دنیا کی رنگینی، نمود و نمائش اور تعلقات کے بے پایاں ہجوم میں اصل سوال ہمیشہ یہی رہا ہے کہ انسان کی اصل قیمت کس چیز سے ہے؟ کیا وہ دولت ہے جس پر لوگ فخر کرتے ہیں؟ کیا وہ عہدہ ہے جس کے لئے لوگ ایک دوسرے کو روندتے ہیں؟ یا وہ شہرت ہے جسے حاصل کرنے کے بعد بھی انسان کا دل خالی رہتا ہے؟
نہیں‘ یہ سب وقتی ہیں، ناپائیدار ہیں، اور لمحوں میں فنا ہو جانے والے ہیں۔ اصل دولت وہ ہے جو دل کی گہرائیوں سے پھوٹتی ہے‘ اخلاص۔ اور اصل عزت وہ ہے جو تعلقات میں جھلکتی ہے: وفاداری‘ یہی وہ خزانے ہیں جو انسان کو اللہ کے قریب کرتے ہیں اور مخلوق کے دلوں میں محبوب بنا دیتے ہیں۔
قرآن کا پیغام: اخلاص کی ڈھال‘ قرآن کریم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی سرکشی کا اعلان کرتے ہوئے کہا‘ میں سب کو گمراہ کروں گا سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔ (الحجر: 40 )
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کے لئے سب سے بڑی ڈھال، سب سے مضبوط قلعہ، اور سب سے کارآمد ہتھیار صرف اور صرف اخلاص ہے۔ یہ ایسا نور ہے جو انسان کو شیطان کے ہر وار سے بچاتا ہے اور دل کو یقین اور سکون عطا کرتا ہے۔
اخلاص: عمل کی روح‘ امام غزالی نے اخلاص کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:اخلاص یہ ہے کہ انسان اپنے عمل میں صرف اللہ کو دیکھے۔جب نیت خالص ہو تو چھوٹا سا عمل بھی پہاڑ بن جاتا ہے۔ ایک قطرہ آنسو اگر اخلاص سے بہے تو اللہ کے نزدیک سمندروں سے زیادہ قیمتی ہے۔ اسی طرح ایک نیک عمل، اگر اس کے پیچھے دکھاوا یا ریاکاری ہو تو اس کی قیمت مٹی کے ذرے کے برابر بھی نہیں۔اخلاص عبادت کو نور دیتا ہے، اور تعلقات کو مضبوطی عطا کرتا ہے۔
وفاداری: تعلق کی بنیاد اور کامیابی کی اساس‘ رسول اکرم ﷺ نے منافق کی تین نشانیاں بیان فرمائیں:جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(بخاری و مسلم)
یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وفاداری ایمان کی پہچان ہے۔ وفا کے بغیر نہ ایمان مکمل ہے نہ رشتہ۔مولانا روم نے کہا:سچا دوست وہ ہے جو وقت اور حالات کی قید سے آزاد ہو۔ایسا دوست جو دکھ اور سکھ میں ساتھ کھڑا ہو، جو مفاد اور دنیاوی غرض سے بلند ہو، وہ زندگی کا سب سے بڑا انعام ہے۔
سچی خوبصورتی: کردار کی چمک‘خوبصورتی چہرے کے نقش و نگار میں نہیں بلکہ انسان کے اخلاق اور رویے میں ہے۔ ایک چہرہ چند برسوں میں بدل جاتا ہے مگر سچے اخلاق ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
آپ کے آداب‘آپ کے دل کی پاکیزگی‘ آپ کا دوسروں کے ساتھ شفقت و احترام سے پیش آنایہی وہ خوبیاں ہیں جو انسان کو دنیا اور آخرت میں باوقار اور کامیاب بناتی ہی۔ رشتوں کی حقیقت آج کے دور میں تعلقات کی بنیاد اکثر مفاد پرستی پر ہوتی ہے۔ ایسے رشتے بے جان جسم کی مانند ہیں۔ یہ تعلقات آوارہ کتے کی طرح ہیں جو نہ گھر کے ہوتے ہیں نہ کسی کے ساتھی۔لیکن اخلاص اور وفاداری پر قائم رشتے چراغ کی مانند ہیں جو اندھیروں میں روشنی دیتے ہیں۔ ایسے تعلقات زندگی کو سکون اور دل کو قرار دیتے ہیں۔
صوفیانہ حکمت اور اقوال‘ اہلِ تصوف نے ہمیشہ اخلاص اور وفاداری کو انسانیت کی اصل پہچان قرار دیا۔ حضرت علیؓ: دوستی صرف وفادار کے ساتھ کرو، کیونکہ وہی تمہارے اخلاص کو پہچانتا ہے۔
مولانا روم: جو تمہیں خدا کے قریب لے جائے وہی تمہارا سچا دوست ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی: اخلاص کے بغیر کوئی راستہ طے نہیں ہوتا، اور وفاداری کے بغیر کوئی دوستی مکمل نہیں ہوتی۔یہ اقوال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دل کی پاکیزگی اور رشتوں کی وفاداری ہی انسان کو بلند کرتی ہے۔جدید دنیا میں اخلاص اور وفاداری کی ضرورت آج کا انسان تیز رفتار دنیا میں مشین کی طرح بھاگ رہا ہے۔ دولت کمانا مقصد بن گیا ہے اور تعلقات مفاد کے ترازو پر تولے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوستی اور تعلقات کی کثرت ہے، مگر دل خالی اور تنہا ہیں۔یہ خلا صرف اخلاص اور وفاداری سے پر ہو سکتا ہے۔ کیونکہ جب ہم اخلاص سے کسی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ دل میں جگہ پاتا ہے۔ اور جب ہم وفاداری نبھاتے ہیں تو وہ رشتہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی طاقت بن جاتا ہے۔
مثالیں اور واقعات تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عظیم لوگ دولت اور اقتدار سے نہیں بلکہ اخلاص اور وفاداری سے عظیم ہوئے۔حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفاداری رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک لازوال مثال ہے۔ انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا مگر وفاداری کو کبھی ترک نہ کیا۔
حضرت خدیجہؓ کا اخلاص اور وفاداری، رسول اکرم ﷺ کے مشن کی سب سے بڑی قوت بنی۔یہ واقعات بتاتے ہیں کہ کامیابی کی حقیقی بنیاد دولت یا شہرت نہیں بلکہ اخلاص اور وفاداری ہے۔
اخلاص اور وفاداری: ایمان اور عمل کا زیور جو شخص اپنے رب کے ساتھ مخلص ہے اور اپنے اعمال و رشتوں میں وفادار ہے، وہی اصل کامیاب ہے۔ اخلاص دل کو سکون دیتا ہے اور وفاداری تعلقات کو مضبوطی بخشتی ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ:ہم اپنے ہر عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لئے کریں۔ہم اپنے تعلقات میں وفاداری کو مضبوطی سے تھامیں۔ہم اپنے وعدوں کو پورا کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو ایمان سمجھ کر ادا کریں۔
اخلاص اور وفاداری وہ روشنی ہیں جو ایمان کو جِلا بخشتی ہیں، عبادات کو زندگی عطا کرتی ہیں اور تعلقات کو دوام بخشتی ہیں۔یہی وہ دو خزانے ہیں جو انسان کو کامیاب، مطمئن اور محبوب بناتے ہیں۔اس لئے لازم ہے کہ ہم اپنے دل کو اخلاص سے بھر لیں اور اپنی زندگی کو وفاداری سے آراستہ کریں۔ یہی کامیاب زندگی اور راحت کی کنجی ہے۔