قرآن مجید کی چار آیات پر مشتمل سورۃ اخلاص گویا پورے قرآن کا نچوڑ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ سورۃ قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، صمدیت اور اس کی بے مثالی کو واضح کیا گیا ہے۔شیخ الاکبر محی الدین ابن عربی کے نزدیک یہ سورت محض ایک عقیدہ یا نظریہ نہیں بلکہ دل کے باطنی سفر کی رہنمائی ہے۔ یہ انسان کو بتوں سے نجات دلاتی ہے نہ صرف ظاہری بت بلکہ دل اور دماغ میں چھپے ہوئے بت‘ خواہشات، خودپسندی، شہوت اور دنیاوی سہارے۔ مولانا رومی بھی اسی حقیقت کو عشق کی زبان میں بیان کرتے ہیں کہ توحید وہ مقام ہے جہاں صرف’’ ہو‘‘ باقی رہتا ہے۔
’’قل ھو اللہ ا حد‘‘ یکتائی کا رازابن عربی فرماتے ہیں کہ احد کا مطلب عددی ایک نہیں، بلکہ ایسی یگانگی ہے جو ہر تصور اور ہر تشبیہ سے ماورا ہے۔ اللہ کی وحدانیت ایسی حقیقت ہے جسے عقل مکمل طور پر نہیں پا سکتی، بلکہ دل کی صفائی اور روحانی کشف سے حاصل ہوتی ہے۔مولانا رومیؒ نے کہا‘
جز خدا را گر تو معشوقی کنی
بت پرستی باشد ار توقی کنی
اگر تو خدا کے سوا کسی اور کو معشوق بنائے تو یہ بت پرستی ہے، خواہ تو کتنا ہی پرہیزگار کیوں نہ ہو۔یہ شعر اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حقیقی عشق صرف اللہ کا ہے، باقی سب محبتیں اگر اس سے اوپر ہو جائیں تو وہ دل کے بت ہی بن جاتے ہیں ۔
’’اللہ الصمد‘‘ اصل سہارا‘صمد کے معنی ہیں وہ ذات جو کامل ہے، بے نیاز ہے اور جس پر سب محتاج ہیں۔ ابن عربی کے مطابق انسان اکثر دنیاوی سہاروں پر جھک جاتا ہے مال، طاقت، رشتے، یا شہرت۔ لیکن جب یہ سب چھن جاتے ہیں تو انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اصل سہارا صرف اللہ ہے۔مولانا رومی ؒنے فرمایا:
بر دل بت ھا شکستہ شو چو خلیل
تاکہ بینی نور یزدان جلیل
’’دل کے بت توڑ دے جیسے ابراہیم ؑ نے توڑے، تاکہ تو جلیل خدا کا نور دیکھ سکے۔‘‘
یہ آیت اور یہ شعر انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ دنیاوی سہارے عارضی ہیں۔ اصل پناہ صرف الصمد کے در پر ہے۔
’’لم یلِد ولم یولد‘‘ اوہام کا انکار
ابن عربی کے نزدیک یہ آیت اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ اللہ وقت، مکان اور انسانی اوصاف سے ماورا ہے۔ نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کسی کو جنم دیتا ہے۔ اس آیت کا مقصد انسان کے دل میں موجود وہ تمام اوہام توڑ دینا ہے جو خدا کو کسی شبیہ یا تصور کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔یہ آیت بتوں کے خلاف اعلانِ جنگ ہے، لیکن یہ جنگ ظاہری نہیں بلکہ باطنی ہے۔ یہ ہمارے ذہن اور دل کے اندر چھپے ہوئے بتوں کو توڑتی ہے۔
’’ولم یکن لہ کفوا حد‘‘ بے مثالی اور لاشریک۔
یہ آیت سورۃ الاخلاص کا نقط عروج ہے۔ ابن عربی ؒ فرماتے ہیں کہ یہاں انسان کو سکھایا گیا ہے کہ کوئی چیز، کوئی وجود، کوئی صفت اللہ کے برابر نہیں۔ یہ مقام وہ ہے جہاں دل مکمل طور پر ہر غیر سے خالی ہو جاتا ہے اور صرف ایک نور باقی رہ جاتا ہے۔
مولانا رومی ؒنے کہا:
جزیکی را کی پرستی ای جوان؟
این پرستیدن نباشد جز گمان
’’اے جوان! اس ایک کے سوا تو کس کی عبادت کرتا ہے؟ یہ پرستش نہیں بلکہ محض وہم ہے۔‘‘
یہ شعر ابن عربی کی تعلیم کا خلاصہ ہے کہ اصل توحید صرف اس وقت ملتی ہے جب دل کے اندر کوئی اور نہ رہے۔
ابن عربیؒ اور رومی ؒکا مشترکہ پیغام‘
دونوں بزرگ ہمیں ایک ہی صدا سناتے ہیں:
ابن عربیؒ کی زبان میں‘ توحید محض علم نہیں بلکہ حال ہے۔ جب تک دل کے بت نہ ٹوٹیں، انسان حقیقی توحید تک نہیں پہنچ سکتا۔
رومیؒ کی زبان میں: عشق ہی وہ آگ ہے جو دل کے بتوں کو جلا دیتی ہے اور دل کو خالص نورِ الٰہی کا آئینہ بنا دیتی ہے۔یوں سورۃ الاخلاص صرف ایک سورت نہیں، بلکہ ایک روحانی عمل ہے۔ یہ دل کو بار بار یاد دلاتی ہے کہ اصل حقیقت اللہ ہے، باقی سب عارضی ہے۔نتیجہ: توحید کا عملی سفرابن عربی فرماتے ہیں کہ سورۃ الاخلاص کو بار بار تلاوت کرنا، لیکن شعور کے ساتھ، انسان کو دل کے اندرونی بتوں سے نجات دلاتا ہے۔ یہ آیات گویا ہتھوڑا ہیں جو خواہشات، حرص، غرور اور خودی کے بتوں کو توڑ دیتی ہیں۔مولانا رومیؒ نے بھی یہی فرمایا کہ ’’محبت خالص خدا کے سوا سب محبتیں فانی ہیں‘‘
جب دل خالی ہو جاتا ہے تو صرف ہو باقی رہتا ہے وہی اللہ جو بے مثال ہے، جو صمد ہے اور جو احد ہے۔
یہی پیغام ابن عربی ؒ اور رومی ؒ کا ہے‘ دل کو پاک کرو، جھوٹے سہارے چھوڑ دو، اور اللہ کو ہی اپنا محبوب بنا۔ تبھی نورِ توحید تمہارے دل میں جلوہ گر ہوگا۔