Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

ریٹائرمنٹ کا مغالطہ اور حقیقی معنویت‘ فوری نظر ثانی کی ضرورت

چالیس برس: روحانی و فکری پختگی کا سنگِ میل ‘انسانی زندگی میں چالیس سال کی عمر ایک مقدس اور با برکت حد فاصل قرار پائی ہے۔ قرآن مجید اس عمر کو انسان کی پختگی اور تکمیلِ عقل و فہم کے لیے خاص قرار دیتا ہے’’حتی کہ جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو دعا کرنے لگا: اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس انعام کا شکر بجا لا سکوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے‘‘
(سورۃ الاحقاف، آیت: 15 )
مفسرینِ کرام، جیسے امام قرطبی اور امام ابن کثیر، اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر میں انسان کی عقلی، جسمانی اور روحانی صلاحیتیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب اکثر انبیائے کرام علیہم السلام پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی۔ حضور نبی اکرم ﷺ کو بھی اسی عمر میں منصبِ نبوت سے سرفراز فرمایا گیا۔البتہ حضرت عیسی علیہ السلام اس کلیے کے مستثنیٰ ہیں، جو ایک معجزے کے طور پر بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور گود ہی میں بول اٹھے:’’بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔‘‘(سورۃ مریم، آیت: 30)
ستریں سال: باطنی شعور اور فراست کی رعنائی‘چالیس سال پختگی کی ابتدا ہے، انتہا نہیں۔ احادیث مبارکہ اور اہلِ تصوف کے اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ عمر کے آخری حصے میں انسان پر روحانی انکشافات اور باطنی بصیرت کے دروازے کھلتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس کی عمر ساٹھ سال تک پہنچ گئی، اللہ تعالیٰ نے اس کے (نافرمانی کے) تمام عذروں کو ختم کر دیا۔‘‘ (صحیح بخاری)
ایک اور روایت میں ہے: ’’جو شخص ستر سال کی عمر کو پہنچا، اللہ تعالیٰ نے اسے محبت میں لے لیا۔ جو اسی سال تک پہنچا، اللہ تعالیٰ اس کے نیک اعمال کو لکھتا رہتا ہے اور اس کی خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں۔‘‘ (مسند احمد، طبرانی)
شیخِ اکبر محی الدین ابن عربی اس بارے میں فرماتے ہیں:’’انسان کی حقیقی تکمیل اس کی جوانی میں نہیں، بلکہ اس کے باطنی کشف و معرفت میں ہے۔ جب ظاہری حواس کمزور پڑنے لگتے ہیں تو دل کی آنکھ کھلتی ہے۔‘‘
مولانا روم اپنی شاہکار کتاب ’’مثنوی‘‘ میں اس حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں:’’بڑھاپے پر رنجیدہ نہ ہو۔ جسم پر جھریاں پڑتی ہیں مگر روح ہمیشہ بہار کے موسم میں رہتی ہے۔ جسم کی سردیوں میں روح اپنے اصل سورج کے قریب تر ہو جاتی ہے۔‘‘ امام غزالی کی رائے میں بڑھاپا اللہ کی ایک خاص رحمت ہے، کیونکہ اس عمر میں انسان کا نفس نرم ہو جاتا ہے، اس میں انکسار پیدا ہوتا ہے، اور یہی کیفیت معرفتِ الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے۔
’’بوڑھا‘‘ کا لفظ: ایک نفسیاتی زہرلہٰذا، ستر سال کی عمر میں انسان ’’بوڑھا‘‘ نہیں ہوتا، بلکہ وہ کامل شعور اور پختہ دانش سے ہم کنار ہوتا ہے۔ کسی بزرگ کو ’’بوڑھا‘‘ کہنا محض ایک بے ضرر لفظ نہیں، بلکہ ایک نفسیاتی زہر ہے۔ یہ لفظ اسے ذہنی طور پر کمزور کرتا ہے اور اس میں خود اعتمادی کی کمی پیدا کرتا ہے، حالانکہ اس عمر میں اس کی قدر و منزلت پہلے سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔قرآن و حدیث میں بزرگوں کو علم و حکمت اور رحمت کا خزانہ قرار دیا گیا ہے۔ امام غزالی فرماتے ہیں: ’’بزرگ کی تعظیم درحقیقت اللہ کی تعظیم ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ اولاد کو حکم دیا گیا: ’’اور اپنے رب کے حکم سے عاجزی کے ساتھ ان (والدین) کے آگے جھکے رہو، اور دعا کرو: اے رب! ان پر رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے(شفقت سے)پالا تھا‘‘ (بنی اسرائیل: 24 )
روح کبھی بزرگ نہیں ہوتی‘ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ روح کو عمر اور زمانے کا کوئی تصور نہیں۔ قرآن مجید ارشاد فرماتا ہے:’’اور(اے پیغمبر)! یہ لوگ تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو: روح میرے رب کے امر (حکم) سے ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل: 85 )
احادیث کے مطابق جنت میں ہر شخص ہمیشہ جوان رہے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جنت میں داخل ہونے والے ہر شخص کی عمر تینتیس سال ہوگی، ان کے جسموں پر بال نہیں ہوں گے اور ان کی آنکھیں سرمہ سے مزین ہوں گی۔‘‘ (سنن ترمذی)
قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہی وہ عمر تھی جب حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا یہ عمر علم، طاقت اور حسن کا حسین امتزاج ہے۔شادی اور ملازمت ایک متناقض معیاراگر ہم شریعت اور جدید قوانین پر نظر ڈالیں تو شادی کے لیے کم از کم عمر مقرر ہے(عام طور پر 16سے 18 سال) لیکن زیادہ سے زیادہ عمر کی کوئی حد نہیں۔ لوگ ساٹھ، ستر یا اس سے بھی زیادہ عمر میں نکاح کرتے ہیں اور یہ عمل بالکل جائز ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے: اگر اسی سال کی عمر میں شادی درست ہے تو ستر سال کی عمر میں ملازمت کیوں ناجائز ہے؟ اگر خاندانی زندگی میں بڑھاپے کی دانش و حکمت کو قبول کیا جاتا ہے تو پیشہ ورانہ میدان میں کیوں نہیں؟ اصل معیار صرف اور صرف صحت، صلاحیت اور رضامندی ہونا چاہیے۔
جدید ’’ریٹائرمنٹ‘‘ کا فریب‘آج کی معاشی دنیا میں انسان کو محض ساٹھ یا پینسٹھ سال کی عمر میں مالی و معاشی وجوہات کی بنا پر ریٹائر کر دیا جاتا ہے، حالانکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اس کی دانش، بصیرت اور تجربہ عروج پر ہوتا ہے۔ تاریخ کے عظیم علماء، مفکرین اور سائنسدانوں نے اپنی بیشتر شاہکار تصنیفات اسی عمر کے بعد تحریر کیں۔اسے ایک اور زاویے سے دیکھیے۔مصنوعی ذہانت (AI) جو خود انسان کی تخلیق ہے کبھی ’’بوڑھی‘‘ نہیں ہوتی، بلکہ مسلسل سیکھتی اور بہتر ہوتی رہتی ہے۔ پھر انسان کی حکمت و دانش کو محض ایک عدد (عمر) کی بنا پر کیوں ختم سمجھ لیا جاتا ہے؟
حکومتوں کے لیے ایک تجویزاب وقت آگیا ہے کہ حکومتیں لفظ ’’ریٹائرمنٹ‘‘ کو اپنے قوانین و پالیسیوں سے نکال باہر کریں۔ انسان کی روح کبھی ریٹائر نہیں ہوتی۔ اس کا شعور کبھی ریٹائر نہیں ہوتا۔ ایک مومن تو قبر تک شکر گزاری اور خدمتِ خلق میں مصروف رہتا ہے۔ میری رائے میں’’ریٹائرمنٹ کا تصور صرف قبر کے بعد ہی ممکن ہے، اس سے پہلے نہیں۔‘‘ صرف طبی بنیاد یا کسی اور ذاتی وجہ پر کام سے رخصت کا اختیار استعمال ہونا چاہیے۔ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ ’’جبری ریٹائرمنٹ‘‘ کے بجائے ’’کردار کی تبدیلی‘‘ (Role Transition) کا نظام متعارف کرائیں۔ بزرگوں کو مشاورت، تدریس، رہنمائی اور نگرانی جیسے نئے اور باعزت کردار دیے جائیں۔ کام کے اوقات میں لچک دی جائے، مگر ان کے علم و تجربے کے خزانے کو یکلخت ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ یہ قومی ترقی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
امام شافعی کا قول ہے:’’علم ایک نور ہے، جو بانٹنے سے بڑھتا ہے۔‘‘اس نور کو ساٹھ سال کی عمر پر بجھا دینا درحقیقت پورے معاشرے کے لیے علمی و فکری غربت کو دعوت دینا ہے
خاتمہ: عمر نہیں، شعور اصل ہدف ہے‘قرآن، حدیث، ابن عربی، رومی اور غزالی سب کا پیغام درحقیقت ایک ہی ہے: انسانی زندگی کا سفر زوال کا نہیں، بلکہ کمال اور کشائش کا سفر ہے۔ چالیس سال پر وحی و ہدایت کے دروازے کھلتے ہیں، تو ستر سال پر باطنی شعور کی کرنیں پوری آب و تاب سے چمکتی ہیں۔ جسم تو بوسیدہ ہوتا ہے، مگر روح ہمیشہ شاداب و تابندہ رہتی ہے اور آخرت میں تو ہم سب ہمیشہ تینتیس سال کے ہوں گے۔لہٰذا، ہمیں ’’ریٹائرمنٹ‘‘ کے اس مصنوعی مغالطے کو ختم کرنا ہوگا۔ بزرگوں کی دانش کو عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھنا ہوگا اور ایک ایسا معاشی و معاشرتی نظام تشکیل دینا ہوگا،جو انسان کی روح کے لازوال اور ہمیشہ بہار رہنے والے پہلو کو تسلیم کرے۔

یہ بھی پڑھیں