Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

اصحابِ کہف کی سبق آموز روحانی داستان

ظاہری طور پر وہ کچھ نوجوان تھے، دل کے پکے، ایمان کے سچے۔ زمانہ اندھیروں میں ڈوبا تھا ہر طرف بتوں کی پوجا، ہر زبان پر شرک کے ترانے۔ بادشاہ دقیانوس کا حکم تھا کہ کوئی اللہ کو نہ پکارے، صرف پتھروں کے سامنے جھک جائے۔
یہ چند جوان کھڑے ہوئے، کہا ہمارا رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔ ہم کسی غیر کے آگے جھکنے والے نہیں!یہ اعلان ایک شعلہ تھا، جس نے ظلم کے ایوان ہلا دیئے اور پھر یہ دلیر دل دنیا کے شور سے کٹ کر ایک غار کی طرف نکل گئے اور ان کا کتا بھی ان کے ساتھ ہوگیا اور غار تک پہنچ گئے اور وہاں سو گئے۔
غار کا راز ظاہر میں یہ غار پتھر کی کھوہ تھی، مگر باطن میں یہ ایک دل کی اتھاہ گہرائی تھی جو اللہ کے ذکر کی غار تھی جہاں دنیا کے طوفان سے بچائو ہے۔جہاں خوف نہیں، صرف ذکر ہے۔ جہاں نفس کو فنا اور روح وحقیق بقا ملتی ہے۔
مولانا روم فرماتے:اے سالک! اگر تو بھی دنیا کے بتوں سے تنگ ہے، تو اپنے دل کے غار میں چھپ جا۔ وہاں اللہ کے نور کی نیند ہے، وہاں زمانہ تیرے لیے رک جائے گا۔
نیند کا سمندر 309 برس کی نیند کوئی عام نیند نہیں تھی۔ یہ فنا فی اللہ کی نیند تھی۔جو حقیقی جاگ پر بقاء بن گئی اور اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف اور ان کے کتے کے قصے کو قران پاک کی زینت سے نواز دیا اور بڑی فضیلت اور روحانی رازوں سے بھرپور اس سورت کا نام ہے سورہ الکہف رکھ دیا۔ اور اللہ کے نبی نے ہر جمعہ کو اس کی تلاوت کو مسنون درجہ دے دیا۔
زمانہ چلتا رہا مگر وہ وقت کے قیدی نہ رہے۔سورج نکلا، ڈوبا، صدیاں گزریں لیکن ان کے لیے لمحہ ایک لمحہ ہی رہا۔یہ نیند دراصل یہ راز بتاتی ہے کہ دنیا کا وقت فانی ہے،اللہ کی قربت میں وقت کا وجود مٹ جاتا ہے۔
ابن عربی کہتے ہیںاصحاب کہف کی نیند سالک کی فنا ہے اور ان کی بیداری سالک کی بقا۔بیداری کی روشنی جب وہ جاگے تو ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کتنی دیر سوئے رہے؟ جواب آیا‘ آدھا دن، یا شاید ایک دن۔
دیکھو! صدیوں کی نیند بھی اللہ کے نور کے سامنے ایک پل کے برابر ہے۔یہ وہی راز ہے جو قیامت میں کھلے گا جب قبروں سے اٹھیں گے اور کہیں گے ہم بس کچھ دیر سوئے تھے!بھوک اور معرفت۔ جب جاگے تو بھوک لگی۔ انہوں نے اپنے ساتھی کو پرانے سکے دے کر کھانے کے لیے شہر بھیجا۔یہ بھوک صرف پیٹ کی نہیں تھی، یہ معرفت کی بھوک بھی تھی۔انسان فنا کے بعد بقا میں داخل ہوتا ہے تو دل سب سے پہلے روحانی رزق مانگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی بھوک دراصل ایمان کی پیاس تھی۔
مولانا روم فرماتے:اے مسافرِ دل! اگر تجھے بھوک ستائے تو جان لے یہ معرفت کی بھوک ہے۔ رزقِ حلال جسم کو جلا دیتا ہے، اور ذکرِ الٰہی روح کو سیراب کرتا ہے۔کتا اور صحبت کا فیض ان کے ساتھ ایک کتا بھی تھا، غار کے دہانے پر بیٹھا۔یہ منظر ایک راز ہے:اللہ نے دکھا دیا کہ مخلصین کی صحبت میں ایک جانور بھی کرم سے محروم نہیں رہتا۔اللہ والے عارفین حق کہتے ہیں: اگر ولی نہ بن سکو تو ولیوں کے دروںکے کتے بن جائو، ان کے ساتھ رہو، اللہ تمہیں بھی اپنی رحمت میں شامل کر لے گا۔
شہر کا انکشاف‘ جب ان کا ساتھی کھانا لینے کے لیے شہر گیا اور پرانے سکے دیئے تو لوگوں کو حیرت ہوئی اور وہ نوجوان تیزی سے غار طرف چلا گیا ‘سکے صدیوں پرانے تھے۔لباس اور زبان عجیب تھی۔لوگ دوڑتے دوڑتے غار تک آگئے۔لیکن اللہ نے اپنی حکمت سے غار کا دروازہ بند کر دیا۔لوگوں نے فیصلہ کیا ہم ان پر ایک مسجد بنا دیں گے۔یوں اصحاب کہف کی یاد ذکر اور عبادت کا ذریعہ بن گئی اور اصحاب کہف کے مقام پر مسجد تعمیر ہوگئی ۔
تعداد کا راز۔ کچھ نے کہا وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا، کچھ نے کہا پانچ اور چھٹا کتا، کچھ نے کہا سات اور آٹھواں کتا۔لیکن قرآن نے فرمایا:ان کی صحیح تعداد میرا رب ہی جانتا ہے۔ (الکہف: 22)
یہ اشارہ ہے کہ ایمان کا جوہر تعداد میں نہیں بلکہ اخلاص میں ہے۔ روحانی اشاراتغار = دل کی خاموشی نیند = فنا فی اللہ بیداری = بقا باللہ۔ اور بھوک = معرفت کی پیاس کتا = صحبتِ صالحین کی تفہیم مسجد = ذکر کی بقا۔ تعداد = غیب کی حکمت اہل العلم و عرفان کے اقوال غزالی: یہ قصہ ایمان والوں کے فنا اور بقا کی منازل کی تصویر ہے۔
عبدالقادر جیلانی: سالک کو چاہیے کہ اصحاب کہف کی طرح دل کے غار میں چھپ جائے۔رومی: وہ سوئے رہے مگر حقیقت میں جاگ رہے تھے۔ ان کی نیند معرفت کی مستی تھی۔ابن عربی: یہ قصہ سالکین کے روحانی سفر کی تمثیل ہے: ریاضت، فنا، بقا، اور معرفت۔
اختتامی کلمات اصحاب کہف کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان کا قلعہ دنیاوی طاقتوں سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے قائم رہتا ہے۔اگر تمہیں زمانہ گھیر لے تو اپنے دل کے غار میں چھپ جائو۔اگر تم پر فتنوں کا طوفان آئے تو قرآن کی پناہ لو۔اگر تمہیں بھوک ستائے تو معرفت کا رزق مانگو۔اور یاد رکھو! اللہ پر ایمان کو زندگی کا ہدف اور اہم بنیاد بنا ، سنت محمد اتباع اور اہل اللہ کی صحبتوں سے فیص یاب رہو اللہ کی بارگاہ میں ایک کتا بھی صالحین کی صحبت میں آ کر عزت پا گیا،تو ایک بند مومن کا حال کیا ہوگا جس کا دل قرآن کے نور سے روشن ہے اور نبی آخرزمان اتباع اور اہل اللہ صحبتوں سے فیض یاب رہے۔
سورہ کہف کی تلاوت کو ہر جمعہ کا معمول بنالو۔ حدیث کے مطابق جس نے جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کی اس کی برکت سے ایک نور پیدا ہوگا جو دوسرے جمعہ تک منور رہے گا اور اس نور کی روشنی کعبۃ اللہ تک پہنچے گی۔ یہ بھی کوشش کریں کہ دجالی دور کے فتنوں اور دجال وقت اس سے بچنے کیلئے سورہ کہف کی پہلی دس آیات اور آخر دس آیات حفظ کرلیں یا ان کی روزانہ تلاوت کرلیا کریں۔ ان شا اللہ محفوظ رہیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں