سیر و سیاحت میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اس کے ذریعے مجھے دنیا کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ ہر سفر معلومات اور اعتماد میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے۔ کہیں قدرتی مناظر دل کو مسحور کرتے ہیں تو کہیں انسانی تخلیق کے شاہکار حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر مجھے اپنے ہم وطنوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے، جو دیار غیر میں بسنے کے باوجود پاکستانیت کے جذبے سے سرشار اور مہمان نوازی میں بے مثال ہوتے ہیں۔سمندر پار پاکستانی اپنی محنت کی کمائی بے دریغ اپنے وطن سے آئے مہمانوں پر نچھاور کرتے ہیں۔ ان کے دسترخوان کی کشادگی اور دل کی فراخی دیدنی ہوتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں جانے، رہنے اور گھومنے کا موقع ملا ہے اور جہاں بھی گیا، پاکستانیوں کی کامیاب زندگیوں اور ان کی اعلیٰ میزبانی نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ زیرو سے آغاز کرنے والے یہ لوگ اپنی محنت، قربانی اور عزمِ صمیم سے کامیابی کے آسمان کو چھو لیتے ہیں۔ انہی کامیاب کہانیوں میں ایک نام سردار ظہور اقبال کا ہے۔کچھ سال پہلے جب میں فرانس گیا تو پیرس میں ایک عزیز کے ہاں قیام پذیر تھا۔
میرے گائوں کے کئی لوگ وہاں آباد ہیں۔ بڑی کاروباری شخصیات بھی ان میں شامل ہیں۔ سیاحت کے ساتھ ساتھ روزانہ ہی کسی نہ کسی دوست کے ہاں دعوتِ طعام کا سلسلہ چلتا رہا۔ انہی دنوں ایک روز میں اپنے عزیز کے گھر ظہرانے میں موجود تھا۔ دیگر احباب کے ساتھ حاجی ظفر اقبال مرحوم بھی شریک تھے جو پیرس کی نمایاں کاروباری شخصیت اور کم و بیش دس ریسٹورنٹس کے مالک تھے۔کھانے کے دوران حاجی صاحب کو ایک فون آیا۔ دوسری طرف کوئی انہیں کھانے کی دعوت دے رہا تھا مگر وقت کی کمی کے باعث وہ معذرت کر رہے تھے۔ البتہ چائے پر آنے کا وعدہ کر لیا۔ کھانے کے بعد حاجی صاحب مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایک خوبصورت شاہراہ پر روانہ ہوئے اور کچھ دیر بعد ہم ایک وسیع و عریض عمارت کے سامنے پہنچے۔وہاں ہمارے منتظر تھے سردار ظہور اقبال۔ سوٹ میں ملبوس، پرکشش شخصیت، چہرے پر خوشی اور آنکھوں میں محبت کی چمک۔ انہوں نے نہایت گرمجوشی سے ہمارا استقبال کیا۔ یہ عمارت یورپ کے معروف برانڈ شمع فوڈز کا ہیڈ آفس اور وئیر ہائوس تھا۔ پیرس جیسے شہر میں اتنا وسیع کاروباری مرکز کم ہی کسی کے پاس ہوگا۔
گفتگو کے دوران ایک نوجوان لڑکی چائے لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے بڑے ادب سے سلام کیا۔ ہم سب نے روایتی انداز میں شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ سردار صاحب نے فخر سے بتایا ’’یہ میری بیٹی شمع ہے، ہمارے بزنس برانڈ کا نام بھی اسی کے نام پر ہے۔‘‘شمع تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والد کے ساتھ کاروبار میں عملی کردار ادا کر رہی تھی۔ اس کی ذہانت اور صلاحیتوں سے بزنس کئی شہروں تک پھیل چکا تھا۔ چائے کے ساتھ انواع و اقسام کے لوازمات اس کی سلیقہ مندی اور تربیت کی غمازی کر رہے تھے۔ مجھے سردار صاحب اور ان کی فیملی کی سادگی، عاجزی اور محبت نے بہت متاثر کیا۔ وسیع کاروبار کے باوجود غرور کا شائبہ تک نہ تھا۔اس کے بعد ہم نے وئیر ہائوس کا وزٹ کیا جہاں سردار صاحب نے اپنی جدوجہد کی داستان سنائی۔ محنت مزدوری سے شروع ہونے والا یہ سفر آج کامیابی کے ایک درخشاں باب کی صورت میں سامنے تھا۔کچھ روز قبل جب میں نے خبروں میں بار بار سردار ظہور کا نام سنا تو پرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔
برسلز میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے یورپ میں مقیم پاکستانیوں سے جو تاریخی خطاب کیا، اس عظیم الشان تقریب کی کامیابی کا سہرا سردار ظہور اقبال کے سر ہے۔ جس کی اجھلی شہرت ، مقبولیت اور اثر و رسوخ کے باعث یورپ بھر سے اوورسیز پاکستانیوں کی کثیر تعداد نے اس میں شرکت کی ۔ معرکہ حق کے فاتح اپنے سپہ سالار کو درمیان پا کر انکا جوش اور خوشی دیدنی تھی ۔ انہوں نے اپنے وطن اور پاک فوج کے حق میں بڑی پرجوش نعرہ بازی کی جس سے سارا برسلز گونج اٹھا ۔ تقریب کے تمام شرکا نے بڑے نظم و ضبط اور وطنی محبت کا ثبوت دیا ۔ سب نے باری باری فیلڈ مارشل کے ساتھ سیلفیاں بنا کر اپنی محبت کا اظہار کیا۔ یوں انتہائی خوشگوار اور متاثر کن فضا میں تقریب کا آغاز اور اختتام ہوا ۔جس کی کامیابی کا ہر طرف چرچا ہوا۔ دل کو بہت خوشی اور فخر محسوس ہوا کہ ایسی شخصیت جس کے ساتھ ہمارا دیرینہ تعلق ہے ، جس نے پہلی ہی ملاقات میں اپنا گرویدہ بنا لیا تھا وہ آج دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر رہا ہے ۔ بزنس فورم یورپ کے چئیرمین بھی ہیں ۔ اس شاندار تقریب کی کامیابی پر ہم سردار ظہور قبال کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ دعا کرتے ہیں کہ پاکستان کا یہ عظیم ستارہ اسی طرح اپنے آبائی وطن کی پہچان کو دنیا بھر میں مزید اجاگر کرتا رہے ۔