آپریشن سندور بھارت کی ایک عبرتناک غلطی ثابت ہوا۔ پاکستان پر جارحیت دراصل بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھی۔ اس کے نتائج کی ’’مکھیاں‘‘ کسی پل اسے چین نہیں لینے دے رہیں۔ زخم خوردہ چہرہ اور انا اس کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن چکے ہیں۔ جھوٹ پر مبنی پہلگام کے واقعے کو جواز بنا کر بھارت نے پاکستان کی خود مختاری پر اندھا دھند حملہ کیا۔ اسے اپنی فوجی طاقت، برتری، معیشت اور بین الاقوامی ساکھ پر بے پناہ غرور تھا۔ کمزور ہمسایوں کو دبانا اس کی عادت تھی اور تقریباً سب کے ساتھ اس کے سرحدی و داخلی تنازعات موجود تھے۔
بھارت ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ٹھکرا دیتا ہے، جس کی بدترین مثال جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور اس کی ریاستی حیثیت کا خاتمہ ہے۔ جوہری، عسکری اور معاشی طاقت کے نشے میں وہ پاگل ہاتھی کی طرح برتائو کر رہا تھا۔ اس کا بڑا سبب بی جے پی اور آر ایس ایس کا اقتدار پر قابض ہونا ہے، جو ’’ہندوتوا‘‘ کے خواب کو پورا کرنے کے لیے ہر جابرانہ حربہ آزما رہے ہیں۔ بھارت میں اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے، ان کی مذہبی و شہری آزادی سلب کر لی گئی ہے اور آئے روز ان کی جان و مال اور عزت پر حملے ہوتے ہیں۔ آر ایس ایس کے غنڈے، جن کی پشت پر مودی سرکار ہے، کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں کہ بھارت میں سکون سے رہنا ہے تو ہندو بننا پڑے گا۔ سب سے زیادہ نشانہ مسلمان ہیں، پھر عیسائی اور سکھ کمیونٹیز۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے علمبردار ممالک و تنظیمیں اس پر خاموش ہیں۔ امریکہ کے ساتھ دفاعی و تجارتی معاہدوں، روس و اسرائیل کے ساتھ عسکری تعاون اور برکس و کواڈ جیسے اتحاد میں شمولیت نے بھارت کے تکبر کو مزید بڑھا دیا۔ وہ خود کو چین کے مدِمقابل سمجھنے لگا۔ امریکہ اور یورپ بھی اسے چین کے خلاف توازن قائم کرنے کے لیے مضبوط کر رہے تھے۔
اسی زعم میں آ کر بھارت نے مئی کی 6 اور 7 تاریخ کی درمیانی رات پاکستان پر حملہ کیا، جو ایک سنگین تاریخی غلطی ثابت ہوئی۔ پاکستان نے دفاعی حق استعمال کرتے ہوئے ایسا جوابی وار کیا کہ اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو چاروں شانے چت کر دیا۔ بیکانیر سے سری نگر تک فوجی اڈے تباہ ہوئے، رافیل طیارے گرے، اور بھارت کی حواس باختگی عیاں ہو گئی۔ شکست کی گرد نے اس کا چہرہ دھندلا دیا۔ آخرکار اس نے امریکہ کو مدد کے لیے پکارا، جس نے پاکستان سے ہاتھ ہولا رکھنے کی درخواست کی، اور پاکستان نے خطے کے امن کی خاطر یہ قبول کر لیا۔
پاکستان نے اپنی فتح کا برملا اعلان کیا اور فوجی پریس بریفنگ میں دشمن کے نقصانات کے ثبوت پیش کیے۔ بھارت کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ دو دن بعد اس نے ایک کمزور سی پریس بریفنگ کا ڈرامہ کیا، جس میں صرف سول آبادی اور مسجد پر میزائل حملے کا ذکر تھا، جبکہ جنگ کے دیگر پہلوئوں پر خاموشی اختیار کی گئی۔ بین الاقوامی میڈیا بھارتی اڈوں اور جہازوں کی تباہی کی تصاویر نشر کرتا رہا، اور دنیا پاکستان کی کامیابی کو تسلیم کر رہی تھی۔
مودی سرکار اور اس کا گودی میڈیا سچ کو چھپانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ بھارتی افواج کا مورال زمین بوس ہو چکا تھا اور عوام اضطراب میں تھے۔ حزبِ اختلاف نے لوک سبھا میں مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ راہول گاندھی نے مودی کو ’’سرنڈر مودی‘‘ کا لقب دیا اور ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوے پر سوالات اٹھائے، مگر مودی خاموش رہا، جس سے اس کی مشکل پوزیشن واضح ہو گئی۔ آپریشن سندور نے بھارت کی عسکری و سفارتی حیثیت پر گہرا زخم لگایا ہے، جس کے مندمل ہونے میں وقت لگے گا۔ مودی کی سیاسی ساکھ تیزی سے گر رہی ہے اور پارٹی کے اندر بھی مخالفت بڑھ رہی ہے۔ایسے حالات میں بھارتی ائیر چیف کا تین ماہ بعد یہ دعویٰ کہ انہوں نے پاکستان کے چھ جنگی طیارے گرائے ہیں، محض عوام کو بہلانے کی کوشش ہے۔ نہ اس کے ثبوت پیش کیے گئے، نہ جہازوں کی قسم بتائی گئی، اور نہ ہی یہ وضاحت کی گئی کہ اس دعوے کو آخر میں کیوں رکھا گیا، جب کہ یہ تو سب سے اہم خبر ہونی چاہیے تھی۔ بھارتی عوام اور میڈیا نے بھی اس پر سوالات اٹھائے اور تمسخر اڑایا۔ اس جھوٹے دعوے نے بھارتی فضائیہ کی رہی سہی عزت بھی مجروح کر دی۔بھارت کی داخلی صورت حال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں، حزبِ اختلاف الیکشن کمیشن اور حکومت کو گھیر رہی ہے، اور بی جے پی و آر ایس ایس کے اندر سے بھی مخالفت ابھر رہی ہے۔ مودی جلد ہی اس عمر کو پہنچنے والا ہے جس کے بعد پارٹی رولز کے مطابق ریٹائرمنٹ لازمی ہے، اور اس کا سیاسی مستقبل غیر یقینی نظر آ رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی ائیر چیف کے اس دعوے کے بعد بھارت دوبارہ پاکستان پر جارحیت کرے گا؟ میرے نزدیک امکان کم ہے۔ یہ دعویٰ دراصل عوام کو مطمئن کرنے اور یہ تاثر دینے کی کوشش ہے کہ حساب برابر ہو گیا۔ اگر یہ جھوٹا دعویٰ نہ کیا جاتا تو مودی عوامی دبائو میں ایک اور مہم جوئی کر سکتا تھا، لیکن اب اس کا جواز کمزور ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی حالات بھی اس کے خلاف جارہے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی کشیدگی اور بھارت پر دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات نے اس کی عسکری و سیاسی پوزیشن کمزور کر دی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت اب جو بھی قدم اٹھا رہا ہے، وہ صرف اپنی ڈوبتی ساکھ کو بچانے کی ناکام کوشش ہے۔ مگر یہ تنکے کا سہارا بھی شاید اسے ڈوبنے سے نہ بچا سکے۔