Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

متشدد اور تکفیر ی رحجانات کے مضمرات

دہشت گردی کے عفریت کو شکست دینے کے لئے ریاست پاکستان نے ہمہ جہت اقدامات کئے ہیں۔ ایک جانب تخریب کاروں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عسا کر پاکستان نے حیران کن آپریشنز کئے ہیں تو دوسری جانب فکری محاذ پر متشددا نہ سوچ کا توڑ کرنے کے لئے علماء و دانشورطبقات نے قا بل قدر کاوشیں کی ہیں ۔آئین کے تحت پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے۔ قرآن و سنت کو سپریم لا (بالا دست قانون) قرار دیا گیا ہے ۔کسی فردیا گروہ کو تشدد ،دھونس ،خوف و ہراس کے ذریعے منفی سوچ معاشرے پر مسلط کرنے کا اختیار نہیں۔ فتنہ خوارج کی دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے کے لیے اسلامی احکامات کی مسخ شدہ تشریح ہرگز قابل اعتبار نہیں۔اسلام امن، عدل اور رحمت کا دین ہے، نہ کہ افراتفری اور تباہی کا۔ قرآنِ مجید ان لوگوں کی سخت مذمت کرتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں: اور جب وہ پیٹھ پھیر لیتا ہے تو زمین میں اس کی سعی یہی ہوتی ہے کہ وہاں فساد پھیلائے اور کھیتیاں اور نسل کو برباد کرے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا (البقرہ 2:205)
ریاستی اجازت اور اختیار کے بغیر مسلح جدوجہد اسی فساد کے زمرے میں آتی ہے کیونکہ یہ معاشروں کو تباہ کرتی ہے، قوموں کو تقسیم کرتی ہے اور اسلام کی مقدس شبیہ کو داغدار کرتی ہے۔ پاکستان نے عسکریت پسندی کے تباہ کن نتائج کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، جب مساجد، اسکولوں، بازاروں اور سکیورٹی اداروں پر مذہب کے نام پر حملے کیے گئے۔ یہ اقدامات قرآن کے اس حکم کی خلاف ورزی ہیں جو انسانی جان کے تحفظ اور عدل کے قیام کا حکم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جنگ میں بھی غیر مسلح افراد، عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا، جس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کا راستہ اندھا دھند تشدد نہیں بلکہ رحمت اور عدل ہے۔ پیغامِ پاکستان کے متفقہ فتوی نے، جس پر تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء نے دستخط کئے، یہ بات مزید دوٹوک انداز میں واضح کر دی ہے کہ ریاستی اختیار کے بغیر مسلح جدوجہد جہاد نہیں بلکہ غیر شرعی اور غیر اسلامی ہے۔
پاکستان اپنے آئین اور مسلح افواج کے ذریعے اسلام کی حرمت اور ریاست کی خودمختاری کے دفاع پر پوری طرح کاربند ہے اور دہشت گردانہ فکر کو مسترد کرتا ہے جو دین کے نام پر اسلام کو بدنام کرتی ہے۔پاکستان کا آئین اور افواج قومی سلامتی اور اسلامی اقدار کے ضامن ہیں۔اسلام کی اصل طاقت اخلاقی عظمت اور عدل میں ہے، نہ کہ مسلح تشدد میں۔عسکریت قومی وحدت کو کمزور کرتی ہے اور پاکستان کے دشمنوں کے عزائم کو تقویت دیتی ہے۔اسلام کی حقیقی میراث علم، عدل اور امن ہے، نہ کہ تباہی اور خونریزی۔قرآن فساد اور خونریزی پھیلانے والوں کی مذمت کرتا ہے۔پاکستان میں مسلح عسکریت جہاد نہیں بلکہ فساد ہے ۔نبی کریم ﷺ نے بے گناہوں کے قتل سے منع فرمایا۔اسکولوں اور مساجد پر دہشت گرد حملے اسلام کی تعلیمات کے منافی ہیں۔پیغامِ پاکستان جیسی متفقہ دستا ویز کی رو سے دہشت گردی غیرشرعی اور غیر اسلامی ہے۔قومی دفاع کا اختیار صرف افواجِ پاکستان کو حاصل ہے۔عسکریت پاکستان کو کمزور اور دشمنوں کو مضبوط کرتی ہے۔
اسلام کی شبیہ دہشت گردی سے نہیں بلکہ امن سے مضبوط ہوتی ہے۔اسلام زندگی، عزت اور عدل کا محافظ ہے۔پاکستان کا واضح موقف ہے کہ قتل و غارت گری جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔اسلام جان کے تحفظ کا حکم دیتا ہے، اس کی پامالی کا نہیں۔رسول اللہ ﷺ نے جنگ میں عورتوں، بچوں اور عبادت گزاروں کے قتل سے منع فرمایا۔پاکستان میں عسکریت پسندی نے مساجد، اسکولوں اور بازاروں کو تباہ کیا، یہ فساد ہے جہاد نہیں۔پیغامِ پاکستان میں درج علماء کی رائے کے مطابق ریاستی اختیار کے بغیر مسلح جدوجہد ناجائز اور غیر اسلامی ہے۔عسکریت پسندی اسلام کو دنیا میں بدنام کرتی ہے، جبکہ اسلام رحمت اور عدل کا دین ہے۔تکفیری فکر بھی مذہبی احکامات کی وہ بگڑی ہوئی شکل ہے جس نے اسلام کے اصولوں کے برعکس معاشرے میں تقسیم اور نفرت کو پروان چڑھایا ہے ۔محض اختلاف رائے کو بنیاد بنا کر کسی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے مخالفین کے عقائد کو کفر قرار دے کر تشدد کا جوازپیدا کرے۔ اسلام میں کسی کو کافر قرار دینا (تکفیر)نہایت حساس معاملہ ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اسلامی روایات میں ہمیشہ اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف وہی مستند اور جید علماء جو قرآن، سنت اور فقہ میں گہری بصیرت رکھتے ہوں، اس معاملے پر رائے دے سکتے ہیں اور وہ بھی انتہائی احتیاط کے ساتھ۔
نبی اکرم ﷺ نے سختی سے خبردار کیا کہ بلاوجہ کسی مسلمان کو کافر کہنا نہ صرف گناہ ہے بلکہ یہ الزام پلٹ کر خود الزام لگانے والے پر عائد ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے شدت پسند گروہ اور افراد اس تصور کا غلط استعمال کرتے ہیں اور تکفیر کو اپنے ہاتھ میں لے کر تشدد، فرقہ واریت اور ریاست کے خلاف بغاوت کو جائز قرار دیتے ہیں۔ امت مسلمہ کے اتحاد اور معاشرتی استحکام کے تحفظ کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ اس امر کو واضح کیا جائے کہ تکفیر کا اختیار صرف مستند علما اور اسلامی عدالتوں کے پاس ہے، نہ کہ عام افراد یا مسلح گروہوں کے پاس۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پر تشدد روئیے اور تکفیری سوچ کی پاکستان کے اسلامی معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں۔

یہ بھی پڑھیں