Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

فنانشل ٹائمز کے مغالطے اور منفی قیاس آرائیاں

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی ایک تحریر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے سرکاری طور پر امریکہ کو بلوچستان کی ساحلی پٹی پر پسنی کے مقام پر ایک بندرگاہ تعمیر کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس خبر کی بنیاد پر میڈیا میں سنسنی پھیل گئی یہ پہلو بہت معنی خیز ہے کہ برطانوی جریدے نے صحافتی اقدار کے برعکس بنا کسی تحقیق کے یہ بھی لکھ دیا کہ یہ تجویز پاکستان کے آرمی چیف کے بعض مشیروں کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برطانوی اخبار کا یہ دعویٰ غلط اور قیاس آرائی پر مبنی ہے۔ پاکستان کے سیکورٹی ذرائع نے اس حوالے سے صحافتی حلقوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ بلوچستان میں کسی بھی بندرگاہ کی تعمیر کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تجویز امریکہ کو پیش نہیں کی گئی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے سپہ سالار نے ان معاملات کے لئے نہ تو کوئی مشیر تعینات کیے ہیں اور نہ ہی کبھی ایسی تجاویز کو براہ راست کسی دوسرے ملک تک پہنچانے کی کوئی روایت پاکستان میں رہی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ دو تین برسوں کے دوران پاکستان میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کے دور میں بعض عناصر یہ واویلا مچاتے رہے کہ ملک ایک شدید معاشی بحران کا شکار ہو کر ناکام ریاست بننے جا رہا ہے۔ ان جھوٹی اور منفی پیش گوئیوں کے برعکس پاکستان تیزی سے معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔معاشی اشارئیے بہتری کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ہمارا پڑوسی ملک بھارت پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کرنے کے پروپیگنڈے میں پیش پیش رہا ہے۔ حالیہ مثبت معاشی پیش رفت بھارت کے لیے بھی سوہان روح ہے۔ فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والی خبر کو مسخ کر کے پیش کرنے میں بھارتی میڈیا پیش پیش رہا ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل اور ساحلی علاقوں میں بندر گاہوں کے قیام کے امکانات مستقبل میں معاشی ترقی کا سفر آسان کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے بہت سے نجی ادارے اور بین الاقوامی کمپنیاں اکثر حکومتی اداروں سے رابطے میں رہتی ہیں ۔ پاکستان میں سرمایہ کاری اور ساحلی وسائل کے بہتر استعمال کے لیے نجی ادارے اور ان کے ترجمان کئی تجاویز پیش کرتے رہتے ہیں۔ یہ ایک معمول کی کارروائی ہے جس کی بنیاد پر قیاس آرائیاں گھڑ کر منفی زاویے سے دعوے کرنا درست نہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے واضح الفاظ میں یہ حقیقت بیان کی ہے کہ ایک نجی کمپنی کے ترجمان کی جانب سے بلوچستان میں بندرگاہ کی تعمیر کی تجویز سامنے آئی تھی۔ نہ تو اس تجویز پر سرکاری سطح پر کوئی غور کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ تجویز پاکستان آرمی کے سربراہ کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کے سرکاری ذرائع یا متعلقہ وزارت نے ایسی کوئی تجویز امریکہ کے سامنے نہیں رکھی ہے۔ برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز میں خبر کو جس زاویے سے پیش کیا گیا وہ بالکل غلط ہے۔ اس خبر کو بنیاد بنا کر بھارتی میڈیا نے روایتی شرنگیزی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جھوٹ گھڑنے میں خاص مہارت رکھنے والے بھارتی میڈیا نے یہ خبر اس انداز میں پیش کی کہ گویا بلوچستان میں ایک نئی بندرگاہ کی تعمیر سے پاکستان اور چین کے تعلقات میں دراڑ پڑے گی ۔
یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان اور چین کی باہمی شراکت سے گوادر بندر گاہ میں ہونے والی معاشی پیش رفت پر بھارت ہمیشہ تلملاہٹ کا شکار رہا ہے ۔سی پیک کو ناکام بنانے کے لیے بھارت نے نسل پرست علیحدگی پسند دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر کے بلوچستان میں آگ و خون کا کھیل جاری کیا ہوا ہے۔ افواج پاکستان کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ بلوچستان میں پسنی سمیت کسی بھی مقام پر نئی بندرگاہ کی تعمیر کے حوالے سے نہ تو سرکاری سطح پر کوئی تجویز پیش کی گئی ہے اور نہ ہی ایسے کسی بھی منصوبے کے متعلق غور و خوض کیا گیا ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے کسی منصوبے کے حوالے سے نہ تو پاکستان نے وائٹ ہاس کو کوئی تجویز پیش کی ہے اور نہ ہی امریکہ کی جانب سے سرکاری سطح پر ایسی کوئی بات کی گئی ہے۔ برطانوی جریدے نے صحافتی اقدار کے برخلاف نجی سطح پر کی گئی گفتگو یا تجاویز کو پاکستان کی سرکاری پالیسی بنا کر پیش کیا ہے جو کہ حقیقت کے برخلاف ہے۔ یہ بھی ایک قابل مذمت پہلو ہے کہ کسی نجی ادارے کی شخصیت کو پاکستان کے سپہ سالار کا مشیر بنا کر ایک غلط خبر کو ریاست کی پالیسی بنا کر پیش کیا گیا۔ مقام حیرت ہے کہ ایسا کرتے ہوئے فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر سے تصدیق کرنے کی زحمت بھی نہیں کی گئی۔ برطانوی جریدے کی تحریر میں اختلاف اور ابہام پایا جاتا ہے۔
ایک جانب اس تجویز کو سرکاری پالیسی ثابت کرنے کا دعوی کیا گیا ہے تو دوسری جانب بندرگاہ کی تعمیر کو ایک نجی ادارے کی تجویز بھی قرار دیا گیا ہے۔ بہت سے مواقع پر پاکستان کے وزیراعظم، وزیر خارجہ اور سرکاری ترجمان یہ طے شدہ پالیسی بیان کر چکے ہیں کہ پاکستان کسی بھی علاقائی اور بین الاقوامی تنازع میں فریق نہیں بنے گا۔ البتہ خطے میں امن، معاشی ترقی اور استحکام کے لیے پاکستان دنیا کی تمام قوتوں سے مثبت تعاون کا خواہش مند ہے۔ معاشی ترقی، معدنیات کی تجارت اور ساحلی وسائل کی تعمیر کے لیے پاکستان ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک سنگین اختلافات کے باوجود باہمی تجارت اور معاشی تعاون کی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ پاکستان بھی اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہے۔ فنانشل ٹائمز کی قیاس آرائی اور مغالطے پر مبنی سٹوری کی واضح الفاظ میں تردید کی جا چکی ہے۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ قوتیں جو پاکستان کو مستحکم اور پرامن نہیں دیکھنا چاہتیں ان کے لیے ایسے من گھڑت مضامین اور غلط دعوے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے کے متر

یہ بھی پڑھیں