انسانی تاریخ میں سب سے شرمناک حقیقتوں میں سے ایک انسانی اسمگلنگ ہے جو نہ صرف فرد کی آزادی اور وقار کو چھین لیتی ہے بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہے۔ دنیا بھر میں اس مکروہ دھندے نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک بھی اس ناسور سے بری طرح متاثر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کمر کس لی ہے اور وہ اقدامات کیے جا رہے ہیں جنہیں عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔حکومت کی سنجیدگی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس نے انسانی اسمگلنگ کے انسداد کو اپنی قومی سلامتی اور معاشی ترقی کے ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں بدقسمتی سے ہزاروں پاکستانی نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی راستوں کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ کبھی ایران اور ترکی کے صحراؤں میں پیاس اور بھوک سے دم توڑ گئے اور کبھی بحیرہ روم کی لہروں نے انہیں نگل لیا۔ یہ دلخراش مناظر پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں اور یہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے موجودہ حکومت کو مجبور کیا کہ وہ اس ناسور کے خلاف بھرپور جنگ لڑے۔
آج پاکستان کی سرزمین پر انسانی اسمگلنگ کے خلاف جو اقدامات دیکھنے کو مل رہے ہیں وہ محض نمائشی نہیں بلکہ عملی، مربوط اور قانون کی طاقت سے بھرپور ہیں۔ سب سے پہلے قانون سازی کو مضبوط کیا گیا ہے۔پاکستان نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت ترین قوانین نافذ کیے ہیں۔ خصوصی عدالتوں کے قیام اور فوری کارروائی کے نظام نے اس گھناؤنے کاروبار سے وابستہ عناصر کے لیے زمین تنگ کر دی ہے۔ حکومت نے صرف قوانین بنانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان پر عملدرآمد کے لیے جدید ادارہ جاتی ڈھانچے بھی تشکیل دیے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کو جدید وسائل، ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ سکے۔بارڈر مینجمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔جدید سکینرز، بائیومیٹرک سسٹمز اور ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے غیر قانونی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ائیرپورٹس، زمینی سرحدوں اور بندرگاہوں پر سخت چیکنگ نظام نے انسانی اسمگلنگ کے راستوں کو محدود کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت نے نہ صرف اندرونی اقدامات کئے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا ہے۔ عالمی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ، انٹرپول اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف لڑائی کو زیادہ مؤثر بنایا ہے۔ پاکستان نے متعدد ممالک کے ساتھ دو طرفہ معاہدے بھی کیے ہیں تاکہ مجرم جہاں بھی ہوں ان کا سراغ لگایا جا سکے اور متاثرین کو انصاف دلایا جا سکے۔ یہ اقدامات صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ عوامی آگاہی پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ میڈیا مہمات، تعلیمی اداروں میں لیکچرز اور مساجد کے ذریعے خطبات نے عوام میں یہ شعور پیدا کیا ہے کہ غیر قانونی راستے موت کا سفر ہیں۔حکومت نے نوجوانوں کو باور کرایا ہے کہ انسانی سمگلر سنہری خواب دکھا کر انہیں اندھی کھائی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی مواقع پیدا کرنے پر بھی بھرپور توجہ دی گئی ہے کیونکہ جب تک روزگار کے دروازے کھلیں گے نہیں لوگ غیر قانونی راستوں کی طرف راغب ہوتے رہیں گے۔ حکومت نے روزگار کے نئے منصوبے شروع کئے ہیں۔ ہنرمند پاکستان پروگرام جیسے اقدامات نے نوجوانوں کو یہ اعتماد دیا ہے کہ وہ اپنے وطن میں رہ کر بھی عزت کی زندگی گزار سکتے ہیں۔
بیرون ملک قانونی اور محفوظ روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ خلیجی ممالک اور یورپ میں پاکستانی افرادی قوت کے لئے قانونی راہیں آسان بنائی جا رہی ہیں تاکہ نوجوان غیر قانونی راستوں کی بجائے محفوظ اور قانونی طریقے اختیار کریں۔ انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کے لئے خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں انہیں تحفظ، قانونی معاونت اور نفسیاتی بحالی کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ حکومت کی حساسیت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ متاثرہ افراد کو محض اعداد و شمار نہیں سمجھتی بلکہ ان کی زندگیوں کو بچانے اور سنوارنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت کی اس جدوجہد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار بھی نہایت قابل تعریف ہے۔ایف آئی اے کے چھاپے، پولیس کی کارروائیاں اور بارڈر فورس کی نگرانی نے اسمگلروں کے نیٹ ورکس کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہزاروں گرفتاریاں اور سینکڑوں مقدمات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ حکومت محض بیانات پر نہیں بلکہ عملی جنگ لڑ رہی ہے۔ان تمام اقدامات کا مقصد ایک ہی ہے کہ پاکستان کو انسانی اسمگلنگ سے پاک کیا جائے۔ پاکستان کے نوجوانوں کو یہ اعتماد دیا جائے کہ ان کا مستقبل غیر قانونی راستوں میں نہیں بلکہ اپنے وطن کی مٹی میں پوشیدہ ہے۔ حکومت کا یہ عزم کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے گی ایک نئی امید کی کرن ہے۔دنیا جان لے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو نہ صرف اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتی ہے بلکہ عالمی سطح پر انسانی وقار کے دفاع میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔یہ درست ہے کہ یہ جنگ آسان نہیں کیونکہ انسانی اسمگلنگ کے پیچھے بین الاقوامی مافیا کام کرتا ہے۔ان کے مالی وسائل اور نیٹ ورکس بہت طاقتور ہیںلیکن پاکستانی حکومت نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ کوئی مافیا، کوئی گروہ اور کوئی نیٹ ورک عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں پاسکتا۔ انسانی اسمگلنگ کے خلاف یہ معرکہ دراصل ایک بڑی جنگ ہے جس میں قانون، ادارے، عوام اور عالمی برادری سب شریک ہیں۔اگر یہ جدوجہد اسی سنجیدگی اور جذبے سے جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان اس ناسور سے مکمل نجات حاصل کر لے گا۔ آنے والی نسلیں فخر کے ساتھ یہ کہیں گی کہ موجودہ حکومت نے ایک ایسے عزم کا مظاہرہ کیا جس نے قوم کے مستقبل کو بچا لیا۔ یہ کالم دراصل اس پرجوش حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف پاکستان ایک مضبوط قلعے کی طرح کھڑا ہے۔ اس قلعے کی بنیاد قانون کی بالادستی، عوامی شعور، معاشی ترقی اور عالمی تعاون پر ہے اور یہی بنیاد آنے والے کل کو ایک محفوظ، پرامن اور باوقار پاکستان میں ڈھال دے گی۔اگر ہم اجتماعی طور پر اس جنگ میں شامل رہے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا کو یہ دکھائے گا کہ ہم نے نہ صر ف اپنی سرزمین کو اس جرم سے پاک کیا بلکہ مظلوم انسانیت کے تحفظ کا علم بھی بلند رکھا۔یہ عزم، یہ جذبہ اور یہ تسلسل ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ پاکستان ایک دن ضرور اس ناسور کو جڑسے اکھاڑ پھینکے گا اور تاریخ لکھے گی کہ یہ قوم اپنے آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے ڈٹی رہی۔