Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

یوم آزادی پر دشمن کا جھنڈا لہرانے والے کون ہیں؟

کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ منظر بیرونِ ملک کے کسی شہر کی سڑک کا تھا، جہاں سمندر پار پاکستانیوں کا ایک چھوٹا سا گروہ چودہ اگست کے موقع پر یومِ آزادی کی تقریب منانے کے نام پر جمع تھا۔ بظاہر یہ جشنِ آزادی دکھائی دیتا تھا مگر درحقیقت ایک احتجاجی جلوس کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس جلوس میں شریک افراد نے دو جھنڈے ایک چھڑی پر لگا کر اٹھا رکھے تھے۔ قومی پرچم کا تقدس مجروح کرتے ہوئے اسے اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کے جھنڈے کے نیچے رکھا ہوا تھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک، تکلیف دہ اور ناقابلِ یقین منظر وہ تھا جس میں کچھ افراد بھارتی ترنگا لہرا رہے تھے۔ حیرت انگیز طور پر نہ صرف بھارتی پرچم اٹھا رکھا تھا بلکہ اسے فخر سے چومتے ہوئے بھارتی قومی نغمے بھی گنگنا رہے تھے، اور ساتھ ہی پاکستان کے اداروں اور معتبر شخصیات کے خلاف نعرے بازی کی جا رہی تھی۔
بطور ایک محب وطن پاکستانی یہ سب دیکھنا ناقابلِ برداشت تھا۔ تعمیری تنقید، اختلافِ رائے اور حکومتی پالیسیوں پر احتجاج ایک جمہوری روایت ہے۔ دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں شہری اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرتے ہیں، لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ وہ حکومت سے اختلاف رکھتے ہیں، سخت تنقید کرتے ہیں اور اپنی شکایات حکمرانوں تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن ان کے نعروں اور احتجاجی تقاریر میں کبھی اپنی ریاست یا اداروں کے خلاف نفرت انگیزی نہیں ملتی۔ وہ جانتے ہیں کہ ذاتی مفاد، جماعتی سیاست یا وقتی غصے کے باوجود ریاست کی اساس کو نشانہ بنانا ناقابلِ معافی جرم ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یا گروہ محض سیاسی مخالفت یا وقتی جذبات کی بنا پر دشمن ملک کا پرچم اٹھا لے، اس کے ترانے گنگنائے اور اپنے ملک کے خلاف نعرے لگائے تو کیا وہ اب بھی حب الوطنی کا دعوی کر سکتا ہے؟ کیا ایسے افراد پاکستان کے وفادار کہلانے کے حق دار ہیں؟ یقینا نہیں۔
نظام سے ناراضی، حکمرانوں کی پالیسیوں سے اختلاف اور حکومت پر اعتراضات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں۔ ان تحفظات میں وزن بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ریاست کے خلاف ہی صف آرا ہو جائیں اور دشمن کے بیانیے کو تقویت دیں۔ کوئی بھی شخص جب ملکی سلامتی کو دائو پر لگائے اور دشمن کے مذموم عزائم کا سہولت کار بن جائے تو وہ خود بخود حب الوطنی کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے۔
ویڈیو میں دکھائے گئے عناصر اگر واقعی بھارت کے اتنے ہی دلدادہ ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہاں جا کر زندگی گزارنے کی ہمت کریں۔ وہاں جا کر دیکھیں کہ اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ کس طرح کے مظالم ہوتے ہیں۔ ہندو انتہا پسندی کے سائے میں وہاں کا مسلمان دن رات خوف و ہراس میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ کبھی ’’گائو رکھشا‘‘، کبھی ’’لو جہاد‘‘ اور کبھی ’’گھر واپسی‘‘ کے نام پر مسلمانوں کے مذہبی عقائد اور سماجی آزادیوں کو روند ڈالا جاتا ہے۔ آئے روز مسلمانوں کی جائیدادیں غصب کی جاتی ہیں، ان کی عصمتیں تاراج کی جاتی ہیں اور ان کا خون بہایا جاتا ہے۔
بھارت میں اس وقت اٹھائیس میں سے سترہ ریاستیں مختلف وجوہات کے باعث مرکز کے خلاف بغاوت یا احتجاجی تحریکوں میں مصروف ہیں۔ لیکن یہ بات غور طلب ہے کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور جنگی ماحول کے باوجود بھارت کی اقلیتوں نے کبھی بھی اپنے ملک کی سلامتی کے خلاف بات نہیں کی۔ بھارتی مسلمان بے شمار مظالم سہنے کے باوجود پاکستان کے حق میں نعرے لگانے یا اپنی ریاست کے خلاف بولنے کی جرات نہیں کرتے۔ وہ جانتے ہیں کہ حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی اپنی ریاست کے ساتھ کھڑے رہا جائے۔ یہی وفاداری ہے۔
اس کے برعکس افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ معمولی اختلاف یا ذاتی مفاد کی خاطر نہ صرف اپنے ہی ملک کے اداروں کو بدنام کرتے ہیں بلکہ دشمن کے بیانیے کو تقویت بھی پہنچاتے ہیں۔ یہ رویہ کسی بھی ذی شعور اور محب وطن پاکستانی کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ حب الوطنی کا اصل امتحان بحران اور مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ جب دشمن سرحد پر آنکھیں دکھا رہا ہو، جب ریاست کی سلامتی خطرے میں ہو، جب معیشت اور اتحاد کو زک پہنچانے کی سازشیں ہو رہی ہوں، تب ہی وطن سے وفاداری کا حقیقی جذبہ سامنے آتا ہے۔ ایسے وقت میں پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی دیوار بن جانا چاہیے۔ اختلافات اور تحفظات کو پسِ پشت ڈال کر ریاست کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہی اصل حب الوطنی ہے۔
اگر بروقت ان ذہنی اور نظریاتی بیماریوں کا علاج نہ کیا گیا تو یہ وبا پھیلتی چلی جائے گی۔ پھر بھارتی پرچم تھامنے اور اپنے ہی ملک کے خلاف نعرے لگانے والوں کی تعداد بڑھتی جائے گی، اور یہ قومی اتحاد کے لیے مہلک ثابت ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر اپنے گلشن کے تحفظ کی قسم کو عملی جامہ پہنائیں۔ ذاتی مفاد اور وقتی اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر پاکستان کی سالمیت اور وقار کو مقدم رکھیں۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی ہماری ذمہ داری بھی ہے۔جیسا کہ شاعر نے کہا:
خونِ جگر دے کے نکھاریں گے رخِ برگِ گلا ب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

یہ بھی پڑھیں