غزہ کی مٹی آج بھی جل رہی ہے۔وہاں کی ہوائیں بارودکی بوسے آلودہ ہیں،آسمان بچوں کی سسکیوں سے بوجھل ہے،اورزمین ماں کے آنسوئوں سے شرمندہ۔اسرائیلی بمباری نے جسموں کونہیں، انسانیت کوچیردیاہے۔غزہ میں ایک ماں اپنے بچے کی لاش کودیکھ کرخاموش ہے۔اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں،کیونکہ آنسوختم ہوچکے ہیں۔اس کے چہرے پر چیخ بھی نہیں،کیونکہ چیخیں اب کسی کوجھنجھوڑتی نہیں۔غزہ کی تباہ حال گلیوں میں آج بھی معصوم بچوں کی لاشیں ملبے تلے دبی ہیں،ان ماں کے بین گونجتے ہیں جنہوں نے صرف اپنے بچوں کے کھلونے دفن کیے۔ساری دنیاکے کیمرے،رپورٹر،سربراہانِ مملکت اوراقوامِ متحدہ کے اجلاس سب یہ منظردیکھ چکے ہیںمگرجونہیں دیکھ پایاوہ ہے فلسطینی سرزمین پربہتا خون ،تباہ شدہ مکانات،زخمی بچے،سسکتی عورتیں اوردھوئیں میں لپٹاآسمانیہ کوئی اتفاقی سانحہ نہیں،بلکہ ایک منظم نسل پرستی،دانستہ امتیاز اور سفارتی منافقت کانتیجہ ہے۔بلکہ یہ انسانیت کاوہ جنازہ ہے جوایک منظم نسل پرستی،دانستہ امتیازاورسفارتی منافقت کے نتیجہ میں ساری دنیاکے کندھوں پرلاد دیا گیا ہے۔
غزہ کی سرزمین جوآج بھی بے گناہ انسانی خون سے ترہورہی ہے،جہاں نہتے فلسطینی بچوں،خواتین اوربزرگوں کوجدیدترین اسلحہ اوربارودسے نشانہ بنایاجا رہا ہے۔گارڈین اخبار کے مطابق 64،260 فلسطنی شہید ہو چکے ہیں اورطویل المدتی اثرات (بیماری، غذائی قلت وغیرہ) کے باعث ہلاکتیں چارگناتک 186،000 تک پہنچ سکتی ہیں۔ان شہدا میں19ہزارسے کہیں زیادہ بچے، 12،500 خواتین اورباقی مردشامل ہیں۔ ’’ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اورلانسٹ‘‘کے مطابق اسرائیل کے ہاتھوں مجموعی ہلاکتیں کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں،خاص طورپرجب غیرمنقسم اموات (بیماری، غذائی قلت، صحت کی سہولیات کی تباہی وغیرہ)کو شامل کیا جائے۔اس جنگ نے صرف فوری مارپیٹ سے انسان کانقصان نہیں کیا،بلکہ گھنٹوں تک جاری بھوک،بیماری اوربنیادی ڈھانچے کی تباہی نے بھی ایک کل وقتی انسانی بحران پیداکیاہے۔
اس ظلم کی داستان محض اسرائیلی جارحیت تک محدودنہیں،بلکہ اس میں عالمی قوتوں کے علاوہ بھارت کی مودی سرکارکابھی واضح اورمجرمانہ کردارسامنے آیاہے۔ اطلاعات کے مطابق ،بھارت نے اسرائیل کوایک ملین کے قریب افراد بھرتی کرکے دیے ہیں جوبراہ راست یابالواسطہ طورپرفلسطینی عوام کے قتل عام میں شریک ہورہے ہیں۔یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی ضمیر کے لئے ایک کھلاچیلنج بھی ہے۔ایسے میں مودی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ اس سطح کاعسکری اشتراک اس ’’جرم عظیم‘‘ کاناقابلِ انکارحصہ بن جاتاہے،جس میں انسانیت سسک رہی ہے اورانصاف خاموش ہے۔
اسرائیل نے نسل پرستی کوجس ڈھنگ سے اپنایا ہے وہ اب کسی سے پوشیدہ نہیں۔یہ وہی روش ہے جوجنوبی افریقاکی سفید فام اقلیت نے سیاہ فام اکثریت کے خلاف اختیارکی تھی ۔ جس طرح جنوبی افریقامیں سوویٹو ظلم کے خلاف علامت بن گیاتھا،آج غزہ ویساہی فلسطینی جدوجہدکاایک استعارہ بن چکاہے۔جس طرح سوویٹوختم ہوا، دنیانے نسلی امتیازکے اس نظام کوزمیں بوس ہوتے دیکھا، اسی طرح اسرائیل میں بھی نسل پرستی پرمبنی نظام کے خاتمے کی امیدکی جارہی ہے اوراب یہ امیدپہلے سے کہیں زیادہ قوی ہوچکی ہے۔ 21مارچ 1960ء کوشرپے ولے میں سیاہ فام مظاہرین پرگولیاں برسائی گئیں۔16جون 1976ء کوسوویٹومیں بچوں کونشانہ بنایاگیااور پھر2018میں،غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کوگولیوں کا سامنا کرنا پڑا مگر اب 2023اور2024ء کے بعداسرائیل کی کارروائیاں کہیں زیادہ شدیداوربے نقاب ہوچکی ہیں۔
جنوبی افریقامیں سیاہ فاموں کوریاستی سطح پر الگ کیاگیا،بنیادی حقوق سے محروم رکھاگیا،اورانہیں ووٹ تک کاحق نہ دیاگیا۔ اسرائیل نے بھی فلسطینیوں کوشہریت سے محروم رکھا (خصوصاً غزہ، مغربی کنارے کے باشندوں کو)آزادنقل وحرکت، روزگار، تعلیم وعلاج جیسے بنیادی حقوق سے محروم کیا،الگ تھلگ بستیوں میں محدودکیا۔جنوبی افریقا میں بنٹواسٹین بنائے گئے،اسرائیل نے’’پیلسٹینین اتھارٹی‘‘کواسی طرزپرمحدودخودمختاری دی۔اسرائیل آج بھی فلسطینیوں کوان ہی حقوق سے محروم کررہاہے جن سے جنوبی افریقامیں سیاہ فاموں کو رکھا گیاتھا۔
ووٹ کاحق محدود،نقل وحرکت پرپابندیاں، معاشی محاصرے،صحت،تعلیم،روزگارتک محدود رسائی جیسے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کرکے غزہ کو ایک بہت بڑی جیل میں منتقل کردیا گیا ۔2024ء کی جنگ کے بعدعالمی اداروں نے متواتررپورٹ کیاہے کہ غزہ ایک ’’ناقابلِ رہائش‘‘ علاقہ بن چکا ہے۔دوائیں ناپید،پانی آلودہ،اوربنیادی ڈھانچہ ملبے کاڈھیربن چکاہے۔ اسرائیل کی پابندیوں اورمحاصرے نے لاکھوں جانوں کوخطرے میں ڈال دیاہے۔غزہ کی صورتحال اب انسانی بحران سے کہیں آگے جاچکی ہے۔
آج بھی اسرائیل کی پالیسیوں کے مدافعین موجود ہیں،جیسے کہ رچرڈگولڈاسٹون،مگروہ آوازیں اب اقلیت میں ہیں۔جنوبی افریقا کے نوبل انعام یافتہ ڈیسمنڈٹوٹوکے مطابق ’’اسرائیل کی پالیسی وہی ہے جوجنوبی افریقاکی نسل پرست حکومت کی تھی‘‘۔اب یہ رائے دنیا بھرمیں تقویت پکڑچکی ہے۔اسرائیل نے1948ء میں جن سات لاکھ عرب باشندوں کوان کی سرزمین سے بے دخل کیا،آج ان کی اولادیں غزہ،اردن، لبنان، شام اور مغربی کنارے میں مہاجرت کی زندگی گزاررہی ہیں۔جب یہ فلسطینی مارچ فارریٹرن کے تحت اپنی زمینوں کی طرف بڑھتے ہیں، توانہیں گولیوں سے روکا جاتا ہے۔بین الاقوامی قانون کے مطابق،ہربے دخل شدہ قوم کواپنی آبائی سرزمین کی طرف واپسی کاحق حاصل ہے۔
2023-2025 ء کے دوران، دنیانے فلسطینی ریاست کے حق میں ایک نئی لہردیکھی ہے۔ امریکاکی جامعات سے لے کر یورپ کی پارلیمانوں تک، اسرائیل پردبامیں اضافہ ہواہے ۔ کئی ممالک نے اسرائیلی مظالم کو’’ناقابل برداشت‘‘قراردیاہے،جسے جنوبی افریقا کی طرزپرتسلیم کیاجارہاہے۔
اب سوال یہ نہیں رہاکہ اسرائیل کوکیاکرنا چاہیے، بلکہ یہ ہے کہ اب کتنی دیراورظلم برداشت کیا جائے گا؟اگراسرائیل دوریاستی حل سے گریزاں ہے،تو اسے جنوبی افریقاکی طرزپر ایک مشترکہ ریاست کاماڈل اپناناہوگاجہاں ہرفردیہودی،مسلمان،یامسیحیبرابری کے حقوق سے بہرہ ورہولیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیل کی موجودہ حکومت،خاص طورپر وزیر اعظم نیتن یاہواور اس کے اتحادی،مساوی ریاست کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔2024ء میں بیت المقدس، غرب اردن اورنیجیف میں جونئی بستیاں قائم کی گئیں،وہ واضح اشارہ دیتی ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کومزید پسپا کرنا چاہتا ہے۔
2024ء کی جنگ میں اسرائیلی درندگی اور انسانیت سوزمطالم نے غزہ کوکھنڈرمیں تبدیل کردیا۔ ہسپتال، سکول،پناہ گاہیں تک نشانہ بنیں۔ہزاروں شہری،جن میں بچے اورخواتین بھی شامل ہیں،جاں بحق ہوئے۔عالمی میڈیا،سوشل میڈیااورعینی شواہدنے ان مظالم کو پوری دنیاکے سامنے لاکھڑاکیا۔یورپ اورامریکا کی جامعات میں پڑھنے والی نئی عالمی نوجوان نسل کادباؤ،بالخصوص یہودی نوجوان بھی،اب اسرائیلی بیانیے کومسترد کرنے لگے ہیں۔طلبہ مظاہرے، بائیکاٹ مہمات اورعوامی احتجاج نے یورپی سیاستدانوں کومجبورکیاکہ وہ اسرائیل کی کھلی حمایت کوترک کریں۔
لیکن اب منظربدل رہاہے۔وہ یورپ،جوکبھی اسرائیل کاخاموش حمایتی تھا،اب فلسطین کے حق میں بول رہاہے۔فرانس،اسپین،آئرلینڈ جیسے ممالک فلسطین کوتسلیم کررہے ہیں۔یہ صرف سفارتی فیصلہ نہیں،بلکہ یہ اس بچے کے آنسوؤں کاجواب ہے،جس کاکھلونا خون میں لت پت ہوا۔یہ ان گمنام قبروں کااعتراف ہے،جوتاریخ کے ہرورق پراسرائیلی جارحیت کانشان چھوڑگئی ہیں۔یہ کہانی صرف فلسطین کی نہیں،یہ ہراس انسان کی ہے جسے اس کی شناخت،نسل،مذہب یازمین کے نام پررونددیاگیا۔یہ کہانی ختم نہیں ہوئی،لیکن شایدایک نیاباب شروع ہونے والاہے۔یورپی عوامی دبا،طلبہ اورسول سوسائٹی کافلسطین کے حق میں بھرپوراحتجاج، اسرائیلی حکومت کی دائیں بازوپالیسیوں پرعالمی برہمی اور امریکاکی خاموشی اوردوہرے معیارنے یورپ کوخودمختارفیصلے لینے پرمجبورکیا۔
(جاری ہے)