Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

عدل و احسان`قرآن کا اخلاقی آئین

قرآنِ حکیم ایک کامل ہدایت نامہ ہے۔ اس کی ہر آیت میں ابدی حکمت پوشیدہ ہے، لیکن بعض آیات ایسی ہیں جو پورے دین کے اخلاقی و قانونی اصولوں کو چند الفاظ میں سمیٹ دیتی ہیں۔ انہی میں سے ایک سورۃ النحل کی یہ عظیم آیت ہے۔
یہ آیت جمعہ کے خطبہ کے آخر میں ہمیشہ تلاوت کی جاتی ہے تاکہ اہلِ ایمان کو بار بار اس کے جامع پیغام کی یاد دہانی کرائی جا سکے۔ امام قرطبی نے اسے قرآن کی جامع ترین آیت قرار دیا اور ابنِ کثیر نے فرمایا کہ یہ اسلامی اخلاق اور قانون کے تمام اصول اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
قرآن کا حکم: عدل، احسان اور صلہ رحمی۔ عدل(انصاف) قرآن بار بار انصاف کا حکم دیتا ہے: عدل کرو، یہی تقوی کے قریب تر ہے۔(المائدہ: 8)
انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، خواہ یہ تمہارے اپنے یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہو۔(النساء: 135 )
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ محبوب اور اس کے قریب وہ حکمران ہوگا جو عادل ہو۔ (ترمذی 1329 )
احسان (نیکی اور بھلائی Benevolence )احسان عدل سے بلند درجہ ہے۔ عدل کا مطلب ہے حق دینا، جبکہ احسان کا مطلب ہے حق سے بڑھ کر دینا، دوسروں کے ساتھ شفقت اور سخاوت کرنا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت نہ ہو تو یہ یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ (بخاری و مسلم)
یعنی احسان صرف بندے اور رب کے تعلق کی معراج نہیں بلکہ لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کا عملی معیار بھی ہے۔
رشتہ داروں کے حقوق‘ قرآن کا حکم ہے: قریبی رشتہ دار کو اس کا حق دو(بنی اسرائیل: 26 )
نبی ﷺ نے فرمایا:جو چاہتا ہے کہ اس کا رزق وسیع ہو اور عمر دراز ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔(بخاری 5986 )
ممنوعات: فحشا، منکر اور بغی۔ فحشاء: بے حیائی اور برے اعمال جیسے زنا اور فحش گوئی۔منکر: وہ برائیاں جنہیں عقل و شریعت دونوں برا جانیں۔بغی: ظلم، سرکشی اور دوسروں کے حقوق پامال کرنا۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(بخاری 10 )
مفسرین کی آرا ‘ امام طبری(جامع البیان) اللہ نے اپنی مخلوق کو عدل یعنی انصاف کا اور احسان یعنی فضیلت و سخاوت کا حکم دیا ہے۔
امام قرطبی (تفسیر قرطبی):یہ آیت قرآن کی سب سے جامع آیت ہے جو خیر و شر سب کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
امام ابن کثیر (تفسیر ابن کثیر) قرآن میں اس سے زیادہ جامع آیت اللہ کے اوامر و نواہی کے بارے میں کوئی نہیں۔
اصحابِ علم و عرفان کی نظر میں عدل و احسان مولانا جلال الدین رومی نے فرمایا: عدل یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے اصل مقام پر رکھو،اور احسان یہ ہے کہ دوسروں کے مقام کو اپنی جان سے بڑھ کر سنوارو۔ایک اور مقام پر کہا:عدل یہ ہے کہ خشک درخت کو پانی دینا،اور احسان یہ ہے کہ ہرے بھرے درخت کو بھی پانی دینا تاکہ مزید پھلے پھولے۔یوں عدل زندگی کو قائم رکھتا ہے جبکہ احسان اسے حسن اور روشنی بخشتا ہے۔
مولانا رومیؒ نے کہا:عدل ظاہر کا قانون ہے، اور احسان باطن کا نور۔
عدل عقل کو مطمئن کرتا ہے، اور احسان دل کو منور کرتا ہے۔
عالمی و عملی اثرات ‘اگر آج کے نظام میں اس آیت کو نافذ کیا جائے تو: عدل سے قانون اور انصاف قائم ہوگا۔احسان سے محبت اور اتحاد پیدا ہوگا۔صلہ رحمی سے خاندان اور معاشرہ مضبوط ہوگا۔
فحشاء، منکر اور ظلم سے اجتناب سے انسانیت پاکیزہ ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ ہر جمعہ کے خطبے میں یہ آیت پڑھی جاتی ہے تاکہ امت کو یاد رہے کہ اسلام صرف عبادات کا نہیں بلکہ عدل و احسان کا مکمل نظام ہے۔
سور ۃ النحل کی آیت 90 قرآن کی جامع ترین آیات میں سے ہے۔ یہ فرد کی اخلاقی اصلاح، خاندان کی مضبوطی، معاشرے کی پاکیزگی اور ریاست کی عدل و احسان پر مبنی تعمیر کا دستور ہے۔
مولانا رومی کے الفاظ میں:عدل اور احسان کے بغیر دنیا اندھی ہے۔ جب عدل اور احسان قائم ہو جائیں تو یہ دنیا جنت کا دروازہ بن جاتی ہے۔حدیث : بہترین وہ لوگ ہیں جو دوسروں کا بھلا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں