انسانی تاریخ کے بڑے سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں؟ زمین، پانی، ہوا، پرندے، درخت اور جنگلات سب اللہ کی نعمتیں ہیں۔ مگر آج یہ سب آلودگی، لالچ، صنعتی فضلے اور بے قابو انسانی رویوں کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مذہب، خصوصاً اسلام، ہمیں اس بحران کا کوئی راستہ دکھاتا ہے؟ میرا جواب ہے: جی ہاں، اسلام ہمیں نہ صرف نظریہ دیتا ہے بلکہ عملی رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔
ماحولیات ایک الٰہی امانت‘ اسلام میں ماحولیات محض ایک سائنسی یا سیاسی موضوع نہیں بلکہ ایک الٰہی امانت ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا۔ (القرآن 6:165 )
یہ آیت انسان کو بتاتی ہے کہ ہم مالک نہیں بلکہ خلیفہ ہیں۔ مالک حقیقی صرف اللہ ہے، اور ہمیں امانت کے طور پر زمین سونپی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:دنیا سبز و شیرین ہے، اور اللہ نے تمہیں اس میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھے تم کیسے عمل کرتے ہو۔ (صحیح مسلم) یہ پیغام واضح کرتا ہے کہ ماحول کی حفاظت ہماری دینی ذمہ داری ہے۔قانون اور محبت کا توازن اگر قانون محبت کے بغیر ہو تو سختی اور ظلم کا سبب بنتا ہے۔ اگر محبت قانون کے بغیر ہو تو سمت کھو دیتی ہے۔ اسلام نے ان دونوں کو ملا کر ایک ایسا کمپاس دیا ہے جو انسانیت کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ محبت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ درخت بھی سانس لیتے ہیں اور یہ سب اللہ کی نشانی ہیں۔دیانتداری ہمیں اس وقت بھی سیدھے راستے پر رکھتی ہے جب کوئی ہمیں نہ دیکھ رہا ہو۔
قانون ان اصولوں کو عملی شکل دیتا ہے تاکہ پوری انسانیت ان سے فیض پائے۔فقہ اسلامی کے مقاصد الشریعہ میں جان، عقل، نسل، مال اور دین کی حفاظت شامل ہے۔ آج بہت سے علماء اس فہرست میں ماحول کی حفاظت کو بھی شامل کرتے ہیں، کیونکہ زمین کی بقا کے بغیر باقی سب کی حفاظت ممکن نہیں۔قرآن سے عمل کی طرف قرآن صرف نظریہ نہیں دیتا بلکہ عمل کا مطالبہ کرتا ہے:اور زمین میں فساد نہ کرو بعد اس کے کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہو۔ (القرآن 7:56 )
یہ آیت آج کی دنیا کے لیے براہِ راست پیغام ہے۔ جنگلات کی کٹائی، فضلہ، بے قابو توانائی کا استعمال اور آلودگی سب اسی فساد فی الارض کی شکلیں ہیں۔ اسلامی قانون کہتا ہے: ماحول کو نقصان پہنچانا دراصل اپنی نسلوں کو تباہ کرنا ہے۔ موجودہ دور کی مثبت مثالیںدنیا میں کچھ ملک ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو امید دلاتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات (UAE): گرین اور بلیو ویزا پروگرام ماحولیاتی جدت اور پائیدار ترقی کے ماہرین کو متوجہ کر رہا ہے۔
دبئی کا گرین اکانومی پروگرام: قابل تجدید توانائی، ماحول دوست عمارات اور سبز ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہے۔
COP28 دبئی: اقوام متحدہ کے موسمیاتی اجلاس کی میزبانی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مشرق وسطی بھی ماحولیاتی انصاف کے لیے سنجیدہ ہے۔یہ سب کوششیں کامل نہیں، مگر یہ بتاتی ہیں کہ قانون، پالیسی اور دیانتداری کو یکجا کر کے ماحول کے تحفظ کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ایک عالمی اخلاقی ذمہ داری ماحولیاتی بحران کسی ملک یا قوم تک محدود نہیں۔
موسمی تبدیلی پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہے۔سمندر بلند ہو رہے ہیں اور صحرا پھیل رہے ہیں، جس سے لاکھوں لوگ بے گھر ہو رہے ہیں۔
آلودگی نہ صرف فطرت بلکہ انسانی روح کو بھی زہر آلود کر رہی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اور اللہ کو سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کے کنبے کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔اگر ہم واقعی انسانیت کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں تو ہمیں ماحول کو محفوظ رکھنا ہوگا، کیونکہ یہی انسان کی زندگی کا سہارا ہے۔محبت اور دیانت کے ساتھ قانونمیری ذاتی رائے میں مستقبل کی حکمرانی اور قانون سازی کو جس بنیاد پر استوار ہونا چاہئے وہ ہے سلطنتِ محبت۔ اس سے مراد ایک ایسا نظام ہے جہاں علم، قانون اور ٹیکنالوجی کو محبت اور دیانت کے ساتھ استعمال کیا جائے۔محبت کمزوروں کو سہارا دیتی ہے۔دیانت بدعنوانی کو روکتی ہے۔
قانون ان اصولوں کو مضبوط ڈھانچے میں بدل دیتا ہے تاکہ زمین اور آنے والی نسلیں محفوظ رہ سکیں۔یوں قانون محض ضابطوں کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ انصاف اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔نتیجہ اور دعوتِ فکرقرآن کا آغاز الحمد للہ سے ہوتا ہے یعنی تمام جہانوں کے رب کی حمد۔ ان جہانوں میں صرف انسان نہیں بلکہ پرندے، جنگلات، دریا اور فضائیں سب شامل ہیں۔ اس لیے حقیقی عدل وہی ہے جو محبت کے ساتھ تخلیق کا تحفظ کرے۔
مولانا رومی فرماتے ہیں:اپنی روح کے بدلتے موسموں کو قبول کرو، جیسے تم نے ہمیشہ کھیتوں پر بدلتے موسموں کو قبول کیا ہے۔یہ الفاظ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زمین کے ساتھ ہمارا رشتہ وقتی نہیں بلکہ دائمی ہے۔ ہمیں ایسے قوانین بنانے چاہئیں جو نقصان نہ دیں بلکہ شفا پہنچائیں؛ جو ماحول کو برباد نہ کریں بلکہ اس کی حفاظت کریں تاکہ آنے والی نسلیں بھی ایک صحت مند اور پاکیزہ دنیا دیکھ سکے۔