Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

شنگھائی کانفرنس کا اعلامیہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

شنگھائی تنظیم دنیا کی 40 فیصد سے زیادہ آبادی کی نمائندہ ایک انتہائی طاقتور تنظیم ہے جس کا 25 واں سربراہی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ اس تنظیم پر چین کا اثر و رسوخ زیادہ ہے اور چین ہمارا ہمسایہ اور دیرینہ دوست ملک ہے۔ لیکن اس کانفرنس کے اختتامی اعلامیہ میں پاکستان اور بھارت کو نہ صرف برابر اہمیت دی گئی، بلکہ کئی حوالوں سے یہ مشترکہ اعلامیہ ہمارے لئے مایوس کن رہا کیونکہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا حوالہ تو دیا گیا مگر بھارت میں پہلگام اور پاکستان میں دہشت گردوں کے حملوں کا ایک ساتھ ذکر کیا گیا۔ اگرچہ اس اعلامیہ میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر اعلامیہ کے مکمل متن سے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو دہشت گردی کے شریک مظلوم کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس حکمت عملی سے توازن قائم کرنے کی تو کوشش کی گئی مگر ہمارے لیئے جو اہم امور ہیں وہ سردست پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم ایک ایشیائی سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعاون کی تنظیم ہے جسے چین کے شہر شنگھائی میں 2001ء میں چین، روس، قازقستان، کرغستاناور ازبکستانکے رہنماں نے قائم کیا۔ یہ تمام ممالک شنگھائی پانچ کے اراکین کہلائے۔ جب 2021 ء کے آخر میں ازبکستان اس میں شامل ہوا، تب اس تنظیم کا نام بدل کر’’شنگھائی تعاون تنظیم‘‘ رکھ دیا گیا۔
10 جولائی2015ء کو اس میںپاکستان اور بھارت کو بھی شامل کیا گیا۔ ہم پاک چین دوستی کا ہمیشہ دم بھرتے ہیں اور ایسا کرنا بھی چایئے۔ پاک بھارت حالیہ جنگ میں پاکستان کی تاریخی کامیابی کے پس پردہ چین کا تعاون بھی شامل تھا۔ اس کے باوجود شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کا چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ اجلاس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کو اپنی سفارتی حکمت عملی کو متوان کرنے پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی فتح نے دنیا بھر میں پاکستان کے تشخص کو غیرمعمولی طور پر اجاگر کیا ہے۔ بھارت کے مقابلے میں امریکہ کا جھکائو واضح طور پر پاکستان کی طرف ہو گیا ہے اور امریکی صدر ہر سطح پر بھارت کی سرزنش اور پاکستان کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں۔ جبکہ مغربی ممالک اور روس میں بھی پاکستان کے لئے نرم گوشہ پیدا ہوا ہے۔ جبکہ شنگھائی تنظیم کے اجلاس میں بھارت کے ساتھ پاکستان کے تنازعات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی ہے۔ اعلامیہ میں کہیں بھی پاکستان کے بنیادی مسئلے یعنی بھارت کی جانب سے ’’آبی جارحیت‘‘اور بالخصوص سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی)کو بھارت کی طرف سے معطل کرنے اور اس میں ردوبدل کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اور نہ ہی بھارت کی یکطرفہ کارروائی کے تحت آئین کے آرٹیکل 370کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کو ’’بھارتی اکھنڈ یونین‘‘میں ضم کرنے، کا کوئی ذکر موجود ہے۔ یہاں تک کہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے تحت تسلیم کیا گیا ہے، کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔اس مشترکہ اعلامیہ میں بھارت کے لئے ان مسائل کا غیر موجود ہونا ایک سفارتی کامیابی ثابت ہوا۔ نہ صرف نئی دہلی کو کشمیر میں اپنی غیر قانونی کارروائیوں پر کسی تنقید سے بچا لیا گیا بلکہ پاکستان کے خدشات کو موثر طور پر پس پشت ڈال دیا گیا۔ مئی کی جھڑپ کے دوران بھارت کے پاکستان پر بلااشتعال حملے پر ایس سی او کی خاموشی اور مکمل تحقیقات کی عدم موجودگی نے مزید بھارت کے حق میں پلڑا جھکا دیا ہے۔ اس کے برعکس، پہلگام حملے کو نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا تاکہ بھارت کے بیانیئے کو عالمی توجہ ملے جبکہ پاکستان کا موقف دب کر رہ گیا۔
بے شک چین اور روس ایک دوسرے کے زیادہ قریب آ رہے ہیں اور بھارت کے روس پر اثرات کی وجہ سے چین نے اعلامیہ کو متوازن رکھا۔ لیکن اس وقتی جھکائو کو انتہائی سنجیدہ لیا جانا چایئے اور ہماری وزارت خارجہ کو سوچنا چایئے کہ چین کے ساتھ خارجہ پالیسی کے میدان میں کہاں کمی بیشی رہ گئی ہے۔ یہ عدم توازن ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا چین واقعی پاکستان کا ہمہ موسم دوست ہے؟ پاکستان کے اندر موجود کمیونسٹ نواز لابی طویل عرصے سے بیجنگ کو ایک قابلِ اعتماد اور وفادار شراکت دار کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ لیکن ایک ایسے فورم میں جہاں چین کا اثر و رسوخ نمایاں ہے، پاکستان کے قومی مفادات، بالخصوص کشمیر اور آبی سلامتی کو نمایاں کیا جانا مقصود تھا۔ یہ کسی بھول چوک کا نتیجہ نہیں بلکہ اس امر کی عکاسی ہے کہ کثیرالجہتی فورمز میں بھارت کتنا وزنی کردار رکھتا ہے اور پاکستان کا ایک ہی شراکت دار پر انحصار کس قدر محدودیت پیدا کرتا ہے۔یہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف کا ذکر بھی ضروری ہے، جنہوں نے کھلے عام تسلیم کیا کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک تنازعہ ہے اور اس کے غیر حل شدہ ہونے کو واضح طور پر مانا۔ ٹرمپ کے اس مقف نے کشمیر کے مسئلے کو دوبارہ عالمی منظرنامہ پر اجاگر کیا اور اسے بین الاقوامی سفارتکاری کے ایوانوں تک پہنچا دیا۔ یہ اعتراف، اگرچہ مختصر ہے، تاہم یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بااثر عالمی رہنماں کی وضاحت کسی بھی ’’بیانئے‘‘کو بدل سکتی ہے۔ یہ ایسا بنیادی کام ہے جو شنگھائی تنظیم کے اعلامیہ میں نظر آنا چایئے تھا۔خارجہ پالیسی کی از سرِ نو ترتیب ناگزیر ہے، ایسی حکمت عملی جس میں چین کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکہ، یورپ اور مسلم دنیا کے ساتھ روابط کو مضبوط بنایا جائے تاکہ پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس میں ہمارے لیئے سبق واضح ہے کہ کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان کے مسئلے اس وقت تک اجاگر نہیں ہوں گے جب تک اسلام آباد خود انہیں وضاحت، حکمت عملی اور تسلسل کے ساتھ آگے نہ بڑھائے۔

یہ بھی پڑھیں