دنیاکی سیاست دراصل ایک ایساسمندرہے جس کی موجیں کبھی سکوت میں نہیں رہتیں۔یہاں طاقت کاتلاطم،مفادکابھنور اورقوموں کی حرص وہوس ہرلمحہ نئے مناظرتراشتی ہے۔یہ وہی عالمی شطرنج ہے جہاں کل کامہرہ بادشاہ بن جاتاہے اور آج کا بادشاہ محض ایک کمزورپیادہ رہ جاتا ہے۔ تاریخ کے اوراق پرنگاہ ڈالئے توہرصدی یہی سبق دہراتی ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی دوستی دائمی نہیں اورکوئی دشمنی ہمیشہ کے لئے لکھی نہیں جاتی۔قرآن حکیم نے ہمیں پہلے ہی یہ حقیقت سمجھادی تھی: یہ دن ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔ (آل عمران:140)
یہی آیت گویاہمارے سامنے تاریخ کی ابدی منطق رکھتی ہے۔طاقت اورکمزوری،عروج اورزوال ، یہ سب دنوں کاکھیل ہے۔کل روم اورایران دنیاکے فرماںرواتھے،آج ان کے کھنڈرتاریخ کے سیاحوں کے لئے عبرت کاسامان ہیں۔کل سپین کی سلطنتِ غرناطہ کاچراغ پورے یورپ کوروشنی دیتاتھا،مگرآج اس کی محرابیں صرف خون کے آنسوبہاتی ہیں۔دنیا کی سیاست دراصل طاقت کے توازن اورمفادات کے ادل بدل کاایک مسلسل کھیل ہے اورجیساکہ ہم جانتے ہیں کہ عالمی سیاست ایک شطرنج ہے۔ دوستیاں وقتی،دشمنیاں عارضی۔ اصل چیزمفاد ہے؛ جہاں کل کادوست آج حریف اورآج کامخالف کل شریکِ سفربن سکتا ہے۔ برصغیرکے موجودہ حالات اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔
انڈیاآج اسی سچائی کے شکنجے میں ہے۔اسی تسلسل میں آج ہم دیکھتے ہیں کہ انڈیاجواپنے آپ کو ابھرتی ہوئی عالمی طاقت قرار دیتاہے عالمی سیاست کے ایسے نازک موڑپرکھڑاہے جہاں ہرراستہ اسے آزمائش کے دریامیں دھکیل رہاہے۔امریکا،جودہلی کا سب سے بڑاتجارتی وعسکری شراکت داررہاہے،اب اپنی رگوں میں سردمہری دوڑارہاہے۔چین،جوکل تک دشمنِ جان تھا،آج مسکرا کرمصافحہ بڑھارہاہے۔اور روس، جو برسوں سے پرانا دوست تھا،اب کبھی نظرانداز اور کبھی پھریادکرکے دہلی کے دروازے پر دستک دیتاہے۔
انڈیاکے لئے یہ سب کوئی معمولی صورتِ حال نہیں۔ایک طرف وہ اپنے ملک کی معیشت کوسہارادینے کے لئے امریکاپرانحصارکرتارہا، مگراب امریکی ٹیرف اورتجارتی رکاوٹوں نے اس کی معیشت کی سانسیں تنگ کردی ہیں۔لاکھوں نوکریاں داؤپرلگ چکی ہیں اور سرمایہ دارانہ معجزے کاخواب ٹوٹنے لگاہے۔دوسری طرف چین کے ساتھ اس کی سرحدی تلخیاں ابھی تک تازہ ہیں،لیکن دہلی اسی چین سے دوستانہ باتیں کرنے پرمجبور ہے اورپھر روس جسے مودی حکومت نے ایک وقت نظراندازکیااب دوبارہ روس کے تلوے چاٹ کر سیاسی مکالمے میں داخل ہو رہا ہے۔
یہ سب محض سفارتی تبدیلیاں نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی کہانی کے باب ہیں۔کہانی یہ ہے کہ انڈیانے امریکاکی دوستی پراتنااعتماد کیاکہ اپنے پرانے تعلقات ایران اورروس کے ساتھ بھی قربان کرڈالے۔ایران سے سستاتیل لینابندکردیا، روسی تعلقات کوثانوی بنادیا، اوربیجنگ کے ساتھ محاذآرائی کوہوادی۔مگرآج جب واشنگٹن نے دہلی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکہا کہ ’’ہماری ترجیح ہمارے تجارتی مفاد ہیں،تمہاری سلامتی نہیں‘‘ تودہلی کی سیاسی کایاپلٹ گئی۔
امریکا،جس پردہلی نے اپنی معیشت کاسہارا رکھا، اب پیٹھ پھیررہاہے۔تجارتی معاہدے معطل، ٹیرف کی تلوارلٹک رہی ہے،اور لاکھوں نوکریاں خطرے میں ہیں۔ واشنگٹن نے دہلی کویہ سبق دے دیاہے کہ دوستی نہیں، صرف سودے بازی ہے۔چین،جس کے ہاتھوں گلوان کی وادی میں انڈین خون بہا،اب مسکرارہاہے۔ وزیر خارجہ وانگ یی دہلی آتے ہیں ، معدنیات، پروازوں اورتجارت پر بات کرتے ہیں۔دہلی سن بھی رہاہے اورسوچ بھی رہاہے۔دشمن پراعتماد؟یہی وہ سوال ہے جو مودی حکومت کوپریشان کررہاہے۔
روس پرانی رفاقت،مگردھول جمی ہوئی۔کبھی نظرانداز،کبھی دوبارہ یاد۔اجیت ڈوبھال اورجے شنکر ماسکوکے چکرلگارہے ہیں۔ گویادہلی اپنی پرانی غلطی پرپردہ ڈالناچاہتاہے مگرنادم دکھائی نہیں دیتاکہ سیاست کی مکاری نے اسے یہ سکھایاہی نہیں۔
ایران؟کل تک قریب ترین سپلائرتھا۔ سستاتیل دیتاتھامگرامریکاکے ایک اشارے پرانڈیانے اس سے منہ موڑلیا انڈیانے2019ء میں امریکی دباؤ پرایران سے تیل لینابندکیا ۔ یہ فیصلہ دہلی کی معیشت کے لئے ایک خودکشی کے مترادف تھا۔ایران قریب تھا،تیل سستاتھالیکن دہلی نے واشنگٹن کے اشارے پرقربانی دی۔اب اگریہی دباروسی تیل پربھی آگیاتو دہلی کی معیشت گویااپنے پاؤں پرکلہاڑی مارلے گی اوردہلی کی معیشت نہ صرف تاش کے پتوں کی طرح بکھرسکتی ہے بلکہ دہلی کی معیشت گھٹنوں پرآجائے گی۔یہی وہ موقع ہے جب انڈیاکواحساس ہورہاہے کہ عالمی بساط پرایک ہی طاقتور کھلاڑی پرانحصارکرناخودکشی کے مترادف ہے۔ سیاست میں جسے ہم اتحادیوں کی تنوع کہتے ہیں،وہی حکمت عملی دہلی کے لئے ناگزیرہو چکی ہے۔
مگرکیایہ سب دہلی کے ہاتھ میں ہے؟مگرسوال یہ ہے کہ کیاچین اورروس دہلی کے لئے وہ خلا بھرسکیں گے جوامریکاچھوڑرہاہے؟ اورکیاواشنگٹن کبھی دوبارہ وہی گرمجوشی لوٹاسکے گا؟کیاوہ اپنے پرانے دشمن چین پر اعتماد کرسکتاہے؟کیا چین مودی کے موجودہ کردارپر اعتبار کر سکتا ہے؟کیاروس کے ساتھ دوبارہ وہی گرمی پیداہوسکتی ہے؟اورکیا واشنگٹن کبھی پھرویسا دوست بن سکے گاجیسا ٹرمپ کے دورمیں تھا؟
ٹرمپ کے دورِحکومت میں انڈیاجس قدر گر مجوشی سے امریکاکے قریب آیاتھااوردہلی اور واشنگٹن کے درمیان دوستی کے بڑے چرچے تھے اور مودی عوامی اجتماع میں خوشامدانہ انداز میں ٹرمپ کی دلجوئی کے لئے ’’مائی بیسٹ فرینڈ ٹرمپ‘‘کہہ کرمخاطب کرکے اقوام عالم کواپنی کامیاب دوستی اورسیاست کاسرٹیفکیٹ وصول کرنے کی کوشش کرتا رہا،آج اس میں ایک سردمہری اوردل شکستہ آہٹ آچکی ہے۔امریکی قیادت نے انڈیاکویہ احساس دلایاہے کہ ہماری دوستی کسی غیرمشروط عشق کانام نہیں بلکہ ایک تجارتی سودے بازی ہے۔امریکا نے تجارتی گفت وشنیدکوغیرمعینہ مدت کے لئے مؤخرکر کے دراصل انڈیاکوبتایاہے کہ’’دنیاکی طاقتوں کی بساط پرکوئی بھی شراکت داری ابدی نہیں ہوتی‘‘۔ اس موقع پرانڈیاکی نظریں ایک بارپھراپنے پرانے حریف چین کی طرف اٹھ رہی ہیں۔
امریکاکے حالیہ سخت فیصلے انڈیاکے لئے غیرمتوقع تھے۔دہلی کے حکمراں اس سچائی کاسامناکرنے کے لئے تیارنہ تھے کہ واشنگٹن محض دوستانہ لہجے میں بات نہیں کرتابلکہ اپنے تجارتی مفادکو سب پرمقدم رکھتا ہے۔ امریکانے انڈیاکے ساتھ جاری تجارتی گفت و شنید کوغیرمعینہ مدت کے لئے معطل کرکے جوجھٹکا دیا ہے،دہلی اس حقیقت کے لئے تیارنہ تھاکہ واشنگٹن کبھی بھی دوست کے چہرے کے پیچھے سوداگرکی آنکھیں دکھاسکتاہے۔یہ وہی انڈیاتھاجوکل تک سمجھتاتھاکہ وائٹ ہائوس کی دہلیزاس کے لئے ہمیشہ کھلی رہے گی لیکن یہ مکافاتِ عمل ہے،مودی نے جوبویا،وہی کاٹناپڑے گا۔
تجارت کی بساط پرامریکاانڈیاکاسب سے بڑاپارٹنرہے۔133ارب ڈالرکی سالانہ تجارت میں دہلی اپنی معیشت کی سانسیں گنتاہے۔ ہیرے، موتی، دوائیں، کپڑااورالیکٹرانک سامان یہ سب امریکی منڈی پر انحصار کرتے ہیں۔لیکن اب وہی منڈی اپنے دروازے نیم وا کرکے مودی کی عقل کوٹھکانے پرلگا کر دہلی کوسوچنے پرمجبورکررہی ہے کہ کیاسب کچھ ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیناعقلمندی تھی؟اب جب ٹیرف اورتجارتی رکاوٹوں نے اس بہتے دریاپربندباندھ دیاہے تولاکھوں روزگار داؤ پر لگ گئے ہیں۔
(جاری ہے)