پلگرمز افیئرز پاکستان، مکہ مکرمہ کا دستخط شدہ ’’ڈیتھ سرٹیفکیٹ‘‘ میرے سامنے ہے ، یہ سرٹیفکیٹ دبئی کی رہائشی ایک پاکستانی برٹش خاتون کا ہے جو حج کے دوران مکہ مکرمہ میں 3جون کو فوت ہوئیں۔ لواحقین کو یہ تفصیل نہیں بتائی گئی کہ دبئی، برطانیہ یا پاکستان میں اسے استعمال کرنے کے لئےپہلے پاکستان قونصلیٹ جدہ اور پھر فارن آفس سے اٹیسٹ کروانا بھی ضروری ہے۔ اول ایسے کسی ڈاکومنٹ کی تصدیق ہی ایک تھکا دینے والی جدوجہد ہے۔ دوم جب اس کاغذ کو متحدہ عرب امارات، دبئی(یا کسی دیگر ملک وغیرہ)میں استعمال کرنا ہو تو قونصلیٹ سے کائونٹر اٹیسٹیشن کروانا پڑتی ہے، جس کے بعد دبئی سے بھی دوبارہ ارن آفس اٹیسٹیشن ہوتی ہے، اور دبئی قونصلیٹ کسی ایسے ڈاکومنٹ کی اس وقت تک تصدیق نہیں کرتا جب تک اسے واپس سعودی عرب لے جا کر پاکستان قونصلیٹ جدہ اور فارن آفس سے تصدیق نہ کروایا جائے۔
اس پیچیدہ عمل پر طرفہ لطیفہ یہ ہے کہ دبئی قونصلیٹ میں ایسا کوئی انتظام نہیں ہے کہ سعودی عرب جانے کے لیئے ویزہ، ریٹرن ٹکٹ اور ہوٹل وغیرہ پر خرچ سے بچنے کے لیئے دبئی قونصلیٹ ہی میں، پلگرمز افیئرز پاکستان، مکہ مکرمہ(یا مدینہ) کے ایسے ڈاکومنٹ کو تصدیق کر دیا جائے، یعنی آپ عدم معلومات کی وجہ سے ایسا ڈاکومنٹ لے کر دبئی آ گئے ہیں تو آپ کو سعوی عرب کا کم و بیش دو ہفتوں کا دوبارہ چکر لگانا پڑے گا جس پر آپ کا کل ملا کر مبلغ 20 ہزار درہم تک خرچہ اٹھے گا، جو کہ پاکستانی روپے میں تقریبا 16 لاکھ بنتا ہے۔
اس ڈاکومنٹ کی دبئی قونصلیٹ سے تصدیق کے لیئے مجھ سے مرحومہ کے خاوند نے رابطہ کیا تو یہ تلخ اور مشکل معلومات میرے علم میں آئیں۔ میں چار پانچ دفعہ پاکستانی سفارت خانہ اور پاکستان قونصلیٹ گیا ہوں۔ ان دونوں جگہوں پر درجنوں پاکستانیوں کو تپتی دھوپ پر کھڑے دیکھا، اور ان کو سنا بھی، جس وجہ سے مجھے وہاں فائلیں اور کاغذات اٹھائے سائلین کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کا علم ہے۔ خاص طور پر جو پاکستانی نیشنلز پاسپورٹ اور شناختی کارڈ رینیو کروانے آتے ہیں انہیں بہت زیادہ مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ابوظہبی میں ایک تو انفارمیشن ڈیسک اور ’’’آئوٹ سائڈ‘‘ انتظار گاہیں نہیں ہیں، دوسرا وہاں آنے والوں کو یہاں پہنچ کر پتہ چلتا ہے کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ رینیو کروانے کے لئے، پہلے آن لائن اپوائنٹمنٹ بک کروانی پڑتی ہے جو بعض دفعہ ایک ہفتہ سے لے کر ایک ماہ تک ملتی ہے۔ دوبئی قونصلیٹ کے باہر کچھ ایجنٹ بھی یہ کام کرتے ہیں اور اس کے سامنے ایک ٹائپنگ سنٹر بھی اپوائنٹمنٹ لے کر دیتا ہے۔ لیکن ان کی فیس 350 درہم تک ہے اور ارجنٹ کی فیس دگنی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ پھر ان کو منہ مانگے پیسے دو تو اسی دن کی بکنگ بھی ہو جاتی ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ وہ یہ اپوائنٹمنٹ لینے کے لئے قونصلیٹ میں کیا ’’ذریعہ‘‘ استعمال کرتے ہیں یا اس میں کون اہل کار ملوث ہیں۔بعض اوقات اس انتظار میں سائلین کے ویزے ختم ہو جاتے ہیں اور ان کا جرمانہ شروع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے لئے بھی دبئی اور ابوظہبی میں سعودی عرب کے سفارت خانوں سے آن لائن تصدیق کا اہتمام کیا جا سکتا ہے جس سے وقت اور اخراجات میں بھی کمی آئے گی اور حکومت کی انکم میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حج اور عمرے کے دوران ہر سال سینکڑوں حاجی مکہ اور مدینہ میں وفات پاتے ہیں جن کی اموات کے کاغذات کی تیاری اور تصدیق ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس معاملے میں ‘ڈیتھ سرٹیفکیٹ’ جائیداد کی ٹرانسفرز وغیرہ کے حوالے سے بہت اہم ڈاکومنٹ ہے جس کا مقامی انتظام کرنے سے جعل سازی، رشوت اور بہت سی دیگر پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ بعض دفعہ ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں کہ زندوں کو ’’مردہ‘‘ اور مردوں کو ’’زندہ‘‘ ثابت کر دیا جاتا ہے۔ خاص طور سفارش اور رشوت کی بیماری عام ہونے کی وجہ سے اس سے بچنا بذات خود ایک مشکل کام ہے، چہ جائیکہ بہت سے ’’ایجنٹس‘‘ دے دلا کر ناممکن کام کو بھی ممکن بنا دیتے ہیں۔
میں پاکستان کی بیوروکریسی، اس کے ’’فائل سسٹم‘‘ اور’’ایز پر پروسیجرز‘‘ کے بارے میں کافی جانتا ہوں۔ لطف کی بات ہے کہ میں نے اس ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے لئے جو بھاگ دوڑ کی ہے اس سے بہت سارے دیگر حیران کن حقائق بھی میرے سامنے آئے، جن میں متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ میں ’’پاکستان سنٹر‘‘ کی تعمیر اور اس کا ’’ناجائز استعمال‘‘ بھی شامل ہے۔ یہ معاملہ بھی کافی پیچیدہ، بلکہ گھنائونا ہے کیونکہ لگتا ہے کہ اس میں گزشتہ سفارت کار کرپشن میں ملوث تھے۔ اس حوالے سے ایک اہم ذمہ دار سے بھی میری دو دفعہ بات ہوئی ہے۔ وہ کافی ذمہ دار سفارت کار ہیں اور اس معاملے پر انہوں نے ایک تین رکنی کمیٹی بھی بنائی ہے۔تاہم اس موضوع پر کچھ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، جس پر کسی اگلی نشست میں بات ہو گی۔حج کی فرضیت اور اہمیت قرآن و حدیث میں بڑی واشگاف الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ قرآن مقدس میں اللہ پاک نے حکم دیا یے: جو استطاعت رکھے اس پر اس گھر کا حج فرض ہے اور جو کوئی انکار (کفر) کرے تو اللہ عالم والوں سے بے پرواہ ہے (آل عمران97:)
اسی طرح ایک حدیث شریف کے مطابق نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ، اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ توحید و رسالت، نماز کا قیام، زکوٰۃ کی ادائیگی، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنایوں حج کرنا اسلام کے بنیادی فرائض میں شامل ہے مگر اس کے لئے جہاں اسطاعت رکھنا لازم ہے وہاں مکمل طور پر صحتمند اور سفر کے قابل ہونا بھی ضروری ہے۔ بہت سے مسلمان مکہ اور مدینہ میں دفن ہونے کی خواہش کرتے ہیں مگر وہاں مرنے کی تمنا کرنا برحق نہیں ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔