بنیادی حقوق سے محروم اور ریاستی جبر کا شکار سکھ برادری پرامن انداز میں خالصتان ریفرنڈم کے لئے واشنگٹن میں صف آرا ہوئی ہے۔ 17 اگست 2025 ء کو واشنگٹن ڈی سی میں ہزاروں سکھوں کے اپنی آزادی اور خود ارادیت کے حق میں ڈالے گئے ووٹ مودی سرکار کے ماتھے کا کلنک بن گئے ہیں۔ یہ پرامن ریفرنڈم دنیا بھر کے تین کروڑ سکھوں کی اجتماعی آواز ہے۔ سکھ فار جسٹس نامی تنظیم ریفرنڈم کے ذریعے بھارت کے ریاستی دبائو، دھونس اور پروپیگنڈے کے خلاف پرامن صدائے احتجاج بلند کر رہی ہے۔ بھارت کی فسطائیت کے خلاف سکھ برادری کا جمہوری عزم دنیا کے سامنے آشکار ہو رہا ہے۔ بھارت کے سکھوں کے خلاف مجرمانہ کرتوت عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔ امریکی عدالت نے بھارتی ایجنٹ نکھل گپتا اور RAW افسر کو خالصتان رہنما گرپت ونت سنگھ پنہوں کے قتل کی سازش پر ملک بدر کیا ۔ جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خط کے ذریعے سکھ قیادت کو سیکورٹی گارنٹی فراہم کی۔ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کی طرف سے قتل، جاسوسی اور پروپیگنڈے کے باوجود عالمی سطح پر سکھ برادری کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے جون 2023 ء میں اعلان کیا تھا کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے قابل اعتبار شواہد موجود ہیں۔ اس چشم کشا انکشاف کے بعد بھارت اور کینیڈا کے تعلقات سخت متاثر ہوئے۔ برطانیہ میں سرگرم کارکن اوتار سنگھ کھنڈا کی مشکوک موت سے بھی بھارتی خفیہ کارروائیوں پر سوالات اٹھائے گئے۔ آسٹریلیا، امریکہ اور کینیڈا نے نہ صرف بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا بلکہ واضح کیا کہ شہری آزادی اور جمہوری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ سوشل میڈیا کمپنیوں گوگل، یوٹیوب اور ایکس نے بھی بھارتی دبائو کے باوجود خالصتان ریفرنڈم کے مواد پر پابندی لگانے سے انکار کیا۔ 2021 ء سے اب تک یہ ریفرنڈمز برطانیہ، کینیڈا، اٹلی، آسٹریلیا، امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور نیوزی لینڈ میں ہو چکے ہیں۔ کسی بھی اقوام متحدہ کے رکن ملک نے انہیں غیر قانونی قرار نہیں دیا۔ عالمی قوانین، خصوصاً ICCPR کے آرٹیکل 1 کے تحت، ہر قوم کو حقِ خود ارادیت حاصل ہے۔ یہی قانونی جواز خالصتان تحریک کو مضبوط کرتا ہے۔ بھارت اگرچہ اس تحریک کو دہشت گردی قرار دیتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ پرامن سیاسی جدوجہد ہے جو صرف ووٹ کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہتی ہے۔ سکھ برادری کا موقف واضح ہے کہ ہم گولی نہیں بلکہ آزاد حق رائے دہی کے ذریعے اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔ بھارتی پالیسیاں نہ صرف سکھوں کے ساتھ ناانصافی پر مبنی ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔ مغربی عدالتیں بار بار بھارت کی سکھوں کی حوالگی کی درخواستوں کو بدنیتی پر مبنی قرار دے کر مسترد کر چکی ہیں۔ یہ بھارتی فسطائی رویہ عالمی تنہائی کا باعث بن رہا ہے۔ رفتہ رفتہ خالصتان تحریک دنیا بھر میں زیادہ حمایت حاصل کر رہی ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والا ریفرنڈم اس بات کی علامت ہے کہ جب ریاستی جبر اور عوام آمنے سامنے آتے ہیں تو تاریخ ہمیشہ آزادی پسند عوام کے حق میں فیصلہ دیتی ہے۔ سکھوں کی پرامن جدوجہد نے ہندوتوا نظریے کی پیروکار تشدد پسند متعصب مودی سرکار کا مکروہ چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
بھارت کی اقلیت دشمن پالیسیوں کے خلاف سکھ برادری کی عالمی سطح پر مزاحمت میں شدت آ گئی ہے اوراسی سلسلے کی ایک کڑی کے طورپر واشنگٹن میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا ، جس میں امریکہ بھر سے ہزاروں سکھوں نے شرکت کی۔ اس ریفرنڈم کا مقصد سکھ قوم کے آزاد وطن” خالصتان” کے قیام کے لیے عوامی رائے کو اجاگر کرنا ہے۔ایس ایف جے کے رہنمائوں نے ایک پریس کانفرنس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نہ صرف بھارت کے اندر اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہے بلکہ بیرونِ ملک سرگرم خالصتان کے حامیوں کو بھی دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں خالصتان تحریک کے مرکزی رہنما گرپتونت سنگھ پنوںکو ایک خط لکھا جس میں امریکہ میں موجود سکھ شہریوں کے تحفظ کی مکمل یقین دہانی کرائی گئی ہے۔اس اقدام کو خالصتان تحریک کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی قریب میںکینیڈا، امریکہ اور آسٹریلیا میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ان نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا گیا ہے جو خالصتان کے حامی سکھوں کو نشانہ بنانے میں ملوث ہیں۔ ان انکشافات کے بعد بھارت کی عالمی ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے۔منتظمین کے مطابق ریفرنڈم ایک پرامن اور جمہوری عمل ہے جس کے ذریعے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ سکھ قوم اب مزید بھارتی مظالم برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
بھارت کے انتہا پسند کے لیبل کے باوجود، کسی اقوام متحدہ کے رکن ملک نے ریفرنڈم کو غیر قانونی نہیں ٹھہرایا بلکہ جمہوری ممالک نے اسے سیاسی اظہار کی آزادی قرار دیا ہے۔ سکھ رہنماؤں کا عزم جمہوری اور پرامن ہے ووٹ کے ذریعے اپنا حق خودارادیت حاصل کرنا۔ بھارت کی جبر کی پالیسیاں عالمی سطح پر ناکام ہو رہی ہیں۔ بھارت میں اس وقت جس تیزی سے علیحدگی پسند تنظیموں نے سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں خالصتان کا حالیہ ریفرنڈم ان کو نئی امید اور جذبہ دے گا بھارت اور اس کی عوام کے لیے اس میں کھلا پیغام ہے جب تک بھارت کے غاصبانہ اور جابرانہ نظام کی وجہ سے کشمیر کے بے گناہ مسلمانوں اور ہندوستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں بمشمول مسلمان ,سکھ اور عیسائی ظلم و ستم کا سامنا کرتے رہیں گے اس وقت تک بھارت کے لیے عالمی اور اندرونی مسائل بڑھتے رہیں گے بھارت پر اب یہ واضح ہو جانا چاہیے کہ 78 سال سے زائد جاری ظلم و جبر کا کھیل اب اپنے اختتام کو پہنچنے والا ہے ہندوستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں آج اس بات پر متفق ہو چکی ہیں کہ ظلم اور جبر کے نظام کو مزید نہیں چلنے دیں گے سکھوں کا حالیہ ریفرنڈم اس کا واضح ثبوت ہے۔