اے اہلِ علم ودانش،اے تاریخ کے گواہ!آج ہم اس منظرنامے کے دہانے پرکھڑے ہیں جہاں عالمی طاقت کے ترازونئے محورکی طرف جھک رہے ہیں۔ مغرب کی برتری،جو صدیوں سے دنیاکے مقدرکی حکمرانی کرتی رہی،اب مشرق کے افق پرطلوع ہونے والے نئے سورج کے سامنے جھکنے لگی ہے۔یہ طلوع صرف عسکری قوت کامظاہرہ نہیں بلکہ تہذیبی بیداری،سیاسی حکمت اور تاریخی شعورکاپیغام ہے۔ پاکستان، روس، چین اورشمالی کوریاکے رہنمائوں کی ملاقاتیں،فرنٹ سٹیج پریکجا ہونا،اورعالمی تعلقات کے نئے نقشے کی تشکیل،یہ سب محض اعدادوشماراورپروٹوکول کی رسمیات نہیں بلکہ ایک نئے عہد کی پیش گوئی ہیں۔ فرمان الٰہی ہے اوران کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت کی ہر استطاعت تیاررکھو (الانفال :60 )
یہ آیت ہمیں یاددلاتی ہے کہ عالمی تعلقات اورقوموں کی بقاء کے لئے قوت اورحکمت دونوں ضروری ہیں۔ آج ہم ایک ایسے لمحے کے گواہ ہیں،جہاں پاکستان اورمشرقی اتحادکے نئے توازن نے دنیاکے نقشے کوبدلنے کااعلان کیاہے۔
تاریخ کے صفحات پرجب کبھی مشرق ومغرب کے درمیان تعلقات کی تحریرلکھی جاتی ہے،تعلقات کے خطوط کھینچے جاتے ہیں وہ لمحہ بھی ایساہی ایک تحریرکی مانندہوتاہے۔روس کے صدرولادیمیرپوتن اورپاکستان کے وزیرِاعظم شہبازشریف کی حالیہ ملاقات نے واضح کیاکہ عالمی سیاست کامحورصرف طاقت کے محاذپرنہیں بلکہ تعلقات،اتحاداورمشترکہ مفادات کے گردبھی گھوم رہاہے۔پوتن اورشہباز شریف کی حالیہ ملاقات نے یہ واضح کیاکہ عالمی سیاست کی چال اب صرف طاقت کے محاذپرنہیں بلکہ تعلقات کے جال میں بھی حرکت پذیر ہے۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مودی چین سے واپس آئے تھے،اورعالمی سیاسی محاذ پرمتعدد متغیرات حرکت میں تھے۔اس ملاقات کے بعد عالمی منظرنامہ ایک نئی سمت اختیارکرتادکھائی دیا۔اس ملاقات نے نہ صرف دوممالک کے تعلقات کومضبوط کیابلکہ خطے میں طاقت کے نئے توازن کی سمت بھی واضح کی۔اس ملاقات کے بعدعالمی منظر نامہ ایک نئی سمت اختیار کرتا دکھائی دیا،اوریہ واضح ہواکہ پاک ، روس اورچین اتحاد بھارت کے لئے سب سے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔اس ملاقات میں یہ واضح ہواکہ پاکستان اب روس کے ساتھ اپنے روایتی تعلقات کونہ صرف برقراررکھے گابلکہ انہیں نئے مفاہمتی معاہدوں،تجارتی روابط اوردفاعی تعاون کے ذریعے مزیدمستحکم کرے گا۔
یہ منظرنامہ اس امرکی عکاسی کرتاہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کامحورصرف عسکری قوت یااقتصادی طاقت سے نہیں بلکہ اتحاد،تعلقات، اورعالمی اعتمادکے گردبھی گھومتاہے۔ایسے لمحے،جن میں دوممالک کے سربراہ اپنے مقف کوواضح کرتے ہیں، تاریخ کے صفحات پر ایسے نوٹس کے مترادف ہوتے ہیں جومستقبل میں عالمی محاذکانقشہ بدلنے کاپیش خیمہ بن سکتے ہیں۔اورنیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مددکرو،اورگناہ وزیادتی میں مددنہ کرو۔(المائد: 2)۔یہ آیت اس بات کی یاددہانی کراتی ہے کہ حقیقی طاقت اورتعلقات نیکی، انصاف اور استواراصولوں پرمبنی ہوتے ہیں،نہ کہ محض مفادات اورعسکری دباپر۔جہاں ہاتھ بڑھیں،وہاں اثر چھڑ جائے۔
پہلے ماضی کاوقت یادآتاہے،1955 ء کے زمانے میں،جب سوویت یونین اپنی جڑوں پرمستحکم تھا، نکیتاخروشچیف نے سرینگرمیں بھارت کویقین دہانی کرائی تھی کہ’’ وہ ہرمشکل گھڑی میں بھارت کے شانہ بشانہ کھڑارہے گا،یہاں تک کہ اگر پہاڑکی چوٹی سے بھی پکاراجائے‘‘مگروقت کاپہیہ رکنے والانہیں۔سوویت یونین اب وجود میں نہیں اورعالمی توازن بدل چکا ہے۔ خروشچیف کابھارت کے لئے وعدہ ایک تاریخی یادگاربن کررہ گیاہے،لیکن اب نیادور،نئے محاذ،اورنئے مفاہمت کے اصول نافذہیں۔مگراب وہ1955ء نہیں، نہ ہی سوویت یونین کی وہ قوت موجودہے۔تاریخ کے جغرافیے اورعالمی سیاست کی چالاکیاں بدل گئی ہیں۔اس جملے کی ماضی کی صدائیں آج کے روس اوربھارت کے تعلقات میں عکاس نہیں ہوتیں۔ ’’پرانے پل نئے طوفانوں میں برقرارنہیں رہتے‘‘۔
یہ بیان ہمیں یاددلاتاہے کہ طاقت کی پالیسی، مفادات،اوراتحادی تعلقات ہمیشہ متغیرہوتے ہیں۔ وہ زمانہ ماضی کی کہانی ہے،اور موجودہ روس اپنی قومی اورعالمی پالیسی کواپنی ترجیحات کے مطابق متعین کرتا ہے۔ وقت کی موج کبھی پہاڑوں کونہیں دیکھتی، بس ساحل بدل دیتاہے۔
اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا،جب تک کہ وہ خوداپنی حالت کونہ بدلیں۔(الرعد:11)
یہ آیت اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی اورعلاقائی سیاست کے رخ بدلنامحض خارجی قوتوں کی بجائے قوموں کی داخلی حکمت عملی اورفیصلوں کاآئینہ دارہوتاہے۔سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعدبھی کشمیرکے مسئلے پرروس کی پالیسی میں جوواضح تبدیلی آئی،وہ ماضی کی خروشچیف کی باتوں کی تقلیدنہیں کرتی۔ ماضی میں روس انڈیا کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ تھامگرآج وہ بھارت کے چانکیہ سیاسی مفادات کوبھی سمجھنے لگاہے، کیونکہ بھارت کی چانکیہ سیاست اسے کبھی بھی اپنے مفاد کے لئے راہیں بدلنے کی صلاحیت دیتی ہے اورروس بھارت کی اس بے وفائی کادکھ سہہ چکاہے اوراب وہ مودی کاکسی بھی صورت ایساعمل دہراناگوارہ نہیں کرے گا۔
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد،روس کے مؤقف میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ماضی میں روس پاکستان اوربھارت دونوں کے تعلقات میں توازن برقراررکھنے کی کوشش کرتارہا ، لیکن آج کی دنیامیں روس نے بھارت کے مفادات اورچانکیہ سیاست کوبہترطورپر سمجھاہے۔بھارت اپنی چالاکی اورعالمی کھیل میں حکمت عملی کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کرتا رہا،جس سے روس نے بھی اپنے رویے میں تطبیق پیداکی۔آج روس بھارت کوبہترسمجھ رہاہے،مفادات کی راہوں پرکبھی بھی نظریں پھیرنامودی کی خاصیت ہے۔’’دنیاکاکھیل کبھی بھی ایک ہی سطرپرنہیں چلتا،ہرطاقت اپنی پوزیشن بدلتی ہے‘‘۔
یہ چانکیہ سیاست کاحصہ ہے،جہاں ہرحرکت مکاری کے حساب سے کی جاتی ہے۔یہ حقیقت عالمی سیاست کی پیچیدگی کوبھی ظاہرکرتی ہے کہ طاقت کے محورکی تبدیلی صرف عسکری یااقتصادی نہیں بلکہ سیاسی عقل،چالاکی اورمفادات کی ترجیح کے زیراثرہوتی ہے۔’’دھیرے دھیرے پہاڑبھی اپنی چھاؤں بدل لیتے ہیں‘‘۔
پوتن اورشہبازشریف کی حالیہ ملاقات نے خطے میں تعلقات کی ایک نئی تہہ کھولی ہے۔ملاقات میں پوتن نے واضح کیاکہ پاکستان اب بھی روس کا روایتی ساتھی ہے۔پوتن نے پاکستان کواپناروایتی شریک قراردیا اور دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات،تجارتی روابط اور خطے میں تعاون پرتبادلہ خیال کیا۔اس موقع پرشہباز شریف نے اعتراف کیاکہ پاکستان روس کے ساتھ مضبوط تعلقات استوارکرناچاہتاہے،اوریہ بات کہتے ہوئے پوتن اثبات میں سرہلارہے تھے۔
دفترِخارجہ کے بیان کے مطابق،پوتن نے حالیہ سیلاب اورقدرتی آفات کے تناظرمیں پاکستان کے عوام کے لئے دکھ کااظہارکیااور شہبازشریف کی قیادت کوسراہا۔یہ اجلاس عالمی سیاست میں طاقت کے نئے توازن کاپیش خیمہ تھاکیونکہ پاکستان اورروس کے درمیان تعلقات مضبوط ہونے سے بھارت کے لئے ایک نیامحاذکھل گیاہے۔’’جہاں دوکنارے ملیں ،وہاں دریاکی روانی بدل جاتی ہے‘‘۔
پوتن نے شہبازشریف کوروس میں نومبرمیں ہونے والے ایس سی اواجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔اس پرشہبازشریف نے کہاپاکستان اور روس مشترکہ طورپرتعلقات کومضبوط بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں تاکہ ہمارے عوام کے مفادکے ساتھ ساتھ خطے میں امن اورخوشحالی کوبھی فروغ دیاجا سکے۔’’دوستی کی راہ میں پہاڑ بھی سرنگ بن جاتے ہیں اورمشکل وقت میں دوست کاہاتھ سب سے قیمتی ہوتاہے‘‘۔شہبازشریف نے پوتن سے کہاکہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات مضبوط کرناچاہتاہے۔پوتن نے اثبات میں سرہلاکر اس عزم کی توثیق کی۔ ’’اثبات میں سرہلانا،اعتماد کی بنیادہے‘‘۔یہ مکالمہ عالمی سیاست میں توازن اورمفاہمت کا ایک عملی مظہرتھا ،جوخطے میں امن اورتعاون کے نئے امکانات کھولتاہے۔(جاری ہے)