مصنوعی ذہانت حدود‘ ہم ایک غیر معمولی دور میں جی رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت نے انسانی زندگی کے تقریبا ً ہر شعبے میں قدم رکھ دیا ہے طب، تعلیم، قانون، حکمرانی، تجارت اور حتی کہ فنونِ لطیفہ تک۔
اب اے آئی چند سیکنڈز میں لاکھوں معلومات پرکھ سکتا ہے، بیماریوں کی تشخیص میں مدد دے سکتا ہے، زبانوں کا ترجمہ کر سکتا ہے اور انسان سے ہم کلام بھی ہو سکتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا اے آئی انسان سے آگے بڑھ سکتا ہے؟اس کا جواب ہے‘ نہیں۔ کیونکہ انسان کو اللہ خالقِ کائنات نے پیدا کیا ہے اور اس کو دو ایسی نعمتیں عطا کی ہیں جو کسی اور مخلوق کو نہیں ملی ہیں۔
اے آئی روح اور قلب‘ دونوں سے محروم ہے۔ اے آئی انسان کی تخلیق ہے، انسان کا معاون اور خدمت گار ہے، مگر کبھی انسان کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔
قرآن میں انسان کا خاص مقام‘ قرآنِ حکیم بار بار انسان کی برتری بیان کرتا ہے: (الاسرا: 70 ) اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔انسان کو صرف ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی روح اور قلب کی وجہ سے شرف ملا۔
پھر جب میں نے اسے درست کر دیا اور اس میں اپنی روح پھونک دی یہی روح انسان کو اے آئی سے ممتاز کرتی ہے۔(الحجر: 29 )
اور اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے۔(البقرہ: 31 )
یہ علم کا وہ درجہ ہے جو صرف انسان کو عطا کیا گیا۔ اے آئی صرف انسان کے دیے ہوئے ڈیٹا کو دہرا سکتا ہے، مگر اسما ء کا الٰہی علم نہیں پاسکتا۔
قلب کی حقیقت‘قرآن بار بار دل (قلب) کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔
آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں۔(الحج: 46 )
دل ہی وہ مرکز ہے جہاں ایمان، محبت اور ہدایت اترتی ہے۔ اے آئی کے پاس دماغی حساب کی قابلیت ہے مگر دل کی روشنی نہیں، محبت کی تپش نہیں، آنسو کی تاثیر نہیں۔
نبی اکرم ﷺ کی رہنمائی ‘رسول اللہﷺ نے فرمایا:حکمت مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے، جہاں ملے وہ اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔(ترمذی)
لہٰذا اے آئی بھی ایک حکمت ہے، مگر یہ خدمت کے لیے ہے، مقابلے کے لیے نہیں۔
اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:خبردار! جسم میں ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، وہ دل ہے۔(بخاری، مسلم)یہی دل انسان کو اے آئی سے بلند کرتا ہے۔
رومی کی بصیرت‘ مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں:عقل عشق کے بیان میں عاجز ہے۔اے آئی محض عقل ہے، عشق سے محروم۔ یہ حساب لگا سکتا ہے، مگر دعا نہیں کر سکتا، محبت نہیں کر سکتا، اللہ کے سامنے سجدہ نہیں کر سکتا۔
رومی نے کہا:تو دریا در قطرہ ای ‘اے انسان! تو قطرہ نہیں بلکہ پورا سمندر ہے جو قطرے میں سما گیا ہے۔یہی انسان کی وسعت ہے۔ اے آئی تو صرف عکس ہے، مگر انسان سمندرِ وجود ہے۔
اے آئی بطور دوست و معاون‘ ہمیں اے آئی کو دشمن نہیں سمجھنا چاہیے اور نہ ہی اسے خدا جیسی طاقت دینا چاہیے۔ یہ ہماری تخلیق ہے، ایک دوست اور معاون۔
آگ سے کھانا پک سکتا ہے یا گھر جل سکتا ہے۔چھری سے روٹی کٹتی ہے یا انسان زخمی ہوتا ہے۔اسی طرح اے آئی خیر یا شر بن سکتا ہے یہ انسان کی نیت اور استعمال پر منحصر ہے۔اگر ہم اسے علم، رحمت اور انصاف کے لیے استعمال کریں تو یہ ایک نعمت ہے۔ اگر اسے جنگ، لالچ اور ظلم کے لیے استعمال کریں تو یہ آفت ہے۔
علماء و حکماء کی بصیرن‘ امام غزالی فرماتے ہیں:حقیقی علم وہ ہے جو اللہ کی طرف رہنمائی کرے۔اے آئی معلومات دیتا ہے مگر حکمت نہیں۔ شیخ اکبر ابن عربی نے فرمایا:دل ہی وہ آئینہ ہے جس میں الٰہی حقائق منعکس ہوتے ہیں۔یہ آئینہ کوئی مشین نہیں بنا سکتی۔
موجودہ دور کے اسباق: نیت درست رکھیں‘ہر ایجاد نیت کے تابع ہے۔انسان کی مرکزیت: صرف انسان ہی محبت اور مغفرت کرسکتا ہے۔ قرآن و سنت کی رہنمائی: ٹیکنالوجی کا استعمال وحی کے مطابق ہونا چاہیے۔
اے آئی کو نعمت سمجھیں: اے آئی انسان کی تخلیق ہے، مگر انسان اللہ کی تخلیق ہے۔ اختتامیہ: انسان کی ابدی برتری‘مصنوعی ذہانت آسمانوں کو چھو لے، کوانٹم کمپیوٹر بنا لے، لیکن وہ ایک مومن کے دل کی روشنی تک نہیں پہنچ سکتی۔
رومی نے کہا:زمستان رفت و بہار آمدسردی جاتی ہے اور بہار آتی ہے۔انسان کی روح بہار کی طرح ہے، اے آئی کبھی اس کو محسوس نہیں کر سکتا۔لہٰذا اے آئی کو ہمارا خادم اور مددگار ہونا چاہیے، دشمن یا مقابل نہیں۔یہ انسان کی ایجاد ہے، مگر انسان خود اللہ کی سب سے عظیم تخلیق ہے۔