Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

پاکستان بزنس کونسل تیرا شکریہ!

اس دفعہ یوم آزادی 14اگست 2025 ء کے موقع پر میں بھی بلاول بھٹو کے ساتھ ایوارڈ وصول کرنے والوں میں شامل ہو گیا ہوں۔ خیر بلاول بھٹو اور میرا کیا موازنہ ہے۔ ’’کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگا تیلی۔’’ بلاول بھٹو زرداری مملکت پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے صاحبزادے ہیں اور میں ٹھہرا ایک گمنام کسان کا بیٹا، پھر بلاول بھٹو زرداری کو تو حکومت پاکستان نے قومی ایوراڈ دیا ہے جو جس کو چاہے، بے شک وہ کوئی کام بھی نہ کرے، تو اسے کسی بھی بڑے اعزاز سے نواز سکتی ہے، جبکہ مجھے محض متحدہ عرب امارات کی ’’پاکستان بزنس کونسل‘‘ نے اس ایوارڈ کے لئے منتخب کیا، جو ایک انتہائی حیرت کی بات ہے کہ میں نے بلاول بھٹو زرداری جتنا بڑا ایک بھی کام انجام نہیں دیا ہے۔
تکلف برطرف، بلاول بھٹو زرداری تو پھر پاکستان کے وزیر خارجہ رہے ہیں مگر بزنس کونسل نے مجھ میں ایسا کیا دیکھا کہ ان کی نظر کرم مجھ پر پڑی؟ میرے لئے یہ اعزاز کسی واقعہ سے کم نہیں ہے کہ کسی بڑے حکومتی عہدیدار کا بیٹا نہ ہونے کے باوجود پاکستان بزنس کونسل(پی بی سی) نے مجھے ’’نوازنے‘‘ کی غلطی کر دی جس پر راقم الحروف کو منیر نیازی کا ایک واقعہ یاد آیا ہے جنہیں ایک نوجوان نے اپنی غزل سنائی تو انہوں نے حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے اس غزل کو اردو شاعری میں ایک بہترین اضافہ قرار دیا تھا۔ اس لڑکے کی شامتِ اعمال کہ اگلے روز اس لڑکے نے وہی غزل حلق اربابِ ذوق کے تنقیدی اجلاس میں پیش کر دی۔ اجلاس کے شرکاء نے اس غزل کی دھجیاں ہی نہیں بکھیری بلکہ ’’ایسی کی تیسی‘‘ کر کے رکھ دی اور اسے شاعری کا ایک ’’بدنما داغ‘‘ قرار دیا۔
وہ لڑکا منہ بسورے ہوئے منیر نیازی کے پاس آیا اور بولا: ’’سر آپ نے تو کہا تھا کہ یہ بہت اچھی غزل ہے مگر حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں تو اسے شاعری کا ایک بدنما داغ قرار دیا گیا ہے۔’’ منیر نیازی مسکرا کے بولے: ’’پتر، جے ماں کدی پیار نال چن کہہ دیوے تے مقابلہ حسن وچ حصہ لین نئیں ٹر جائی دا۔‘‘ اس سے مجھے ایک شعر بھی یاد آیا ہے کہ
اس کی بینائی میں نقص ہو گا مجھے بد صورت کہا
ماں تو چاند کہتی تھی اور چاند بھی چودھویں کا
بلاول بھٹو زرداری صدر مملکت خدا داد پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے بیٹے ہیں، اور ان کی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو اب اس دنیا میں نہیں ہیں، تو زرداری نے بلاول بھٹو زرداری کو ایوارڈ دے کر نہ صرف باپ بلکہ ماں کا پیار بھی دیا ہے۔
پاکستان بزنس کونسل کا پورا نام پاکستان بزنس پروفیشنل کونسل (پی بی پی سی) ہے۔ اس کا قیام 14 بانی ممبران کی کوششوں سے 2005 ء کو عمل میں آیا جس کے روح رواں کونسل کے وائس چیئرمین جناب ڈاکٹر قیصر انیس صاحب ہیں۔ اس وقت کونسل کے ممبران کی تعداد 68 ہے اور اس آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احسان ملک اور سیکرٹری مصطفی کمال زبیری ہیں۔ یہ ایک غیرمنافع بخش آرگنائزیشن ہے جس کے دفاتر پاکستان کے بڑے شہروں سمیت ابوظہبی، دبئی اور شارجہ میں واقع ہیں۔ اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں پاکستانی کمیونٹی کے لیئے کاروبار کو منظم کرنا، بزنس آئیڈیاز پر تحقیق کروانا، سیمنارز اور ورکشاپس ترتیب دینا، بزنس مینوں کے مسائل حل کرنا، کاروبار میں حکومت پاکستان کی رہنمائی کرنا، انوسٹمنٹ کے مواقع ڈھونڈنا اور پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارتی تعلقات وغیرہ کو فروغ دینا شامل ہیں۔
بلاول زرداری بھٹو کو صدر آصف علی زرداری نے ایوارڈ دے کر باپ اور ماں دونوں کا پیار دیا ہے تو ممکن ہے اب بلاول اپنی والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہوں گے۔ لیکن مجھے جب سے بزنس کونسل نے ایوراڈ دیا ہے میں فقط اس کا ممبر بننے کا سوچ رہا ہوں۔ پاکستان کا وزیراعظم بننے کے لئے عوام کے ووٹوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے مگر تمغہ امتیاز لینے کے لئے کسی بڑے حکومتی عہدیدار کا ’’بیٹا‘‘ ہونا ہی کافی ہے کہ یہ حکومت کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ جس پر مہربان ہو جائے۔
کچھ لوگ سوچ رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ وفاقی وزرا کے ساتھ ساتھ بلاول بھٹو زرداری کو ایوارڈز کیوں دیا گیا ہے؟ خود بلاول بھٹو وزیر خارجہ رہنے کے علاوہ کئی مواقع پر پاکستان کا کیس بھی خارجہ ممالک میں بڑی کامیابی سے لڑ چکے ہیں۔ اگر مجھے ایوارڈ ملا ہے تو کم از کم میں اس کے حق میں نہیں ہوں کہ بلاول صاحب کو نہ ملتا۔ خاص طور پر صحافیوں اور کالم نگاروں کو جب حکومت کی طرف سے ایوارڈز ملتے ہیں تو یہ ’’سیاسی رشوت‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔ عمران خان حکومت نے بھی اپنے پسندیدہ صحافیوں کو ایوارڈز سے نوازا تھا۔ سیاسی حکومتوں کی جانب سے صحافیوں اور کالم نگاروں کو ایوارڈز دیئے جانے پر بہت سے صحافی اور کالم نگار اپنے آپ کو سیاسی حکومتوں کے ترجمان بنا لیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ صحافت سے انصاف نہیں کر پاتے ہیں۔
ایک پنجابی محاورہ ہے کہ، ’’انا ونڈے ریوڑیاں مڑ مڑ گھر دیاں نوں۔‘‘ یہ نہ پوچھیں کہ وفاقی وزرا اور بلاول بھٹو زرداری کو ایوارڈز کیوں دیئے گئے ہیں؟ سفارتی سطح پر پاکستان کامقدمہ بھرپور انداز میں لڑنے پر اسحق ڈار کو اعزاز سے نوازا گیا، جبکہ سندھ طاس معاہدے پر بھرپور موقف اپنانے پر اعظم نذیر تارڑ کو ایوارڈ دیا گیا، بھارت کی بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر وزیر دفاع خواجہ آصف کو نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ معرکہ حق میں اطلاعات کی بہترین ترسیل پر عطا اللہ تارڑ کو نشان امتیاز سے نوازا گیا، داخلی محاذ پر بہترین یکجہتی اور امن وامان قائم رکھنے پر محسن نقوی کو نشان امتیاز سے دیا گیا۔ خیر محسن نقوی صاحب تو ویسے بھی ’’اپنے بندے‘‘ ہیں۔تذویراتی سطح پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر احسن اقبال کو نشان امتیاز سے نوازا گیا۔ قومی اتفاق رائے اور ہم آہنگی قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے پر اپنے رانا ثنااللہ کو بھی ’’نشان امتیاز‘‘ دیا گیا جبکہ پاکستان کا مقف عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر بلاول بھٹو زرداری کو نشان امتیاز سے نوازا گیا ہے، تو اس میں ہرج ہی کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں