(گزشتہ سےپیوستہ)
انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! ’’قریب آئو‘‘ دوبارہ ان کے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیںحضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی کا اظہار کیا تھا؟سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:’’فاطمہ! میں آج رات(اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔جس پر میں رو دی‘‘جب انہوں نے مجھے بے تحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے: ’’فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی‘‘ جس پر میں خوش ہوگئی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں: پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کو گھر سے باہر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:’’عائشہ! میرے قریب آجائو‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زوجہ مطہرہ کے ساتھ ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں اللہ کی، انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔) صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:’’میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔‘‘ جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:’’یارسول اللہ! ملک الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔‘‘ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:’’جبریل! اسے آنے دو‘‘ ملک الموت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:”’’السلام علیک یارسول اللہ! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئے بھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟‘‘ فرمایا:’’مجھے اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔‘‘ملک الموت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:’’اے پاکیزہ روح!اے محمد بن عبداللہ کی روح!اللہ کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو! راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا‘مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا’’رسول اللہ کا وصال ہوگیا! رسول اللہ کا وصال ہوگیا‘‘! مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر علی کرم اللہ وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔ادھر عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:’’خبردار! جو کسی نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا! میرے آقا تو اللہ تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا‘‘ ۔
اس موقع پر سب سے زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی تھی‘ آپ حجرہ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سین مبارک پر سر رکھ کر رو دیئے۔۔۔کہہ رہے تھے:وآآآ خلیلاہ، وآآآ صفیاہ، وآآآ حبیباہ، وآآآ نبیاہ (ہائے میرا پیارا دوست! ہائے میرا مخلص ساتھی!ہائے میرا محبوب! ہائے میرا نبی !)پھر آنحضرت صلی علیہ وآلہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:’’یا رسول اللہ! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔‘‘ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:’’جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ اللہ تعالی شانہ کی ذات ہمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی‘ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر رئوں‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی تدفین کر دی گئی‘ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو‘‘؟پھر کہنے لگیں:’’یا بتاہ، اجاب ربا دعاہ، یا ابتاہ، جنۃ الفردوس ماواہ، یاا بتاہ، الی جبریل ننعاہ‘‘ ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔