انجینئر محمد جاوید یوم جشن آزادی پاکستان کا استعارہ ہیں۔ وہ پاکستان میں ہوں یا متحدہ عرب امارات، ہر سال یوم پاکستان باقاعدگی سے مناتے ہیں۔ اگست کا پہلا ہفتہ انہوں نے لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں یوم آزادی اور معرکہ حق کی تقریبات میں شرکت کرتے گزارا اور 12 اگست کو واپس راس الخیمہ پہنچے تو انہوں نے فون کر کے بتایا کہ 14 اگست کو یوم آزادی منانے کا احتمام ابوظہبی رمادا ہوٹل میں کیا ہے۔
پاکستان ایسوسی دبئی (پیڈ) اور دبئی پولیس کی جانب سے 13 اگست کو ایکسپو سنٹر دبئی میں جشن آزادی کی ایک شاندار تقریب کا احتمام کیا گیا تھا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی متحدہ عرب امارات کے رواداری اور بقائے باہمی کے وزیر عزت مآب شیخ نہیان بن مبارک النہیان تھے۔ اطلاعات کے مطابق یہ دنیا بھر میں جشن آزادی پاکستان کا سب سے بڑا پروگرام تھا۔ اس میگا ایونٹ میں شرکت کے لئے 60,000 سے زائد افراد نے رجسٹریشن کروائی تھی جس میں پاکستان سے آئے معزز مہمانوں(بشمول کرکٹر شاہد آفریدی) ، فنکاروں اور گلوکاروں نے چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت، بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے ثقافتی پروگراموں کی نمائندگی کی، جس میں یوم آزادی کے حوالے سے تقاریر ہوئیں، پاکستانی رقص اور گیت پیش کیئے گئے اور اختتام پر طرح طرح کے کھانوں کے ساتھ مہمانوں کی تواضع کی گئی۔
امریکہ میں 13 اگست ہی کو پاک امریکن سوسائٹی کے زیرِ اہتمام جیوے جیوے پاکستان کے عنوان سے آزادی کی شاندار تقریب کا احتمام نیویارک بروکلین میں کیا گیا تھا، جس میں پاکستانی کمیونٹی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے جوش و خروش کے ساتھ بھرپور شرکت کی تھی۔ جشن آزادی پاکستان کی یہ تقریب صدر پاک امریکن سوسائٹی شمس الزماں کے زیر صدارت منعقد ہوئی تھی۔ تقریب کے معزز مہمانوں میں نیویارک اسٹیٹ سینیٹر، پاکستان کے ڈپٹی قونصل جنرل عمر شیخ، ڈاکٹر چوہدری اشرف اور ڈاکٹر شہباز خان وغیرہ شامل تھے۔ اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مشیر امریکی پاکستانی ڈاکٹر غلام مجتبیٰ نے نیو نیویارک میں الگ سے اپنے گھر پر جشن آزادی کی تقریب منعقد کی۔ جبکہ اسی طرح برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں بھی جشن آزادی کی بہت ساری تقریبات کا انعقاد ہوا۔ یوں گزشتہ کئی سالوں سے اس دفعہ منفرد انداز میں دنیا بھر میں جشن آزادی منایا گیا، جو 14اگست کے اس تاریخی دن کو خراج تحسین پیش کرنے کا ایک خوبصورت انداز ہے۔
دبئی سے ابوظہبی جانے کے لیئے جب انجینئر محمد جاوید نے مجھے ڈیرا دبئی سے پک کیا تو دوپہر کے 3 بج رہے تھے۔ پروگرام شام ساڑھے پانچ بجے شروع ہونا تھا۔ پاکستان کی 78ویں سالگرہ کا رعب اور تقدس زہن پر پہلے ہی سوار تھا۔ ہم سارے راستے پاکستانی کلچر، ثقافت، حب الوطنی اور برق رفتار ترقی نہ کر سکنے کی وجوہات پر گفتگو کرتے رہے۔ لیکن حالیہ پاک بھارت مختصر جنگ اور ’’آپریشن بنیان مرصوس‘‘ کی کامیابی نے پاکستان کو دنیا بھر میں ایک نیا بلند مقام عطا کیا ہے۔ جب ہم ہوٹل پہنچے تو پروگرام کا آغاز ہو چکا تھا اور تقریب کے مہمان خصوصی اور گلف پیپلز پارٹی کے صدر میاں محمد منیر ہنس تقریر کر رہے تھے۔
14 اگست برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا وہ واحد دن ہے جب ہندوستان کو دو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد بے گھر ہوئے اور انہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت کی، لاکھوں افراد قتل ہوئے اور ہزاروں خواتین کی عزتیں لٹیں۔ اس حوالے سے بعد میں آنے والے مقررین نے آزادی پاکستان کی اہمیت پر دل کھول کر روشنی ڈالی۔ جشن آزادی کے اس پروگرام کا احتمام پاکستان بزنس کونسل(پی بی سی) نے کیا تھا جس کے بانی ممبر اور وائس چیئرمین ڈاکٹر قیصر انیس نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کا وجود کوئی اساطیری کہانی نہیں، بلکہ یہ ان عظیم قربانیوں کی داستان ہے جس کی بنیاد پر آج پاکستان ’’ایٹمی طاقت‘‘ کے طور پر دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ دیگر تقاریر کرنے والوں میں کونسل کے اعلیٰ عہدیداران اقبال نسیم، جمیل ابوبکر اور ڈاکٹر موسی شامل تھے۔ مقررین کی اکثریت نے پاک امارات دوستی کا ذکر بھی کیا اور متحدہ عرب امارات حکومت کا پاکستان کے بنکنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کا بھی شکریہ ادا کیا۔
جشن آزادی کا کیک کاٹنے سے پہلے تالیوں کی گونج میں بزنس کونسل راس الخمیہ اور فجیرہ کے کوآرڈینیٹر انجنیئر محمد جاوید آگے بڑھے اور انہوں نے اپنی مختصر تقریر کے بعد کونسل کے ممبران کے لئے ایوارڈز کا اعلان کیا جس میں کمیونٹی اور صحافتی خدمات کے بدلے روزنامہ ’’وصاف‘‘ کے نمائندے اور کالم نگار (راقم الحروف)، ایم یوسف بھٹی اور ایک ہفتہ روزہ کے ایڈیٹر انچیف چوہدری ارشد سرفہرست تھے۔ اسی دوران کونسل کے کوآرڈینیٹر انجنیئر محمد جاوید نے اعلان کیا کہ روزنامہ اوصاف کے صحافی ایم یوسف بھٹی کو کونسل کا’’میڈیا کوآرڈینیٹر‘‘ مقرر کیا جاتا ہے۔ تب قومی نغموں کی دھنوں کے درمیان کیک کاٹنے کے لیئے انجنیئر محمد جاوید نے ہی میان سے تلوار نکالی اور کیک کاٹنے کے لیئے میاں محمد منیر ہنس کے حوالے کر دی۔
اس پروگرام کی ایک خاص بات اس میں شامل کچھ غیر ملکی مہمانان تھے جن میں امریکی سفارت کار مس ایتھل اور ایک برطانوی عہدیدار مسٹر سٹیون شامل تھے۔ ایک دو انڈین مہمانوں کو بھی اس جشن آزادی پاکستان کے پروگرام میں دیکھا جس میں سے ایک نے کھڑے ہو کر پاکستانی شرکا کو جشن آزادی کی مبارک باد پیش کی۔
(جاری ہے)