کسی بھی معاشرے میں صحافی، شاعر، ادیب، ناول نگار یا کتاب لکھنے والا کوئی مصنف عزت کے اونچے درجے پر فائز ہوتا ہے۔اس کی تکریم صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو شعوری طور پر یہ علم رکھتا ہو کہ لکھنے والے کی اہمیت اور مقام کیا ہے۔لکھاری کون ہے؟ پہلے اس پر گفتگو کر لیتے ہیں تاکہ کالم کی غرض و غایت آپ کے سامنے آ سکے اور آپ آگہی حاصل کر سکیں کہ ایک لکھاری کا کسی بھی معاشرے میں کیا مقام ہے؟ اور اسے کیا مقام ملنا چاہیئے تاکہ یہ اہمیت واضح اور اس کا مقام اجاگر ہو سکے۔لکھاری ہندی زبان کا لفظ ہے،جبکہ ارود میں اس کے معنی قلمکار، رکھنے والا اور مصنف کے ہیں۔لکھاری کے متبادل لفظ راقم اور آتھر ہیں۔سب سے پہلے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ لفظ لکھاری غلط العام ہے۔اصل اور صحیح لفظ لیکھک ہے تاہم ہمارے ہاں لکھنے والے کو لکھاری کہنے کا رواج ہے،کثرت سے لکھا اور بولا جاتا ہے۔تاہم یہ ضروری نہیں کہ لکھنے والا ذاتی تخلیق کرتا ہو۔کچھ بھی دیکھ کر وہ لکھ سکتا ہے۔کسی تحریر کو کاپی بھی کر سکتا ہے۔تاہم مصنف ہمیشہ اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر لکھتا ہے۔وہ دوسروں کو کاپی نہیں کرتا۔ نا دوسروں کی تحریر کو اپنے نام سے منسوب کرتا ہے۔یہی وجہ ہے آج کے دور میں مصنف کم اور لکھاری زیادہ ہیں۔لکھنے والوں کے لیئے اردو میں اصل لفظ قلمکار ہی ہے- لکھاری یا لیکھک خالص ہندی الفاظ ہیں۔ان الفاظ کا استعمال چند دہائیوں سے اب اردو زبان میں بھی ہونے لگا ہے جو بالکل غلط اور اردو لغت کے سراسر خلاف ہے-عام طور پر مصنف انہیں کہا جاتا ہے جن کی تصنیف کتابی صورت میں چھپ جاتی ہے۔ادبی حلقوں میں اکثر یہ بحث رہی ہے کہ لکھنے والے کو راقم کیوں نہیں کہا جاتا۔لکھاری ہی کیوں کہا جاتا ہے۔بیس پچیس سال پہلے تک اخبارات و رسائل میں لفظ لکھاری کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا۔اس وقت لکھنے والوں کے لیئے لفظ قلمکار ہی استعمال ہوتا تھا۔مگر ان بیس،پچیس سالوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔بدلتے وقت کے ساتھ قلمکار کی جگہ لکھاری نے لے لی ہے،جو خالصتاً ہندی لفظ ہے لیکن وقت کی تبدیلی کے ساتھ لوگوں نیاس لفظ کو بھی قبول کیا ہے۔اردو زبان میں لکھنے والے کو اکثر و بیشتر اب لکھاری ہی کہا جاتا ہے۔اہل علم کہتے ہیں اپنی شناخت کے لیئے اپنا کلچر اور اپنی زبان کبھی نہیں چھوڑنی چاہیئے ۔جب سے ٹی وی کے ذریعے ہندی فلموں، ہندی کلچر اور زبان نے ہمارے کلچر میں فروغ پایا ہے،بہت سے ہندی لفظ ہماری زبان میں رچ بس گئے ہیں۔ غالب اکثریت ان الفاظ کا استعمال کرتی ہے۔لکھنے والوں میں شاعر بھی ہماری تہذیب و ثقافت کا اہم اثاثہ ہے۔علامہ اقبال سے لے کر فیض احمد فیض،حفیظ جالندھری،احمد ندیم قاسمی،منیر نیازی،قتیل شفائی،احسان دانش اور صوفی تبسم تک سب نے اپنی شاعری میں محبت اور وطن سے عقیدت کا اظہار کیا اور امر ہو گئے-انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز پاکستان کی وہ واحد تنظیم ہے جو قلمکاروں کی اہمیت کو سمجھ رہی ہے اور دل سے تسلیم بھی کر رہی ہے۔دور کوئی بھی ہو،تخلیق کاروں کو وقت اور حالات کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہیئے۔نفسا نفسی کے اس پر آشام دور میں قلمکاوروں کی خدمت کا بیڑہ اٹھانا واقعی دل گردے کا کام ہے اور یہ کام تنظیم کے روح رواں زبیر احمد انصاری نے سنبھالا ہوا ہے۔جو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین بھی ہیں۔یہ ایک سیاسی پلیٹ فارم ہے۔زبیر احمد انصاری نے بڑی سیاسی جماعتوں کی موجودگی کے باوجود نئی سیاسی جماعت کیوں قائم کی؟ زبیر احمد انصاری سے مجھے متعدد بار ملنے کا موقع ملا ہے۔میں نے انہیں روزِ اول سے ہی اپنی سیاسی اور ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے بہت پرعزم پایا ہے۔وہ درد مند شخص ہیں اور دوسروں کے لیئے کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہتے ہیں۔
انصاری صاحب کے سیاسی وژن کے تناظر میں گزشتہ کالم میں کافی کچھ لکھ چکا ہوں۔میرا مقصود نظر اب ان کا ادبی پلیٹ فارم انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز ہے۔جس کا تنظیمی ڈھانچہ نہ صرف ملک کے مختلف شہروں میں بلکہ بیرون ملک بھی پھیلایا جا رہا ہے۔اس کے بے شمار دفاتر اندرون ملک اور بیرون ملک قائم بھی ہو چکے ہیں۔ممبران کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔اب تک پورے پاکستان میں 20 ہزار سے زائد ممبر اون لائن بن چکے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز قلمکاروں کی مدد کے لئے ہمہ وقت مصروف اور کوشاں ہے- ہیلپ کے لیئے موصول ہونے والے درخواستوں پر فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز نے ایک نعتیہ مقابلے کا بھی اہتمام کیا ہے۔جس کے تحت تین بہترین نعت لکھنے والوں کے لئے نقد انعامات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔مقابلہ تنظیم کے ان ممبران کے مابین ہو گا جو شاعری سے رغبت رکھتے ہیں اور شاعر ہیں۔اچھی بات ہے کہ تنظیم اس قسم کے پروگراموں کا بھی انعقاد کر رہی ہے۔آئندہ بھی اس طرح کے پروگراموں کے انعقاد کا ارادہ رکھتی ہے۔نثر کے شعبہ میں بھی جلد ایسی ہی شروعات ہوں گی جس سے اچھی شاعری اور مضامین لوگوں کی شعوری طاقت کو بڑھائیں گے۔ان کے ذوقِ طبع کا باعث بنیں گے۔اس سے تخلیقی اور تحریری صلاحیتوں کو بھی فروغ ملے گا۔معاشرے کی گرتی ہوئی اخلاقی گراوٹ میں یہ اچھی شروعات ہیں۔جس کی ہر طرح سے ہر سطح پر بھرپور پذیرائی اور حوصلہ افزائی ہونی چاہیئے۔میں تو کہوں گا حکومتی سطح پر بھی تنظیم کے اس اچھے عمل کو سراہا جانا چاہئیے۔