بعض لوگوں کے خیال میں سوشل میڈیا بند کرنا ممکن نہیں، لیکن اس کا غلط استعمال روکنا تو ممکن ہے۔ ہمیں نوجوانوں، طلبہ، والدین، علماء ، حکام اور سوسائٹی کے ہر فرد کو سوشل میڈیا کے فتنوں سے آگاہ کرنا ہوگا ورنہ سوشل میڈیا کا یہ جدید فتنہ صرف نوجوان نسل کو ہی نہیں، بلکہ سیکولر یوٹیوبر کے ساتھ ساتھ’’مولوی‘‘’’مفتی‘‘ یوٹیوبر کو بھی بہا لے جائے گا،ان یو ٹیوبرز مفتیوں کو کوئی بتائے کہ سوشل میڈیا کے صیہونی پلیٹ فارم کے ذریعے تم زیادہ سے زیادہ نوٹ کما سکتے ہو یا اپنا لبرل سیکولر چہرہ متعارف کروا سکتے ہو ، یہی وجہ ہے کہ کل تک جو ’’استاد صاحب‘‘جہاد اور مجاہدین کے وارث بن کر لاکھوں روپے جہادی جماعتوں میں تقسیم کیا کرتے تھے، آج ان کی زیر سرپرستی ان کے سوشل میڈیا کے’’شیر‘‘قانون ناموس رسالت ﷺ کو ’’شدت پسند مولویوں‘‘کے ساتھ جوڑ رہے ہیں، یعنی یوٹیوب چینلز کی ’’حلال‘‘ آمدن آنے کے بعد ان کی سمجھ دانی میں یہ بات آئی کہ 295سی کے حوالے سے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی بات کرنے والے مولوی تو شدت پسند ہیں،ساری عمر مدرسوں میں زکوٰۃ ، صدقات،کی روزی روٹی کھا کر صیہونی پلیٹ فارم سوشل میڈیا کے یوٹیوبر بننے والے بے چارے’’لبرل‘‘ مولویوں کو یہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ آج مرزا جہلمی 295 سی کے رگڑے میں آگیا،کل نئے نویلے لبرل یو ٹیوبر مفتی کی زبان دوبارہ پھسلی تو کہیں یہ رگڑا انہیں بھی نہ لگ جائے۔
یادش بخیر!یہی یوٹیوبر مولوی جی ہیں کہ ابھی کچھ عرصہ قبل گوروں کے دیس میں جنکی زبان سید الانبیاءﷺ کی حرمت کے حوالے سے ’’غوطہ‘‘کھا گئی تھی۔’’اوہ‘‘ نہیں، بقول ان کے ان سے سبقت لسانی ہو گئی تھی،اچھا جی، مان ہی لیتے ہیں کیونکہ ان کے سرپرست استاد صاحب انہیں مسلح لشکر کے سائے تلے ائیرپورٹ سے نکال لائے تھے،اور انکی طرف سے ’’دبائو‘‘ کے تحت مانگی جانے والی معافی بھی ان کے اکابرین کے ہاں شرف قبولیت پا چکی تھی، صیہونی پلیٹ فارم کے یوٹیوبر مولویان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ اور اپنے ادارے سے شدت پسندی کو ضرور کھرچ کھرچ کر دھو ڈالیں، شوق سے لبرل بنیں، سیکولر بنیں، امریکہ و یورپ کے تالے کھلوانے کے لئے جو چاہے ڈھول بجائیں،شور مچائیں، لیکن قانون ناموس رسالت کو شدت پسندی کے ساتھ جوڑنے کی واردات نہ کریں ، ختم نبوت ﷺ،ناموس رسالت ﷺکو تحفظ فراہم کرنے والے قانون 295 سی کو شدت پسندی کے ساتھ جوڑنے کی بجائے اپنی زبانوں کو قابو میں رکھیں ،اور حرمت رسول ﷺ کے حوالے سے ہر قسم کی شر انگیز سبقت لسانی سے بچنے کی کوشش کریں، 295 سی تو اک صاف شفاف ’’آئینہ‘‘ہے،یہ قانون کسی پیر،فقیر،مولوی،مفتی خطیب ،واعظ،اینکر،اینکرنی کالم نگار ،صحافی‘سیاست دان‘ حکمران،ذاکر، مجتہد، اسکالر،عامل،پروفیسر،دانشور،علامہ،ایڈوکیٹ،یاجج وغیرہ کے خلاف نہیں، بلکہ ہر اس کے خلاف ہے کہ جو خناس اپنی زبان وبیان ،یا تحریر و تقریر اور گمراہ فکر غلیظ بیانئے کے ذریعے حرمت رسولﷺپر ’’جری‘‘ ہونے کا خواہشمند ہے ، محسن انسانیت ﷺ کی شان اقدس میں توہین آمیز تحریر‘ تقریر‘ گفتگو وغیرہ کی روک تھام کے لئے بنائے گے قانون ناموس رسالت295Cکا خوبصورت اور شفاف آئینہ توڑنے یا اسے شدت پسندی کے ساتھ جوڑنے کی بجائے ہر ایک کو اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے ، یہ قانون معاشرے میں امن ۔سلامتی کاضامن ہے ۔ اس خاکسار نے اپنے قلم کو ہمیشہ علماء کرام ،دینی مدارس ، مجاہدین اسلام، اکابرین امت اور مظلوم انسانیت کے لئے وقف رکھا،الحمدللہ،لیکن میرے نزدیک کوئی مولوی یا صیہونی پلیٹ فارم کا یو ٹیوبر مفتی ناموس رسالت ﷺ سے زیادہ مقدس نہیں ہے، ہمارا قلم اس کا پہریدار ہے،جو ختم نبوت ﷺکا وفادار ہے۔
ہماری کسی کے ساتھ نہ تو کوئی ذاتی دشمنی ہے اور نہ عداوت ، اگر کسی یو ٹیوبر مولوی صاحب کو اپنے علم پہ فخر ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنا علم سنبھال کے رکھیں، کیونکہ جب علم جگہ جگہ لیک ہونا شروع ہو جائے اور بالخصوص زبان ’’سبقت لسانی‘‘کی آلودگی کا ذائقہ بھی چکھہ لے، تو پھر رسوائیاں اور ذلتیں مقدر بن جایا کرتی ہیں، اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے، مرزا جہلمی نے عیسائیوں کی طرف منسوب کر کے آقا و مولی ﷺکی شان اقدس کے خلاف جو گستاخانہ الفاظ ادا کئے تھے ان کو سننے کے بعد یوٹیوبر مفتی صاحب کی ذمہ داری تھی کہ وہ گستاخ کا وکیل صفائی بننے کی بجائے اگر گستاخ کے خلاف بول نہیں سکتے تھے تو معاملہ عدالت پر چھوڑ دیتے، مگر لگتا ہے کہ انہیں قانون ناموس رسالت ﷺ295 سی کو شدت پسند مولویوں کے ساتھ نتھی کرنے کی جلدی تھی، جس نبی محترم ﷺکے نام پر ساری عمر کھایا اور اپنی نسلوں کو پالا پو سا،جس نبی محترم ﷺ کے نام پر معاشرے میں مقام حاصل کیا، جب اس نبی محترم ﷺ کی عزت و ناموس کے دفاع کا موقع آیا تو گستاخ کے ساتھ جا کھڑے ہوئے، چلو اگر کسی یوٹیوبر مفتی کے علم کا سمندر مرزے کو گستاخ رسول تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو نہ سہی ،مرزے کا گستاخ اولیا ،گستاخ صحابہ ہونے کی گواہی تو ہر دردمند دل رکھنے والا مسلمان پہلے سے دیتا چلا آ رہا ہے، یوٹیوبر صاحب کو چاہئے کہ وہ اپنے پالتوئوں سے اس خاکسار کو گالیاں یا دھمکیاں دلوانے کی بجائے اپنی ادائوں پہ غور فرمائیں،اس خاکسار نے اگر ’’استاذ الاساتذہ‘‘ کی شدت پسندانہ اداں پر تھوڑا تھوڑا بھی عرض کرنا شروع کیا تو سینکڑوں صفحات پر مشتمل کتاب بن جائے گی، بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ :
’’خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں‘‘
بالکل اسی طرح اپنی زبان و قلم خیالات ،فکر تقریر، تحریر کو قابو میں رکھنے کی بجائے اگر کوئی295‘سی کا آئینہ بدلنا چاہتا ہے تو پاکستان کے مسلمان ایسا ہونے نہیں دیں گے،اس لئے کہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ عین ایماں ہے، پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ملک ہے،پاک سرزمین کو مقدس ترین شخصیات اور شعائر اللہ کی توہین کے لئے استعمال کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنا لازم ہے، کیونکہ نبی کریمﷺ کی ناموس کا تحفظ دراصل دین اسلام کا تحفظ ہے،اللہ کریم کے بعد جس ہستی کا ہم پر سب سے زیادہ احسان ہے وہ سرور کائنات رحمت عالم حضرت محمد ﷺکی ذات اقدس ہے، مسلمانوں کا نبی کریم ﷺ سے جو تعلق ہے وہ تمام دوسرے انسانی تعلقات سے بہت بڑا ہے۔ دنیا کا کوئی رشتہ اس رشتے سے اور کوئی تعلق، اس تعلق سے جو نبی کریم اور اہل ایمان کے درمیان ہے، ذرہ برابر بھی کوئی نسبت نہیں رکھتا نبی کریمﷺ مسلمانوں کے لئے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر شفیق و رحیم اور ان کی اپنی ذات سے بڑھ کر خیر خواہ ہیں،لہٰذا وہی سب سے زیادہ قریب بھی ہیں یہاں تک کہ جان سے بھی زیادہ قریب، حقدار اور ولی بھی ہیں،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام الانبیا ﷺ نے ارشاد فرمایا میں دنیا اور آخرت میں ہر مومن کا سب سے زیادہ قریبی ہوں تو جس مسلمان کا انتقال ہو جائے اور مال چھوڑے تو وہ اس کے عصبہ (یعنی وارثوں)کا ہے اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آئیں کہ میں ان کا مددگار ہوں (صحیح بخاری) جب رسول اللہﷺ کا حق تمام ایمان والوں پر سب سے زیادہ ہے تو ان کی محبت بھی اہل ایمان کے دلوں میں سب سے زیادہ ہونی چاہیے،یہاں تک کہ اپنی ذات سے، اپنے ماں باپ سے، اپنی اولاد سے بلکہ تمام انسانوں سے زیادہ محبت رسول اللہ ﷺ کی ذات سے کرنا لازم ہے ارشاد ہے تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے دل میں میری محبت اپنے والد اپنے لڑکے اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو(بخاری، مسلم)