(گزشتہ سے پیوستہ)
پروگرام میں عراقی بزنس کونسل بھی موجود تھے جبکہ ایک پاکستانی کنیڈا سے خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کرنے کے لیئے آئے تھے۔ پروگرام کے اختتام اور ڈنر سے پہلے عام شرکا کو بھی مختصرا تقاریر کا موقع دیا گیا جس میں زیادہ تر خواتین نے تقاریر کیں جن میں میڈم سحر اور شازیہ صدیقی نمایاں تھیں، جبکہ کونسل کے عہدیداروں اور مہمانوں میں محمد احمد، انجم راشد، مشکور مرشد، فرمان حیدر، ظفر اقبال چوہدری، طارق جاوید قریشی، محمد شفیق گوجر خانی اور طارق محمود بٹ شامل تھے۔
جب میں کھانے کی میز پر پہنچا تو مجھے پاکستانی سفارت خانہ کا احساس ہوا جس کا کوئی نمائندہ تقریب میں شامل نہیں تھا۔ میں نے پاکستان کے سفیر عزت مآب فیصل نیاز ترمذی کو میسج کیا، ’’ہم آپ کو یاد کر رہے ہیں‘‘، تو انہوں نے پاکستانی سفارت خانہ ابوظہبی میں جشن آزادی کے پروگرام کی ایک مختصر لائیو ویڈیو مجھے بھیج دی۔ تب معلوم ہوا کہ ابوظہبی کے رمادا ہوٹل اور سفارت خانہ پاکستان جشن آزادی کے دونوں پروگرامز بیک وقت چل رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد انجینئر جاوید صاحب نے کہا، “جلدی نکلتے ہیں ہمیں ایک اور پروگرام میں جانا ہے۔” میں سمجھا شائد ہم پاکستان ایمبیسی جا رہے ہیں مگر دس پندرہ منٹ بعد ہماری گاڑی “لال قلعہ ریسٹورنٹ” کے باہر رکی۔
لال قلعہ ریسٹورنٹ میں منعقدہ اس پروگرام کے مہمان خصوصی انجنیئر محمد جاوید صاحب تھے۔ ریسٹورنٹ کے بڑے دروازے پر پاکستان کا جھنڈا چسپاں تھا، اندر داخل ہوئے تو وہاں بھی پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے جھنڈے ایک اونچی دیوار پر لگے دکھائی دیئے، کھانے کے تمام ٹیبلوں پر غبارے اور جھنڈیاں لہرا رہی تھیں۔ اس تقریب کا احتمام سکندر بھٹی نے کیا تھا۔ اس پروگرام میں ارشد چوہدری اور محمد زبیر بھی ہمارے ساتھ تھے، جس کے بعد کیک کاٹنے کی تقریب ہوئی اور پھر تمام مہمان طرح طرح کے لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہونے لگے۔
مسلم لیگ جس نے ہندوستان کی تقسیم کروا کر پاکستان کو الگ ملک بنوایا اس کی ساری سرگرمیاں، اکثر لیڈرشپ اور غالب اکثریت ہندوستان کے ان علاقوں سے تھی، جو آج ہندوستان میں شامل ہیں۔ جن علاقوں میں آج پاکستان ہے، یہاں مسلم لیگ کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی، نہ لاہور کے ایک دو اجلاسوں کے علاہ انکی یہاں کوئی سیاسی سرگرمیاں موجود تھیں۔ پنجاب جو آج اصل پاکستان سمجھا جاتا ہے، یہاں پر یونینسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے سر چھوٹو رام اور خضر حیات ٹوانہ کی اتحادی حکومت تھی، جو پاکستان کی تشکیل کے خلاف تھے۔ سر چھوٹو رام سمجھتے تھے کہ پاکستان بن گیا تو پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے “یونینسٹ پارٹی” بھی ٹوٹ جائے گی، جبکہ خضر حیات کا خیال تھا کہ پاکستان بننے سے پنجاب نہیں ٹوٹے گا۔وہ لوگ جو پاکستان بنانے میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتے تھے، آج کل پاکستان میں مہاجر” کہلاتے ہیں، انہوں نے اچھی نوکریوں، اچھے روزگار اور روشن مستقبل کی خاطر پاکستان میں ہجرت کی، اور انہی میں سے کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں نومولود پاکستان کی زمام حکومت بھی آئی۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے کہ جب یہ بنا، تو لوکل ابادی کی بجائے، لوکل آبادی پر باہر سے ہجرت کر کے آنے والوں نے حکومت کی۔ پاکستان کو مذہبی تجربہ گاہ” بنانے کا خواب آج تک تشنہ تکمیل ہے۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک تھا، جس کے دو حصے تھے، جو ایک دوسرے سے ہزار کلومیٹر دور تھے اور دونوں حصوں میں دو ایسی اقوام رہتی تھیں، جن کی زبان، کلچر، روایات، آبادی، تعلیمی تناسب، تاریخ اور مستقبل کی خواہشات ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔ نہ صرف یہ کہ قائد اعظم کو وہ پاکستان نہیں ملا، جس کے قیام کے لیئے انہوں نے جدوجہد کی تھی یا ان سے وعدہ کیا گیا تھا، بلکہ قائد اعظم کو اس پاکستان کی بنیاد رکھنے کا بھی موقع نہیں دیا گیا جس کے لیئے انہوں نے آزادی کی عظیم الشان جدوجہد کی تھی، یا جیسا کرنے کا ان کا ارادہ تھا۔ وہ مذہبی قوتیں جنہوں نے قائد اعظم کی نیت، عقیدہ اور خود پاکستان کی مخالفت کی تھیں، برطانیہ کی باقیات کے ساتھ مل کر پاکستان پر مسلط ہو گئیں اور آج تک اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہیں۔
جن کو قائد اعظم نے اپنی جیب کے کھوٹے سکے کہا تھا، وہ پاکستان کے مقتدر رہنما بن گئے ہیں، اور جنہوں نے قائد اعظم کے اصل پاکستان کو ان کھوٹے سکوں سے واگذار کرنے کی جدوجہد کی تھی، وہ پاکستان کے غدار کہلائے۔ مشرقی پاکستان سندھ بلوچستان اور پختونخوا کے جمہوریت پسند اور آئین مانگنے والے سیاستدانوں کو تو چھوڑ دیں، قائد اعظم کی اپنی بہن فاطمہ جناح کو بھی “غدار” کہا گیا۔ پاکستان کی موجودہ حالت اسی نوع کے موقع پرست نام نہاد لیڈران، پارٹیوں اور ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے بنی ہے، جنھوں نے پاکستان پر آج تک حکومت کی ہے۔
جشن آزادی کی اس بار تقریبات نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں مثالی طور منعقد ہوئی ہیں۔ 22 مارچ سے 24 مارچ، 1940 کو لاہور کے منٹو پارک” میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کے حصول کے لئے تحریک شروع کی اور صرف 7 برس کے مختصر عرصہ کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ آج پاکستان کو معرض وجود میں آئے 78 برس بیت گئے ہیں مگر وہ مقاصد ابھی تک حاصل نہیں ہوئے جس کے لیئے پاکستان بنانے کے لیئے اتنی بڑی تاریخی قربانیاں دی گئی تھیں۔ اس موقع پر قیام پاکستان کی بنیاد میں ایک یہ نعرہ شامل کیا گیا تھا کہ اب نہیں تو کبھی نہیں” (ناو آر نائیور)، آج جس مقام پر پاکستان کو قدرت نے لا کھڑا کیا ہے، اچھا موقع ہے کہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے کہ ابھی بھی 14 اگست کا “اصل پاکستان” بنانے کا خواب پورا نہ ہوا تو پھر کبھی نہیں ہو گا۔ رات گئے جب دبئی واپس جا رہے تھے تو پاکستان سمیت دنیا بھر سے 14 اگست کے جشن آزادی کے شاندار پروگراموں کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ اب پاکستان کو تیز رفتاری سے ترقی کرنے کی ضرورت ہے۔ چین پاکستان کے دو سال بعد 1949 میں آزاد ہو کر کہاں سے کہاں نکل گیا ہے۔ اس جدوجہد میں پوری قوم شامل ہو جائے مگر درحقیقت جو کرنا ہے مقتدر طبقہ” نے کرنا ہے، آو مل کر آج یہ دعا کریں:”خدا کرے میری ارض پاک پر اترے،وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں،یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو۔