Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

انسان کی اپنے ہاتھوں ہلاکت قرآن و حدیث کی روشنی میں

قرآنِ مجید انسان کو بار بار متنبہ کرتا ہے کہ جب وہ اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہےظلم، اسراف اور فساد کی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی لکھ دیتا ہے۔ یہ تباہی خالق کے علم سے باہر نہیں، بلکہ اسی کی ازلی حکمت کا حصہ ہے۔ انسان کا زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب علم، طاقت، اور اختیار سے محبت، عدل، اور خوفِ خدا جدا ہو جائیں۔قرآنی بنیادیں (عربی آیات اور اردو ترجمہ)
اپنے ہاتھوں سے ہلاکت ‘اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔(البقرہ: 195)
خشکی و تری میں فساد
خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے ان اعمال کے سبب سے جو انسانوں کے ہاتھوں نے کمائے۔(الروم: 41)
خودکشی اور قتلِ نفس اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔(النساء : 29)
اصلاح کے بعد فساد‘ زمین میں فساد مت پھیلائو جب کہ وہ درست کر دی گئی ہے۔(الاعراف: 56)
اسراف اور تبذیر
اسراف نہ کرو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(الانعام: 141)
فضول خرچ شیطانوں کے بھائی ہیں۔ (السراء: 27)
جھوٹے اصلاح پسند‘جب ان سے کہا جاتا ہے زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ کہتے ہیں: ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں(البقرہ: 1112)
تباہیِ فصل و نسل ‘وہ زمین میں فساد پھیلاتا ہےاورکھیتی اور نسل کو برباد کردیتا ہے۔(البقرہ: 205)
مصیبت کا سبب ‘تمہیں جو مصیبت پہنچی، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے اعمال کا نتیجہ ہے، اور اللہ بہت کچھ معاف کر دیتا ہے۔(الشوری : 30)
اخلاقی تبدیلی سے پہلے حالت نہیں بدلتی ‘اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔(الرعد: 11)
عیش پرستوں کی ہلاکت ‘جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے عیش پرستوں کو حکم دیتےہیں، وہ نافرمانی کرتے ہیں، پس ان پر عذاب واجب ہو جاتا ہے۔(السراء : 16)
اجتماعی آزمائش ‘ اس فتنہ سے بچو جو صرف ظالموں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سب کو لپیٹ میں لے گا۔(الانفال: 25)
خدا کو بھولنے والے خود کو بھول جاتے ہیں‘ ان لوگوں کی طرح مت ہو جا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود اپنی حقیقت سے غافل کر دیا۔ (الحشر:19)
زمین کی تعمیر میں احسان و اعتدال ‘ جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان کیا، تو بھی احسان کر، اور زمین میں فساد نہ پھیلا۔(القصص: 77)
عدلِ الٰہی کا قانون‘ اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔(یونس: 44)
احادیثِ نبوی ﷺ ‘قوت کا مفہوم:طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو گرا دے، بلکہ وہ ہے جو غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھے۔(صحیح بخاری و مسلم)
اصولِ شریعت: نہ خودکو نقصان پہنچا، نہ کسی کو نقصان دو۔(سنن ابن ماجہ)
نبی ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ غصے پر قابو اور ضرر سے اجتناب ہی سماجی اور روحانی بقاء کی بنیاد ہے۔
جدید زمانہ اور مصنوعی ذہانت (AI) مصنوعی ذہانت کی طاقت حیران کن ضرور ہے، مگر یہ انسان کے اخلاقی زوال کا آئینہ بھی ہے۔یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے، لیکن اختیار انسان کے پاس ہےکہ وہ ٹیکنالوجی کو خیر کے لئے استعمال کرے یا شر کے لیے۔قرآن کہتا ہے:جو مصیبت تم پر آتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ (الشوری: 30)
اگرانسان اپنی اخلاقی ذمہ داری چھوڑ دےتو مشینیں،دولت، اور طاقت سب اس کے خلاف ہو جاتی ہیں۔ اسلامی اصول برائے جدید ٹیکنالوجی‘ لاضرر۔ ایسا نظام نہ بنائو جو نقصان دہ ہو۔احسان و اعتدال: اسراف اور بے جا استعمال سے بچو۔
امانت: قیادت اہلِ امانت کے سپرد کرو۔
توبہ و اصلاح: رجوع ہمیشہ ممکن ہے‘ اللہ غفور و رحیم ہے۔
اختتامی پیغام مملکتِ محبت کا نقط نظراگر انسان کی ہلاکت ہو گی تو وہ ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ اخلاقی انحطاط سے ہو گی۔قرآن انسان کے دل کو کائنات کا مرکز قرار دیتا ہے۔
’’اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔‘‘ (الرعد: 11)
نجات اسی میں ہے کہ ہم نفس پر قابو، غضب سے اجتناب اور محبت، عدل، احسان کے راستے پر چلیں۔جب انسان عبدِ خدا نہیں رہتا بلکہ فرعون بن جاتا ہے تو اپنی طاقت کے نشے میں ڈوب کر ہلاک ہوجاتا ہے۔آج وقت ہے کہ تمام بنی آدم بیدار ہوں، اپنے خالق و مالک کے مقرر کردہ حدود میں رہیں ورنہ ہم اپنی ہی تخلیق مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی قوت کے ہاتھوں،اللہ کے امر اور حکمت کے مطابق، نئے فرعونوں کی طرح غرق ہو جائیں گے۔شائد اللہ کا آخری امر انسانیت کے خاتمے کاانسان کے اپنے ہاتھوں کی تخلیق یعنی اے آئی سے ہو۔

یہ بھی پڑھیں