Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

ماحولیاتی تبدیلی کی آڑ میں بھارتی آبی دہشت گردی

ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پاکستان دشمن سوچ طشت از بام ہورہی ہے۔ نریندر مودی اور اس کےخاص حواریوں کے سر پر پاکستان کو برباد کرنے کا بھوت سوار ہے۔ آپریشن سیندورکی ناکام فوجی مہم جوئی شروع کرنے سے پہلے ہی بھارت نے آبی جارحیت کا ہتھیار آزمانا شروع کر دیا تھا۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد مودی سرکار نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے عالمی قوانین اور ضابطوں کی دھجیاں اڑائیں۔ ماضی میں بھی نریندر مودی نے پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لئے ترسانے کا ارادہ عوامی جلسوں میں بیان کر کے روایتی خبث باطن کا اظہار کئی مواقع پر کیا ہے۔ حالیہ مون سون سیزن کی شدت کا فائدہ اٹھاکر بھارت نے جس انداز میں سیلابی پانی پاکستان کی جانب چھوڑا ہے اس سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ بھارت بطور ریاست پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ ڈیموں سے اچانک بغیر پیشگی اطلاع پانی چھوڑنے کا طرز عمل قابل مذمت بھی ہے اور بی جے پی کی متعصب حکومت کی شرپسند ذہنیت کا واضح ثبوت بھی ہے۔ بھارت اپنی اس شر انگیزی کو ماحولیاتی تبدیلی کےاثرات کےطور پر پیش کررہاہے،مگر حقیقت میں یہ اقدامات سیلاب کا باعث بنے ہیں، کھیت تباہ کررہے ہیں، اورانسانی جانوں کوخطرے میں ڈال رہے ہیں ۔ بھارت نے دانستہ سیلابی ریلے کی پیشگی اطلاع دینے سے گریز کیا۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت آبی کمیشن کے ذریعے اطلاع دینے کے بجائے نہایت تاخیر کے ساتھ سفارتی ذرائع سےاطلاع دےکرپاکستان کےلئے داخلی اور انتظامی بحران کی صورتحال پیدا کردی گئی۔ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے تسلسل میں بھارت کے یہ مجرمانہ ریاستی اقدامات ایک ایسی تباہ کن خفیہ حکمتِ عملی کو بےنقاب کرتے ہیں جن کا مقصدخطے کے امن کو سبوتاژ کرنا ہے۔پاکستان اور بھارت کے پیچیدہ اور کشیدہ تعلقات میں پانی ایک تباہ کن ہتھیار بن چکا ہے۔ وہ دریا جو بھارت سے نکل کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، لاکھوں کسانوں اور بستیوں کی زندگی کا سہارا ہیں۔ بھارت پانی جیسے اہم قدرتی نعمت کومجرمانہ دبائو اورحیاتیاتی تباہی کےہتھیار میں بدل کر خطے میں تذویراتی کشمکش کی آگ بھڑکا رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی یا ’’کلائمیٹ چینج‘‘ جیسی اصطلاحات کی آڑ میں بھارت پر جان بوجھ کر ڈیموں سے اچانک پانی چھوڑ کر پاکستان کے آبی تحفظ کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔
بھارت کی جانب سے اچانک ڈیم سے پانی چھوڑنے کے اقدامات محض غیر متوقع موسمی تغیرات کا نتیجہ نہیں بلکہ سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت کیے گئے تخریبی اقدامات ہیں جن کا مقصد پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے۔ یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ ایسے سازشی اقدامات کے ذریعے کھیت ڈبو دیےجاتے ہیں، آبپاشی کے نظام درہم برہم ہوتے ہیں، غریب آبادیوں کو بےگھر کیاجاتا ہے اور قومی زرعی معیشت کو مفلوج کیا جاتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کابہانہ استعمال کر کےبھارت اپنی سوچے سمجھےاقدامات کو چھپانے اور عالمی تنقید سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔سرحد پار پانی کے وسائل کو دانستہ چال بازی میں استعمال کرنا دراصل ’’ ریاستی آبی دہشت گردی‘‘ ہے قدرتی وسائل کو سیاسی دھونس اور معاشی تباہی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بھارت کی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب اور سندھ کی آبادیوں کے لیے یہ اچانک آنے والے سیلاب کوئی قدرتی حادثات نہیں بلکہ مودی سرکارکی آبی جنگی حکمت عملی کے واضح شواہد ہیں،۔ غیر متوقع سیلابی ریلے ملک کے طول و عرض میں خوف اور غیر یقینی کا باعث بن سکتے ہیں ۔
بھارت کی اصل نیت تو یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو پامال کرتے ہوئے تمام دریائوں پر قابو پا کرپانی کےہتھیارسے پاکستان کو زیردست ریاست بنادیاجائے۔بھارت کا شرپسندانہ رویہ سندھ طاس معاہدے کو نقصان پہنچارہا ہےجس کے نتیجے میں کسی بھی وقت خطے کا امن تہہ و بالا ہو سکتا ہے۔ آبی وسائل سے بھڑکنی والی مخاصمت کے نتائج نہ صرف انسانی اور مادی تباہی کی صورت میں سامنے آئیں گے بلکہ ماحولیاتی بگاڑ اور بڑھتے ہوئے بداعتمادی کی فضا کے باعث دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کا خطرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
اس آبی دہشت گردی کے سلسلے کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری شفافیت کو یقینی بنائے اورطے شدہ معاہدات کے مطابق بروقت پانی کے بہائو کی پیشگی اطلاعات کےتبادلے، آزادانہ نگرانی اور دریائوں کی تقسیم کے مسلمہ طریقہ کارکی پابندی کو یقینی بنانے کا بندوبست کیاجائے۔ اگر پاکستان کےجائز خدشات پر توجہ نہ دی گئی تو مودی سرکار کی آبی دہشت گردی خطے سمیت عالمی امن کو برباد کر دے گی۔

یہ بھی پڑھیں