اسلامی تعلیمات کے مطابق انسانی تاریخ ایک بے ربط سفر نہیں بلکہ ایک الہی منصوبہ ہے جو بالآخر قیامت کے دن پر ختم ہوگا۔ رسولِ اکرمﷺ نے اپنی امت کو رحمت و حکمت کے ساتھ ان نشانیوں سے آگاہ فرمایا جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گی۔
سنی روایت میں صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابودائود اور مسند احمد جیسی معتبر کتابوں میں ان نشانیوں اور شخصیات کا ذکر ملتا ہے۔ کچھ کا ذکر واضح اور صحیح احادیث میں آیا ہے جبکہ کچھ تفصیلات ضعیف روایات جو بعد کے مفسرین کی کتب میں پائی جاتی ہیں۔یہ مضمون آخری زمانے کی ان اہم شخصیات کی ترتیب کو بیان کرتا ہے۔
سفیانی، خراسانی، یمانی، قحطانی، امام مہدی، دجال اور آخر میں حضرت عیسی علیہ السلام کی واپسی۔
سفیانی: شام کاجابر حکمران کلاسیکی سنی محدثین جیسے ابن کثیر(البدایہ و النہایہ) اور البرزنجی (الاشاع لاشراط الساع) نے شام سے ایک جابر حکمران کا ذکر کیا ہے جسے سفیانی کہا جاتا ہے۔ نام کے طور پر سفیانی صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں نہیں ملتا، اور زیادہ تر اسناد ضعیف ہیں۔تاہم ایک واقعہ صحیح احادیث میں ثابت ہے۔
ایک فوج شام سے مکہ کی طرف روانہ ہوگی تاکہ ایک صالح رہنما پر حملہ کرے، لیکن وہ فوج زمین میں دھنسا دی جائے گی۔(سنن ابودائود، حدیث 4286) بعد کے علما ء نے اس فوج کو سفیانی کی طرف منسوب کیا۔خراسانی اور سیاہ پرچم ایک دوسری شخصیت خراسانی ہے جو مشرق سے لشکر لے کر اٹھے گا۔ احادیث میں سیاہ پرچموں والے لشکر کا ذکر آتا ہے۔ یہ روایات سنن ابن ماجہ اور ترمذی میں ملتی ہیں، لیکن اسناد پر اختلاف ہے۔علماء نے ان روایات کو محفوظ رکھا اور انہیں مشرق سے ایک تحریک کی علامت سمجھا جو بالآخر حق کے ساتھ کھڑی ہوگی اور ظلم کا مقابلہ کرے گی۔
یمانی: ہدایت کا پرچم‘کچھ سنی ماخذات میں یمانی کا بھی ذکر ہے جس کا جھنڈا پرچمِ ہدایت کہا جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو حق اور امام مہدی کی طرف بلائے گا۔ مگر اس بارے میں سنی کتبِ حدیث میں صریح اور قوی سند کمزور ہے، اس لیے علما اسے احتیاط کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔
قحطانی: قیامت سے پہلے کا نیک حکمران قحطانی کا ذکر صحیح بخاری میں موجود ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک ایک آدمی قحطان سے نہ نکلے جو لوگوں کو اپنی لاٹھی کے ذریعے چلائے گا۔(صحیح بخاری، حدیث 7117 )
اس کے دورِ حکومت کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں، لیکن اسے ایک عادل حکمران قرار دیا گیا ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا۔امام مہدی کا ظہورآخری زمانے کی سب سے اہم شخصیت سنی روایت میں امام مہدی ہیں۔ سنن ابودائود اور مسند احمد میں کئی احادیث ان کےبارے میں بیان ہوئی ہیں:وہ رسول اللہ ﷺ کی اولاد میں سے ہوں گے، حضرت فاطمہ کی نسل سے۔ان کا نام رسول اللہ ﷺ کے نام سے ملتا ہوگا: محمد بن عبداللہ۔وہ دنیا کو انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم سے بھر گئی ہوگی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اگر دنیا کی عمر کا ایک دن بھی باقی رہ جائے تو اللہ اس دن کو لمبا کرے گا یہاں تک کہ میری اولاد میں سے ایک شخص ظاہر ہوگا، جس کا نام میرا نام ہوگا، اور وہ زمین کو انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم سے بھری ہوگی۔ (سنن ابودائود، حدیث 4282 )
ایک عظیم نشانی یہ بھی ہے کہ ایک فوج بیضا کے صحرا میں زمین میں دھنس جائے گی۔ یہ صحیح روایات میں ثابت ہے اور امام مہدی کی سچائی کی تصدیق کرتی ہے۔ان کا دور حکومت سات سے نو سال تک ہوگا اور وہ عدل و انصاف قائم کریں گے۔دجال کا فتنہ، مسیح دجال کا آنا سب سے بڑی آزمائش ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں آیا ہے کہ وہ ایک آنکھ والا ہوگا، اور اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا۔وہ جھوٹے معجزے دکھائے گا اور لوگوں کو گمراہ کرے گا۔وہ چالیس دن زمین پر رہے گا: پہلا دن سال کی طرح، دوسرا مہینے کی طرح، تیسرا ہفتے کی طرح اور باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے(سنن ابودائود)۔
وہ مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکےگا کیونکہ فرشتے ان کی حفاظت کریں گے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آدم کی پیدائش سے قیامت تک دجال کے فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں۔ (صحیح مسلم) حضرت عیسیؑ کی واپسی ‘آخری مرحلہ حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کی واپسی ہے۔ صحیح احادیث میں ہے کہ وہ دمشق کے مشرقی سفید مینار کے پاس نازل ہوں گے، فجر کے وقت، فرشتوں کے ساتھ۔مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھیں گے اور امام مہدی کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔دجال کو فلسطین کے مقام لد میں قتل کریں گے۔صلیب توڑ دیں گے، باطل کو ختم کریں گے اور توحید کو قائم کریں گے۔ان کے دور میں امن و سکون ہوگا، دولت کی فراوانی ہوگی اور انصاف غالب ہوگا۔
سنی روایت کے مطابق ترتیب کچھ یوں بنتی ہے:شام سے ایک جابر قوت(سفیانی سے منسوب) اور اس کی فوج بیضا میں ہلاک۔مشرق سے خراسانی کی تحریک اور ممکنہ طور پر یمانی کی قیادت۔قحطانی کا ظہور(صحیح بخاری کی روایت کے مطابق)۔
امام مہدی کامکہ میں ظہور اور عدل کا قیام۔دجال کا فتنہ، سب سے بڑی آزمائش۔ حضرت عیسیؑ کی واپسی اور دجال کا خاتمہ۔