ کی سمت بدلنے والے کرداروں میں اپنانام درج کروائیں۔یہ صرف غزہ کامقدمہ نہیں،یہ انسانیت کی بقا،تہذیب کامستقبل،اورامتِ مسلمہ کی عزت وناموس کا سوال ہے۔جوآج خیمہ ظلم کے سائے میں خاموش کھڑاہے،کل وہ عدل کے ایوان میں مجرموں کی صف میں کھڑاہوگا۔
مگرمکافاتِ عمل اپنے خدادادتوازن سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ فرانس، آئرلینڈ، اوردیگریورپی ممالک کے وہ طلبہ وطالبات ،جنہوں نے اپنی جامعات کواحتجاج کاقبلہ بنادیا،وہی اس تبدیلی کااستعارہ بن گئے جس نے بالآخران کی حکومتوں کو فلسطین کوتسلیم کرنے پرمجبور کردیا۔گویامغرب کے ضمیرکی خاکسترمیں اب بھی کچھ چنگاریاں سلگتی ہیں،جوعدل و حق کی شمع روشن کرنے کاحوصلہ رکھتی ہیں۔
آنے والی نسلیں جب اس عہدِ ستم پرنظرڈالیں گی،تومودی،نیتن یاہو،اوران کے عالمی پشت پناہوں کے نام تاریخ کے اس اوراق میں ہوں گے جہاں یزید،ہلاکو،اورچنگیزجیسے استبدادی سائے منہ چھپائے کھڑے ہوں گے۔اوروہ نسلیں یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب انسانیت کا گلا گھونٹاجارہاتھا،تم کہاں تھے؟جب پلٹ کرتاریخ کاجواب میں ان کے آبااجدادکانام لے گی تووہ ندامت کے کس سمندرمیں غرق ہوں گے۔ اوراگرہم نے آج بھی اپنی آوازبلند نہ کی،توکل ہماری خاموشی ہماری شناخت بن جائے گی ،ایک ایسی شناخت جو شرمندگی سے بھرپور،تاریخ کے ہاشیوں میں محوماتم ہو گی۔