جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کاکہنا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا نہ سوچے ،قطر سے امریکہ نے کس لئے معافی مانگی؟ کیا اس نے فلسطینیوں کے قتل عام پر معافی مانگی،دو ریاستی حل دراصل اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے اس دو ریاستی حل میں فلسطینیوں اور حماس کو شامل کیا جائے وگرنہ کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا، شہبازشریف کے جنرل اسمبلی کے خطاب اور ٹویٹ میں فرق کیوں ہے؟ کمزور موقف سے عرب دنیا شکست کھا جائے گی، شہبازشریف کو سوچنا ہوگا کہ کہیں پاکستان کے بنیادی موقف سے پیچھے تو نہیں ہٹ رہا، مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اسے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ آج امریکہ صدر ٹرمپ پوری دنیا کا مالک بن رہا ہے اور ڈنڈا اٹھا کر بات منواتا ہے یہ نہ تو اخلاقی ہے نہ ہی سیاسی اور جب تک فلسطین کے مسئلہ پر خود فلسطینی فیصلہ نہ کریں تو زبردستی فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا، ان کاکہنا تھاکہ دو ریاستی حل کو فلسطینیوں پر تھوپا نہیں جا سکتا،امریکہ انتہا پسندی اور ڈنڈے والی سیاست نہ کرے،ان کاکہنا تھاکہ امریکہ نے مذاکرات سے حماس کو لاتعلق کیاہوا ہے وہ تو اصل فریق ہے حماس کے بغیر مسئلہ فلسطین حل نہیں ہو سکتا، اسرائیل ہمیشہ امن کی پشت پر خنجر گھونپ دیتاہے‘ان کاکہنا تھاکہ ٹرمپ و نیتن یاہو کابیانیہ اسرائیل کی توسیع کا منصوبہ ہو سکتا ہے لیکن فلسطین کی آبادی کا فارمولہ نہیں ہو سکتا ،ان کاکہناتھاکہ مسئلہ فلسطین کے لئے پاک سعودی دفاعی معاہدہ موثر نہیں ہو سکتا، نوبل انعام امن کا ممکن نہیں ہے جنگ کا نوبل انعام ٹرمپ کے لئے ہوسکتا ہے،ان کاکہنا تھاکہ ذاتی اندازہ ہے حکمرانوں پر بھارت کی جنگ سوار ہے کہ امریکہ بھارت کی طرف نہ چلا جائے ،ان کاکہنا تھاکہ سیاسی جماعتیں ہوں یا حکمران جماعتیں مسئلہ فلسطین کو وہ مقام نہیں دے رہیں جو ملنا چاہیے اور پاکستان میں کوئی بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا نہ سوچے۔
معروف مصری مصنف اور صحافی فہمی ہویدی کی تحریر کی روشنی میں ٹرمپ کے امن فارمولے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، جو لکھتے ہیں کہ، وہ کہتے ہیں کہ اپنے ہتھیار ہمارے حوالے کر دو تا کہ ہم تمہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کر یں اور پھر تمہاری زمینیں چھین لیں،اگر آپ نے بوسنیا میں جو کچھ ہوا اسے نہیں سمجھا تو آپ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے بھی نہیں سمجھ سکیں گے!پہلے بوسنیا کو سمجھو، پھر غزہ اور وہاں ہونے والے واقعات کو سمجھوپھر حیران نہ ہونا!صربوں کی طرف سے بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف شروع کی جانے والی نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں 3لاکھ مسلمان شہید ہوئے۔60 ہزار عورتوں اور بچوں کی عصمت دری کی گئی۔15 لاکھ افراد کو زبردستی اپنے گھروں سے بے دخل کیا گیا۔کیا ہمیں یہ یاد ہے؟یا ہم بھول گئے ہیں؟یا ہمیں اس کا علم ہی نہیں؟سی این این کے ایک نشریاتی نمائندے نے بوسنیائی قتلِ عام کی یاد دہانی کرتے ہوئے مشہور صحافی کرسٹیان امان پور سے سوال کیا‘کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے؟امان پور نے جواب دیا‘ یہ ایک بالکل وحشیانہ جنگ تھی قتل و غارت، محاصرے اور مسلمانوں کو بھوکا مارنے کی جنگ۔ یورپ نے مداخلت سے انکار کیا اور کہا‘ یہ بوسنیا کی داخلی خانہ جنگی ہے اور یہ بہت بڑا جھوٹ تھا! یہ قتل عام تقریبا ً4 سال تک جاری رہا۔
صربوں نے 800سے زائد مساجد تباہ کر دیں، جن میں بعض سولہویں صدی کی تھیں۔ انہوں نے سارائیوو کی تاریخی لائبریری کو جلا دیا۔اقوامِ متحدہ نے گوراژدے، سریبریتسا اور زیپا جیسے مسلم شہروں کے لئے ’’حفاظتی علاقے‘‘ قائم کئے، مگر یہ علاقے حقیقی تحفظ نہ دے سکے انہیں بھی محاصرے اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا! ہزاروں مسلمانوں کو اذیت ناک کیمپوں میں رکھا گیاانہیں اتنا بھوکا رکھا گیا کہ وہ صرف کھال اور ہڈی رہ گئے۔جب ایک صربی کمانڈر سے پوچھا گیا کہ وہ مسلمانوں پر اتنا ظلم کیوں کر رہا ہے تو اس نے جواب دیا ’’کیونکہ یہ سور کا گوشت نہیں کھاتے‘‘
گارڈین اخبار نے ایک نقشہ شائع کیا جس میں مسلمان عورتوں کے 17ریپ کیمپوں کے مقامات دکھائے گئے ان میں بعض سربیا کے اندر ہی واقع تھے۔ صرب فوجی بچوں تک کی عصمت دری کرتے تھے۔ ایک چار سالہ بچی کو ریپ کیا گیاگارڈین نے لکھا:ایک چھوٹی سی بچی جس کا واحد جرم مسلمان ہونا تھا۔زیپا کے قصبے میں‘قاتل ملادیچ نے ایک مسلم رہنما کو بلایا، اسے سگریٹ دی اور ذرا ہنسایاپھر اسی وقت اسے ذبح کر دیا۔سریبریتسا میں سب سے بڑا قتل عام ہوا اقوامِ متحدہ کے فوجی صربوں کے ساتھ کھاتے پیتے اور کھیلتے تھے۔ بعض نے عورتوں سے جنسی تعلقات کے بدلے کھانا پہنچانے کا سودا بھی کیا۔سریبریتسا دو سال تک محاصرے میں رہا۔ صربوں نے خوراک کی سپلائیز ضبط کر لیں۔ پھر مغرب نے مسلمانوں سے غداری کی:انہیں سلامتی کے بدلے اپنے ہتھیار حوالے کرنے پر مجبور کیا!مسلمان تھکے ہارے اور بھوکے تھے، انہوں نے اطاعت کر لی۔لیکن اس کے بعد صربوں نے شہر پر حملہ کر دیا‘ انہوں نے مردوں کو عورتوں سے الگ کر دیا۔12 ہزار مرد اور لڑکے لے گئے سب کو ذبح کیا اور بہیمانہ طور پر اذیتیں دیں!
بربریت کی شکلیں‘ ایک صربی زندہ مسلمان پر پائوں رکھ کر اس کے چہرے پر چھری سے صلیب کندہ کرتا تھا۔ بعض مسلمان درد کی شدت سے جلدی قتل کئے جانے کی التجا کرتے تھے۔ایک ماں نے اپنے بچے کی جان بخشی کے لئے صربی کا ہاتھ پکڑا اس نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، پھر بچے کو اس کی آنکھوں کے سامنے ذبح کر دیا اور ہم مسلمان دیکھتے، سنتے، کھاتے، ہنستے اور معمول کی زندگی گزارتے رہے۔سریبریتسا کے قتل عام کے بعد قاتل راڈوان کاراڈِچ فاتح بن کر شہر میں داخل ہوا اور اعلان کیا:سریبریںتسا ہمیشہ سے صربی رہا ہے اب یہ ہمارے ہاتھ میں واپس آ گیا ہے!
صرب مسلمانوں کی عورتوں کو ریپ کر کے انہیں اس وقت تک قید رکھتے جب تک وہ بچے نہ جن لیں۔مقصد کیا تھا؟ ان فوجیوں میں سے ایک نے کہا۔ہم چاہتے ہیں کہ وہ صربی بچوں کو جنم دیں ہم مسلمان جب ہم بوسنیا، سارائیوو، بانیا لوکا اورسریبریتسا کو یاد کرتے ہیںتو بلند آواز سے کہتے ہیں:
ہم بلقان کو نہیں بھولیں گے‘ہم غرناطہ کو نہیں بھولیں گے‘ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے‘بوتروس غالی کا رویہ اقوامِ متحدہ کے مسیحی آرتھوڈوکس سابق سیکرٹری جنرل نے کھلم کھلا اپنے صربی بھائیوں کا ساتھ دیامگر افسوس 30سال گزرنے کے باوجود ہم نے سبق نہیں سیکھا۔صرب نشانہ بناتے تھے‘علماء کو، ائمہ کرام کو، دانشوروں کو اور تاجروں کو۔انہیں قید کر کے ذبح کیا جاتا اور لاشیں دریائوں میں پھینک دی جاتیں اور آج وہ چاہتے ہیں کہ حماس یہودیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دے تاکہ وہ بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کر دئیے جائیںاور افسوس کہ بعض عرب ریاستیں اس منصوبے میں شریک اور معاون ہیں۔تاریخی قصے بچوں کو سلانے کے لئے نہیں سنائے جاتے بلکہ مردوں کو جگانے کے لئے سنائے جاتے ہیں!