Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

کشمیریوں کا پاکستان کے بارے میں موقف

عاقبت نااندیشی کا عالم دیکھئے کہ کچھ لوگ، جو حقیقت حال سے نابلد اور تاریخ سے ناواقف ہیں، کشمیریوں کی جائز تحریک حقِ خودارادیت کو غلط رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ لوگ نہ تاریخ کا علم رکھتے ہیں نہ جغرافیے کا، بس افواہیں اور غلط فہمیاں پھیلا کر نفرتوں کو ہوا دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اہلِ کشمیر اور پاکستان کا رشتہ کوئی وقتی یا جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو تاریخ، عقیدے اور قربانیوں کے بندھن میں پروئی ہوئی ہے۔ کشمیر کے ہر باسی کے دل میں پاکستان کی بے پناہ محبت دھڑکتی ہے۔ یہی وہ رشتہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط اور پائیدار ہوا ہے۔
ذرا تاریخ کے اوراق پلٹیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ 23مارچ 1940ء کو جب قراردادِ لاہور منظور ہوئی، اس وقت ایک کشمیری وفد بھی اجلاس میں شریک تھا جس نے پاکستان کے ساتھ وابستگی اور حمایت کا اظہار کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کے قیام سے بھی قبل کشمیری قیادت نے اپنے مستقبل کو اس نظریاتی ریاست کے ساتھ جوڑ دیا تھا جو ابھی معرضِ وجود میں بھی نہیں آئی تھی۔ اس عزم نے دونوں خطوں کے درمیان تعلق کو نظریے، ایمان اور نصب العین کی بنیاد پر ایک لازوال رشتہ بنا دیا۔
پاکستان کا قیام ’’لا الہ الا اللہ‘‘کے نعرے پر عمل میں آیا اور کشمیری عوام نے بھی اپنی آزادی کی تحریک اسی نظریے پر استوار کی۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے کشمیر کو پاکستان کی ’’شہ رگ‘‘قرار دیا تھا، اور یہ بات آج بھی اتنی ہی سچ ہے جتنی اس وقت تھی۔ پاکستان کے بغیر کشمیر کا مقدمہ ادھورا ہے اور کشمیر کے بغیر پاکستان کی تکمیل ممکن نہیں۔بعض افراد کشمیری شناخت کے بارے میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے لئے عرض ہے کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 257 واضح طور پر کہتا ہے کہ جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے تو ان کے رشتے کی نوعیت ان کی خواہشات کے مطابق طے کی جائے گی۔ یہ شق کشمیری عوام کی قومی شناخت اور ان کے سیاسی حق خودارادیت کا احترام کرتی ہے۔
کشمیری عوام نے گزشتہ سات دہائیوں میں جو قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ کا درخشاں باب ہیں۔ ہزاروں جانیں نچھاور ہوئیں، بے شمار خاندان اجڑ گئے، مگر کشمیریوں کے دل سے یہ یقین کبھی نہیں نکالا جا سکا کہ ان کا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے۔ شہداء کے کفنوں پر سبز ہلالی پرچم لپیٹنا اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ پاکستان ان کی آخری تمنا اور خواب ہے۔
کشمیریوں کا پاکستان کے بارے میں موقف ہمیشہ واضح اور دوٹوک رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ 1940ء سے آج تک وہ اسی یقین پر قائم ہیں کہ ان کی شناخت اور مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ رشتہ نہ طاقت سے ٹوٹ سکتا ہے، نہ جبر سے مٹایا جا سکتا ہے۔تاہم یہ بھی سچ ہے کہ عوام کی محرومیاں اپنی جگہ موجود ہیں جنہیں دور کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ جہاں نظریاتی اساس کا دفاع ایمان کا حصہ ہے، وہاں عوام کو روزگار، صحت اور سہولتوں کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور انٹرنیٹ کی سہولتیں چاہئیں، عوام کو علاج کے لیے صحت کارڈ اور بہتر انفراسٹرکچر درکار ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں کوٹہ سسٹم اپنی جگہ کام کر رہا ہے، لہٰذا آزاد کشمیر میں بھی وسائل کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے۔اوورسیز کشمیریوں نے برسوں سے میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ منگلا ڈیم کی توسیعی منصوبہ بندی 2000ء کی دہائی کے وسط میں شروع ہوئی، اس دوران وعدے کیے گئے کہ مقامی عوام کی سہولت کے لیے ایئرپورٹ تعمیر کیا جائے گا، مگر یہ وعدہ تاحال وفا نہ ہو سکا۔ اب یہ مطالبہ پھر زور پکڑ رہا ہے اور متعدد وفود لندن میں پاکستان کے سفارت خانے سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس ضمن میں یقین دہانیاں کرائی ہیں۔ امید ہے کہ اب کی بار یہ وعدہ ایفا ہو۔
آزاد کشمیر میں بلدیاتی انتخابات بتیس سال بعد ہوئے لیکن منتخب نمائندوں کو ابھی تک اختیارات اور فنڈز فراہم نہیں کئے گئے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد مقامی اداروں کو بااختیار بنانے سے ہچکچاتے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ عوامی نمائندوں کو اختیار ملا تو روایتی سیاست کی اجارہ داری ٹوٹ جائے گی۔ عوام اور تاجروں نے جب محرومیوں کے خلاف ایک موثر تحریک چلائی تو وفاقی حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کیے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو چاہیے کہ وہ اس اتحاد اور نظم کو برقرار رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آزادی کے لیے ایک متفقہ قومی بیانیہ تشکیل دے۔
آخرکار اصل مسئلہ وہی ہے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آزادی۔ اس مقصد کے لیے کشمیریوں کو اپنے اتحاد، حوصلے اور مقصد پر یکسو رہنا ہوگا۔ پاکستان کو بھی اپنی داخلی مضبوطی، معاشی خودانحصاری اور سفارتی حکمت عملی کے ذریعے عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ مزید موثر انداز میں پیش کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں